سرینگر؍۲ ستمبر
جموں و کشمیر کرائم برانچ کی اکنامک آفینسز ونگ کشمیر نے محکمہ تعلیم میں جعلی ٹیچر کی تقرری کے حکم نامے کے معاملے میں پانچ افراد کے خلاف چارج شیٹ داخل کی ہے۔
حکام نے بدھ کے روز یہ معلومات دی۔ انہوں نے بتایا کہ یہ چارج شیٹ بڈگام کے چیف جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں آر پی سی کی مختلف دفعات کے تحت داخل کی گئی تھی۔
جن افراد کے خلاف چارج شیٹ داخل کی گئی ہے ان میں پلوامہ کی اقبال کالونی (ترال) کے رہنے والے نثار احمد بھٹ، شوپیاں کے کچدورا کے رہنے والے شاکر گل، شوپیاں کے تکی پورہ (رتنی پورہ) کے محمد ایاز راتھر، شوپیاں کے کچدورا کے رہنے والے شیخ روحیل احمد اور اننت ناگ کے خود پورہ مووگام کے رہنے والے تنویر احمد راتھر شامل ہیں۔
یہ معاملہ ڈائریکٹوریٹ آف اسکول ایجوکیشن، کشمیر سے ملنے والی اطلاع کے بعد شروع ہوا، جس میں تین افراد کے بارے میں بتایا گیا تھا جنہوں نے زون ناگام، چرار شریف (بڈگام) میں ٹیچر کے طور پر ملازمت شروع کی تھی۔ انہوں نے یہ ملازمت ڈائریکٹوریٹ آف اسکول ایجوکیشن، کشمیر کی جانب سے مبینہ طور پر جاری کردہ ٹرانسفر کے حکم کی بنیاد پر حاصل کی تھی۔
اس اطلاع کے بعد تحقیقات کے احکامات دیے گئے۔ کرائم برانچ نے بتایا کہ تفتیش کے دوران پتہ چلا کہ جن آرڈرز پر سوال اٹھائے گئے تھے، ان پر جعلی دستخط تھے اور ان پر درج آرڈر اور ڈسپیچ نمبرز بھی جعلی تھے۔
زونل ایجوکیشن افسر (ناگام) اور چیف ایجوکیشن افسر (بڈگام) سے حاصل کردہ ریکارڈز نے اس بات کی تصدیق کی کہ محمد ایاز راتھر، شیخ روحیل احمد اور تنویر احمد راتھر کا تبادلہ ان ہی مشکوک دستاویزات کی بنیاد پر کیا گیا تھا۔
ڈائریکٹوریٹ آف اسکول ایجوکیشن، کشمیر کے ساتھ کی گئی چھان بین سے یہ بھی انکشاف ہوا کہ ان کی آرڈر بک۳۱ دسمبر۲۰۱۹کو بند کر دی گئی تھی، جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ مشکوک دستاویزات میں بتائے گئے آرڈر اور ڈسپیچ نمبرز جعلی تھے۔
کرائم برانچ کے مطابق تفتیش میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ ان تینوں افراد کو محکمہ تعلیم میں کبھی کہیں بھی مقرر نہیں کیا گیا تھا۔ ای او ڈبلیو نے کہا کہ تحقیقات سے پتہ چلا کہ ملزم نثار احمد بھٹ اور شاکر گل نے مبینہ طور پر اس معاملے میں دلالی کی تھی۔ نثار احمد بھٹ پر جعلی سرکاری دستاویزات بنانے اور چھاپنے کے لیے ضروری وسائل اور مشینری کا انتظام کرنے کا بھی الزام ہے۔
انہوں نے بتایا کہ تفتیش کے دوران الزامات درست پائے گئے اور اس کے بعد عدالتی فیصلے کے لیے عدالت میں چارج شیٹ پیش کر دی گئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایجنسیاں










