جموں؍۱۴ستمبر
جموں و کشمیر انسدادِ بدعنوانی بیورو (اے سی بی) نے جموں و کشمیر ویمنز ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے دو فیلڈ سپروائزرز کو قرض کی رقم جاری کرنے کے عوض رشوت طلب کرنے اور قبول کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا۔
اے سی بی کو ایک تحریری شکایت موصول ہوئی تھی، جس میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ کارپوریشن کے فیلڈ سپروائزر اویس احمد خان نے ویمن انٹرپرینیورشپ پلیٹ فارم (ڈبلیو ای پی) اسکیم کے تحت منظور شدہ تین لاکھ روپے کے قرض کی رقم جاری کرنے میں سہولت فراہم کرنے کے عوض شکایت کنندہ سے غیر قانونی رقم طلب کی۔
اے سی بی کے ترجمان کے مطابق شکایت کنندہ رشوت دینے کے لیے تیار نہیں تھی، جس کے بعد اس نے انسدادِ بدعنوانی بیورو سے رجوع کرتے ہوئے تحریری شکایت درج کرائی۔
ترجمان نے بتایا کہ شکایت موصول ہونے کے بعد الزامات کی تصدیق کی گئی اور ابتدائی جانچ میں رشوت طلب کیے جانے کی تصدیق ہوئی۔ اس کے بعد اے سی بی کی ایک ٹیم نے جال بچھایا اور اویس احمد خان کو مبینہ طور پر رشوت لیتے ہوئے رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا۔
اے سی بی کے مطابق خان کے ساتھی فیلڈ سپروائزر میراج الدین شیخ کو بھی موقع پر گرفتار کیا گیا۔ اس کے مبینہ کردار اور معاملے میں اس کی شمولیت کا تعین تحقیقات کے دوران کیا جا رہا ہے۔
دونوں ملزمان کے طبی و قانونی تقاضے مکمل کرنے کے بعد انہیں پولیس اسٹیشن میں رکھا گیا ہے۔
اے سی بی نے بتایا کہ معاملے کی مزید تفتیش جاری ہے۔
۔۔۔۔۔۔(ایجنسیاں )









