جموں؍۲ ستمبر
جموں و کشمیر کے کشتواڑ میں۱۵سالہ قبائلی لڑکی کی عصمت دری اور موت کے معاملے میں کرائم برانچ نے بدھ کے روز مرکزی ملزم کے گھر پر چھاپہ مارا، جبکہ حکام نے اس معاملے میں ملوث اسپتال کی ایک دوسری صفائی کارکن کو بھی ملازمت سے برطرف کر دیا۔
اس کیس کی وسیع پیمانے پر مذمت اور احتجاج کے بعد۲۹؍اگست کو تحقیقات کرائم برانچ کے حوالے کی گئی تھیں۔ ایک نابالغ لڑکی کو مبینہ طور پر کئی ماہ تک اس کے اسکول کے استاد نے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا، جس کے بعد۲۰؍ اگست کو حمل ساقط کرنے کے ایک طبی عمل کے دوران اس کی موت واقع ہوگئی۔
پولیس کی خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) نے اس معاملے میں اب تک سات افراد کو گرفتار کیا ہے، جن میں مرکزی ملزم، اس کا بھائی، اسپتال کے دو صفائی کارکن اور ایک نرس شامل ہیں۔ یہ گرفتاریاں چترو پولیس اسٹیشن میں درج ایف آئی آر کے سلسلے میں کی گئی ہیں، جس میں پوکسو ایکٹ، بھارتیہ نیائے سنہتا اور ایس سی/ایس ٹی (انسداد مظالم) ایکٹ کی متعلقہ دفعات عائد کی گئی ہیں۔
حکام نے بتایا کہ کرائم برانچ کی ایک ٹیم نے مرکزی ملزم کے گھر کے علاوہ اس کے بھائی کے گھر پر بھی چھاپہ مارا۔
انہوں نے کہا کہ یہ چھاپے جاری تحقیقات کے تحت مارے گئے، جن کے دوران ٹیم نے دونوں مقامات کی تلاشی لی تاکہ شواہد اکٹھے کیے جا سکیں اور ایسے مواد کا جائزہ لیا جا سکے جس سے واقعات کی ترتیب اور ملزمان کے مبینہ کردار کا تعین کرنے میں مدد مل سکے۔
ایک متعلقہ پیش رفت میں حکام نے بتایا کہ ضلع اسپتال کشتواڑ میں اسپتال ڈیولپمنٹ فنڈ کے تحت کام کرنے والی ایک صفائی کارکن کی خدمات فوری طور پر ختم کر دی گئی ہیں۔ اسے۳۰؍ اگست کو اس کیس میں گرفتار کیا گیا تھا۔
برطرفی کے حکم میں کہا گیا ہے، ’’اس دفتر کو مذکورہ گرفتاری کے بارے میں باضابطہ طور پر مطلع کیا گیا ہے۔الزامات اور ملوث جرائم کی نوعیت انتہائی سنگین اور حساس ہے، جس کے باعث مذکورہ فرد کی ملازمت جاری رکھنا نظم و ضبط، دیانت داری، ادارے کی ساکھ اور ایک سرکاری صحت کے ادارے کے کام کاج کے لیے قطعی طور پر ناموزوں ہوگیا ہے۔‘‘
۔۔۔۔۔۔
ایجنسیاں










