سرینگر/۲۲؍اگست
جموںکشمیر میں بجلی کے نرخوں میں کم وبیش ۷ فیصد اضافے کے فیصلے پر اپوزیشن جماعتوں نے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے حکمران جماعت ‘ نیشنل کانفرنس کے انتخابی وعدوں کے بالکل منافی قارر دیا ہے ۔
ہندوارہ کے رکن اسمبلی اور پیپلز کانفرنس کے صدر سجاد غنی لون نے کہا ’’یہ اضافہ ان صارفین کے لیے دھچکا ہے جن سے۲۰۰ یونٹ مفت بجلی دینے کا وعدہ کیا گیا تھا۔ لون نے سماجی رابطہ گاہ ایکس پر اپنے پوسٹ میں کہا کہ ریگولیٹر نے۶ء۸۳فیصد اضافے کی منظوری دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ صارفین کو نرخوں کا بڑا جھٹکا نہیں دیا گیا، لیکن جموں و کشمیر کے عام صارفین اس فیصلے کو مختلف انداز میں دیکھیں گے۔
لون نے کہا’’اسمبلی انتخابات کو تقریباً دو سال گزر چکے ہیں، لیکن۲۰۰ یونٹ مفت بجلی کے وعدے کی صورت میں صارفین کو آج تک ایک روپے کا بھی فائدہ نہیں ملا‘‘۔
ہندواڑہ کے ممبر اسمبلی نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ صارفین کو ریلیف دینے کے بجائے غیر میٹرڈ والے علاقوں میں منظور شدہ لوڈ بڑھا دیا گیا، جس کے نتیجے میں لوگوں کے ماہانہ بجلی کے بل زیادہ ہوگئے۔
پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے رہنما اور پلوامہ کے رکن اسمبلی وحید الرحمان پرہ نے بھی بجلی کے نرخ بڑھانے کے فیصلے پر تنقید کی۔
ایکس پر ایک پوسٹ میں پرہ نے کہا کہ یہ اضافہ ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب بے روزگاری پہلے ہی بہت زیادہ ہے، مہنگائی نے گھریلو بجٹ متاثر کر رکھا ہے اور کئی خاندان بڑھتے اخراجات کا سامنا کر رہے ہیں۔
پلوامہ کے ممبر اسمبلی نے کہا کہ حکومت۲۰۰ یونٹ مفت بجلی، مفت گیس اور مفت راشن کے وعدوں کے ساتھ اقتدار میں آئی تھی، لیکن لوگوں کو ریلیف ملنے کے بجائے اب زیادہ بجلی کے بل ادا کرنے پڑ رہے ہیں۔
ادھر، نیشنل کانفرنس کے ہی رکن پارلیمنٹ آغا سید روح اللہ نے اپنی ہی پارٹی اور جموں و کشمیر حکومت کی تنقید کرتے ہوئے کہا ’’بجلی کے معاملے میں پارٹی کے انتخابی وعدوں اور اقتدار میں آنے کے بعد اس کے اقدامات کے درمیان واضح فرق نظر آ رہا ہے‘‘۔
سرینگر میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے روح اللہ نے کہا کہ نیشنل کانفرنس نے انتخابات کے دوران عوام سے۲۰۰ یونٹ بجلی مفت فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا، لیکن دو سال گزرنے کے باوجود وہ وعدہ وفا نہیں کیا جاسکا۔
روح اللہ نے کہا’’ہم نے وعدہ کیا تھا کہ ہماری حکومت مفت بجلی دے گی‘۲۰۰یونٹ مفت ہوں گے، لیکن دو سال گزر گئے اور ہم اب بھی اپنے وعدے پورے نہیں کر پا رہے ہیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا’’میں سمارٹ میٹر لگانے کے پیچھے منطق کو سمجھتا ہوں، لیکن بجلی کے نرخوں میں تقریباً سات فیصد اضافہ کرنا، یہ بات میری سمجھ سے باہر ہے۔‘‘
جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں قائد حزبِ اختلاف سنیل شرما نے بجلی کے نرخوں میں مبینہ طور پر۶ء۸۳فیصد اضافے پر نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ ’’دھوکا‘‘ قرار دیا ہے۔
شرما نے کہا کہ نیشنل کانفرنس۲۰۲۴ کے اسمبلی انتخابات میں ہر گھر کو۲۰۰یونٹ مفت بجلی فراہم کرنے کے واضح وعدے کے ساتھ اقتدار میں آئی تھی، لیکن انتخابات کے تقریباً دو سال بعد بھی یہ وعدہ پورا نہیں کیا گیا۔ اس کے برعکس اب صارفین پر بجلی کے زیادہ بلوں کا بوجھ ڈالا جا رہا ہے۔
اپوزیشن لیڈر نے کہا، ’’این سی حکومت نے ہر گھر کو۲۰۰ یونٹ مفت بجلی دینے کا وعدہ کیا تھا۔ لیکن اس وعدے کو پورا کرنے کے بجائے اب عوام کو بجلی کے نرخوں میں اضافے کا سامنا ہے۔ یہ ریلیف نہیں بلکہ حکومت پر عوام کے اعتماد کے ساتھ دھوکا ہے۔‘‘
شرما نے کہا کہ یکم ستمبر سے متوقع۶ء۸۳ فیصد بجلی ٹیرف میں اضافہ عام خاندانوں پر مزید مالی بوجھ ڈالے گا، جو پہلے ہی مہنگائی اور بڑھتے ہوئے گھریلو اخراجات سے پریشان ہیں۔
بی جے پی لیڈر نے کہا کہ یہ صورتحال نیشنل کانفرنس کے انتخابی وعدوں اور حکومت میں اس کی کارکردگی کے درمیان واضح تضاد کو ظاہر کرتی ہے۔انہوں نے کہا، ’’انتخابات سے پہلے وعدہ۲۰۰یونٹ مفت بجلی کا تھا، لیکن انتخابات کے بعد حقیقت یہ ہے کہ بجلی کے بل بڑھ رہے ہیں۔ حکومت کو وضاحت کرنی چاہیے کہ عوام سے کیے گئے وعدے پورے کیوں نہیں کیے گئے۔‘‘
قائد حزبِ اختلاف نے عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت کے اس عزم پر بھی سوال اٹھایا کہ وہ نیشنل کانفرنس کے منشور میں کیے گئے۲۰۰ یونٹ مفت بجلی کے وعدے کو پورا کرے گی۔
شرما نے کہا، ’’جموں و کشمیر کے عوام نعروں کے نہیں بلکہ جواب کے مستحق ہیں۔ این سی کو بتانا چاہیے کہ۲۰۰ یونٹ مفت بجلی کا وعدہ کہاں گیا اور وعدہ پورا کرنے کے بجائے حکومت صارفین پر مزید بوجھ کیوں ڈال رہی ہے۔‘‘
اپوزیشن لیڈر نے خبردار کیا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی جموں و کشمیر کے عوام کے مسائل کو مسلسل اجاگر کرتی رہے گی اور۲۰۲۴کے اسمبلی انتخابات کے دوران کیے گئے وعدوں پر این سی کی قیادت والی حکومت کو جواب دہ بنائے گی۔
۔۔۔۔۔۔









