سرینگر؍۲ ستمبر
جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے بدھ کے روز پولیس اور انتظامیہ پر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور نیشنل کانفرنس (این سی) کے احتجاج سے نمٹنے میں دوہرے معیار اپنانے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی رہنماؤں کو احتجاج کے دوران سہولت فراہم کی گئی، جبکہ ان کی جماعت کے کارکنوں کو گھسیٹا گیا۔
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ بدھ کے روز سول سیکریٹریٹ کی جانب مارچ کے دوران پولیس نے بی جے پی رہنماؤں کو ’’سہولت فراہم‘‘ کی، جبکہ نیشنل کانفرنس کے ساتھیوں کو ’’بے رحمی سے کچلا گیا‘‘۔
وزیر اعلیٰ نے کہا، ’’آپ نے وہ احتجاج دیکھا جسے روک دیا گیا۔ اس سے آج جموں و کشمیر کی صورت حال واضح ہوتی ہے: اگر آپ وزیر اعلیٰ کی رہائش گاہ کی طرف مارچ کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو اجازت ہے؛ اگر آپ سیکریٹریٹ کا گھیراؤ کرنا چاہتے ہیں تو اجازت ہے؛ لیکن اگر آپ بی جے پی کے دفتر کے باہر احتجاج کرنا چاہتے ہیں تو خدا نہ کرے، آپ کو اجازت نہیں دی جائے گی، کیونکہ پولیس صرف بی جے پی کی عزت بچانے کے لیے موجود ہے، اسے کسی اور چیز کی پروا نہیں۔‘‘
عمر عبداللہ کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب پولیس نے ریاستی درجہ بحال کرنے کے مطالبے پر نیشنل کانفرنس کے مظاہرین کو جواہر نگر میں واقع بی جے پی کے ہیڈکوارٹر کی جانب مارچ کرنے سے روک دیا۔ این سی رہنماؤں اور کارکنوں کی بڑی تعداد راج باغ کے گنڈن اسپورٹس کمپلیکس کے قریب جمع ہوئی تھی۔
دوسری جانب بی جے پی نے بھی جموں و کشمیر حکومت کی مبینہ ’’ناکامی‘‘ کے خلاف بڑے احتجاج کا انعقاد کیا، جس میں پارٹی کے سیکڑوں کارکن لال چوک کے کلاک ٹاور کے قریب جمع ہوئے۔
بی جے پی مظاہرین نے جموں و کشمیر حکومت کے مرکز، سول سیکریٹریٹ کا گھیراؤ کرنے کا منصوبہ بنایا تھا، تاہم پولیس نے انہیں ہری سنگھ ہائی اسٹریٹ کے قریب روک دیا۔
عمر عبداللہ نے کہا کہ انہوں نے بی جے پی کے احتجاجی مارچ کے دوران صحافیوں کو پارٹی رہنماؤں سے بات چیت کرتے ہوئے ویڈیوز میں دیکھا۔
انہوں نے صحافیوں سے کہا، ’’میں نے آپ میں سے بہت سے لوگوں کو اس احتجاج میں شامل دیکھا۔ جس آسانی سے آپ اپوزیشن لیڈر (سنیل شرما) کا انٹرویو کر سکے، وہ سب نے دیکھا۔ آپ نے دیکھا کہ بی جے پی کو احتجاج کی اجازت دی گئی، جبکہ این سی کو نہیں دی گئی۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’لہٰذا براہ کرم دونوں کو برابر نہ سمجھیں۔ ایک جانب سہولت فراہم کی گئی، دوسری جانب بے رحمی سے دبایا گیا۔ میرے ساتھیوں کو گھسیٹا گیا اور وہ زخمی ہوئے، جن میں سے بعض کو اسپتالوں میں علاج کروانا پڑا۔‘‘
سنیل شرما کی جانب سے وزیر اعلیٰ کے استعفے کے مطالبے پر عمر عبداللہ نے کہا کہ ان کے مستعفی ہونے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔انہوں نے کہا، ’’میں استعفیٰ کیوں دوں؟ کیا ہمیں یہ سمجھ لینا چاہیے کہ ان کا اس حکومت کو ریاستی درجہ دینے کا کوئی ارادہ نہیں؟ اگر ایسا ہے تو ہم مرکز سے یہ بات براہ راست کیوں نہیں سن رہے؟ اگر وہ واقعی آئین کو تار تار کرنا، سپریم کورٹ اور پارلیمنٹ کی توہین کرنا اور مودی کے وعدے کو جھوٹا ثابت کرنا چاہتے ہیں تو انہیں ایسا کرنے دیں۔ میں صرف اپوزیشن لیڈر کو خوش کرنے کے لیے استعفیٰ نہیں دینے والا۔‘‘
