خرطوم، 24 ستمبر (یو این آئی) سوڈانی کارکنوں اور صحافیوں نے ان اطلاعات پر امریکہ کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے کہ واشنگٹن نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت سے قبل سوڈانی فوج کے سربراہ عبدالفتاح البرہان کا ویزا روک دیا ہے۔
رائٹرز نے سوڈانی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ امریکہ نے ویزا کا اجرا عرب و افریقی امور کے لیے امریکی سینئر مشیر مسعد بولس کی پیش کردہ 90 روزہ جنگ بندی قبول کرنے سے مشروط کیا ہے۔ اے ایف پی نے بھی دو سفارتی ذرائع کے حوالے سے ویزا روکے جانے کی تصدیق کی ہے۔
اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوٹیرس کے ترجمان اسٹیفان دوجارک نے کہا کہ اقوام متحدہ کو البرہان کا ویزا جاری نہ کیے جانے پر ’’گہری تشویش‘‘ ہے اور اس نے امریکہ سے اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹرز معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کی اپیل کی ہے۔
سوڈانی حکومت نے کہا ہے کہ کسی بھی امن کوشش کی بنیاد سوڈان کی خودمختاری، اتحاد، علاقائی سالمیت اور جائز قومی اداروں کے احترام پر ہونی چاہیے۔
امریکی محکمہ خارجہ نے براہ راست ویزا معاملے پر تبصرہ نہیں کیا، تاہم اس نے کہا کہ نہ سوڈانی فوج، نہ ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) اور نہ ہی ان کے رہنما سوڈان میں ’’جائز، آئینی حکمرانی‘‘ کی نمائندگی کرتے ہیں۔
سوڈان میں اپریل 2023 سے فوج اور آر ایس ایف کے درمیان جاری لڑائی میں دسیوں ہزار افراد ہلاک اور بڑے پیمانے پر لوگ بے گھر ہو چکے ہیں۔







