واشنگٹن، 24 ستمبر (یو این آئی) امریکہ کی ایک وفاقی عدالت کے جج نے وائٹ ہاؤس کو حکم دیا ہے کہ وہ سی این این، ایم ایس ناؤ اور پولیٹیکو کے رپورٹرز کی پریس اسناد فوری طور پر بحال کرے۔ جج نے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ نے ممکنہ طور پر صحافیوں کو پیشگی اطلاع یا اپنا مؤقف پیش کرنے کا موقع دیے بغیر ان کی رسائی منسوخ کرکے آئینی قانونی عمل کے حقوق کی خلاف ورزی کی ہے۔
امریکی ڈسٹرکٹ جج ٹموتھی کیلی نے یہ فیصلہ جمعرات کی صبح خبر رساں اداروں کی جانب سے دائر مقدمے پر ہنگامی سماعت کے چند گھنٹے بعد سنایا۔ یہ حکم دو ہفتے تک نافذ العمل رہے گا۔
جج ٹموتھی جے کیلی نے جمعرات کی صبح عارضی حکم امتناعی جاری کرتے ہوئے کہا کہ سی این این، ایم ایس ناؤ اور پولیٹیکو کی جانب سے ٹرمپ کے پابندی کے خلاف دائر قانونی چیلنج میں کامیابی کے امکانات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پابندی سمیت متعدد اقدامات صحافیوں کے قانونی عمل سے متعلق حقوق کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔
تینوں اداروں نے مقدمہ اس وقت دائر کیا جب ہفتے کے روز ان کے رپورٹرز کو وائٹ ہاؤس کے احاطے میں داخل ہونے سے روک دیا گیا۔ اس کے بعد انتظامیہ نے قومی سلامتی کے خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے خطوط بھیجے، تاہم یہ نوٹس صحافیوں کے ہارڈ پاس منسوخ کیے جانے کے بعد جاری کیے گئے تھے۔
کیلی نے اپنے فیصلے میں لکھا، ’’مدعا علیہان اس بات سے انکار نہیں کرتے کہ مدعیان کو ان کے ہارڈ پاس منسوخ کیے جانے سے قبل نہ کوئی اطلاع دی گئی اور نہ ہی اپنا مؤقف پیش کرنے کا موقع دیا گیا۔‘‘
ٹرمپ کے مقرر کردہ جج کیلی نے امریکی کورٹ آف اپیلز فار دی ڈسٹرکٹ آف کولمبیا سرکٹ کے 1977 کے ایک فیصلے کا حوالہ دیا، جس میں کہا گیا تھا کہ جب وائٹ ہاؤس من مانی طور پر رپورٹرز کی پریس اسناد مسترد کرتا ہے تو امریکی آئین کی پانچویں ترمیم کے تحت قانونی طریقہ کار سے متعلق تحفظات کا اطلاق ہوتا ہے۔
جج نے کہا کہ یہی قانونی اصول 2018 میں ان کے اس فیصلے کی بنیاد بھی تھا جو ٹرمپ کی پہلی مدت کے دوران سی این این کے اس وقت کے وائٹ ہاؤس نمائندے جم اکوسٹا کے معاملے میں سنایا گیا تھا، جن کا ہارڈ پاس منسوخ کردیا گیا تھا۔
ٹرمپ انتظامیہ نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ سابقہ عدالتی نظیر کو ختم کیا جانا چاہیے۔ کیلی نے لکھا، ’’ممکن ہے، لیکن یہ عدالت ڈی سی سرکٹ کی نظیر کی پابند ہے، اور بس۔‘‘