وزیراعلیٰ نے کہا کہ جموں و کشمیر کے عوام نے ان کی جماعت کو پانچ سال کے لیے مینڈیٹ دیا ہے اور وہ عوام کے سامنے اپنی حکومت کی کارکردگی کی رپورٹ پیش کریں گے۔
’کرپشن کی تحقیقات کا اختیار بھی میرے پاس نہیں‘
کرپشن کے الزامات پر عمر عبداللہ نے کہا کہ ان کی حکومت کے پاس تحقیقات کرانے کا اختیار بھی نہیں ہے۔
انہوں نے سوال کیا، ’’اگر بیک ڈور تقرریاں ہوئی ہیں تو کس ادارے نے ان کی تحقیقات کی؟ وہ کسی ایک کا نام بتائیں۔ اینٹی کرپشن بیورو میرے کنٹرول میں نہیں، کرائم برانچ میرے کنٹرول میں نہیں، سی آئی ڈی میرے کنٹرول میں نہیں، مرکزی ایجنسیاں تو دور کی بات ہے۔ بتائیں، کہاں ایف آئی آر درج ہوئی؟‘‘
عمر عبداللہ نے بی جے پی پر بے بنیاد الزامات عائد کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ اس کے پاس کہنے کے لیے کوئی اور بات نہیں ہے۔انہوں نے کہا، ’’ہم ان کی غلطیوں کا خمیازہ بھگت رہے ہیں اور انہیں درست کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن احتجاج وہی کر رہے ہیں۔‘‘
آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت کے اس بیان پر کہ مسلمانوں کو کم تر نہیں سمجھا جا سکتا، عمر عبداللہ نے کہا کہ اس بات کو عملی طور پر بھی نافذ کیا جانا چاہیے۔بھاگوت نے حال ہی میں نیویارک میں بھارتی نژاد امریکی برادری کے ارکان سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر کوئی ہندو یہ سمجھتا ہے کہ بھارت میں مسلمانوں کے لیے کوئی جگہ نہیں ہونی چاہیے تو ’’وہ ہندو نہیں رہے گا۔‘‘
عمر عبداللہ نے کہا، ’’بیان دینا ایک بات ہے اور اسے عملی جامہ پہنانا دوسری بات۔ حقیقت یہ ہے کہ آر ایس ایس سربراہ نے جو کہا وہ اچھا لگا، لیکن اس کا اثر زمین پر بھی نظر آنا چاہیے۔‘‘
سپریم کورٹ کی جانب سے طلبہ مظاہرین کے خلاف تمام ایف آئی آر منسوخ کیے جانے سے متعلق سوال پر عمر عبداللہ نے کہا کہ بی جے پی کافی عرصے سے دفاعی پوزیشن میں ہے۔انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا، ’’جب سے ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کا آغاز ہوا اور جنرل زیڈ نے معاملہ آگے بڑھایا، بی جے پی دفاعی پوزیشن میں ہے۔ دیکھتے ہیں کہ وہ کب تک دفاعی پوزیشن میں رہتی ہے۔‘‘
سپریم کورٹ نے منگل کے روز۲۰ سے۲۵ جولائی کے درمیان ملک بھر میں ’سی جے پی‘ کی قیادت میں ہونے والے احتجاج میں حصہ لینے والے طلبہ کے خلاف درج تمام ایف آئی آر منسوخ کر دی تھیں، جس کے بعد گروپ نے۵ ستمبر کو نئی دہلی میں ہونے والا مارچ منسوخ کرنے کا اعلان کیا۔
چیف جسٹس آف انڈیا سوریا کانت کی سربراہی میں بنچ نے مرکز کو یہ ہدایت بھی دی کہ نیٹ پرچے کے مبینہ لیک معاملے پر اپنی جان لینے والے طلبہ کے اہل خانہ کو تین ماہ کے اندر معاوضہ فراہم کیا جائے۔
۔۔۔۔(ویب ڈیسک)










