جموں؍۶ اکتوبر
ڈائریکٹر مردم شماری آپریشنز، جموں و کشمیر و لداخ، امیت شرما نے منگل کو کہا کہ دونوں مرکزی زیر انتظام علاقوں میں مردم شماری۲۰۲۷کا عمل خوش اسلوبی سے جاری ہے۔ برف سے ڈھکے علاقوں میں آبادی کی گنتی مکمل کرلی گئی ہے، جبکہ سری نگر اور جموں سمیت باقی علاقوں میں آبادی کی گنتی کا مرکزی مرحلہ فروری میں مقرر ہے۔
شرما، جو جموں و کشمیر اور لداخ کے چیف پرنسپل مردم شماری افسر بھی ہیں، نے کہا کہ مکانات کی فہرست سازی کا عمل جون میں مکمل کرلیا گیا تھا، جبکہ ضلعی مردم شماری ہینڈ بک (ڈی سی ایچ بی) کی تیاری کا کام یکم اکتوبر سے شروع ہوا ہے اور۳۰؍ اکتوبر تک جاری رہے گا۔
شرما نے یہاں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا، ’’جموں و کشمیر اور لداخ کے برف سے ڈھکے علاقوں میں آبادی کی گنتی کا عمل یکم سے۳۰ ستمبر تک۱۰۰فیصد کامیابی کے ساتھ مکمل کیا گیا۔ ابتدائی گنتی کے بعد سامنے آنے والی تصحیحات، رہ جانے والے ناموں اور دیگر تبدیلیوں کو شامل کرنے کے لیے۵؍ اکتوبر کو پانچ روزہ نظرثانی کا مرحلہ بھی مکمل کرلیا گیا۔‘‘
ڈائریکٹر مردم شماری آپریشنز نے کہا کہ برفانی علاقوں میں آبادی کی تفصیلی گنتی کے دوران دونوں مرکزی زیر انتظام علاقوں کے۵۲۹۲ شمارشی بلاکس کا احاطہ کیا گیا۔ ان میں۴۵۹۷ شمارشی بلاکس جموں و کشمیر اور۶۹۵ لداخ میں تھے، جو موسم سرما کے آغاز سے قبل انجام دیے گئے اس بڑے پیمانے کے عمل کی عکاسی کرتے ہیں۔
شرما نے کہا کہ اس مردم شماری کے لیے دور دراز، دشوار گزار اور برف سے ڈھکے علاقوں میں بڑے پیمانے پر فیلڈ عملہ تعینات کیا گیا تھا۔ شمار کنندگان اور نگرانوں نے گھر گھر جاکر سروے کیا تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جاسکے کہ ہر اہل فرد کو مردم شماری میں شامل کیا جائے۔
ڈائریکٹر مردم شماری آپریشنزکے مطابق اضلاع میں ڈوڈہ میں۷۹۸ ، کشتواڑ میں۶۰۲، رام بن میں۴۱۸ ، اننت ناگ میں۳۷۷ ، بارہمولہ میں۳۶۹ ، ریاسی میں۳۴۵، ادھم پور میں۳۱۳؍اور کپواڑہ میں۲۳۰ شمارشی بلاکس شامل تھے، جو برفانی علاقوں کا احاطہ کرنے کے لیے کیے گئے وسیع فیلڈ آپریشن کی عکاسی کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ لداخ اور کشتواڑ کے اضلاع کو مکمل طور پر برف سے ڈھکے علاقے قرار دیا گیا ہے، جبکہ جموں و کشمیر کے کئی دیگر اضلاع کے کچھ علاقے برف سے ڈھکے ہوئے ہیں۔ باقی میدانی علاقوں میں ضروری نوٹیفکیشن جاری ہونے کے بعد فروری میں آبادی کی مرکزی گنتی کی جائے گی۔
شرما نے کہا کہ ضلعی مردم شماری ہینڈ بک کی تیاری کا عمل یکم اکتوبر سے شروع ہوا ہے اور۳۰؍ اکتوبر تک جاری رہے گا۔انہوں نے کہا کہ مردم شماری۲۰۲۷ملک کی پہلی مکمل طور پر ڈیجیٹل مردم شماری ہے، جس میں شمار کنندگان ڈیجیٹل آلات استعمال کررہے ہیں، جبکہ شہریوں کو از خود اندراج کی سہولت بھی فراہم کی گئی ہے۔
ڈائریکٹر مردم شماری نے کہا، ’’جموں و کشمیر نے از خود اندراج کے معاملے میں غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ یہ مرکزی زیر انتظام علاقوں میں پہلے اور ملک بھر میں مجموعی طور پر آٹھویں مقام پر رہا۔‘‘
شرما نے کہا کہ ہندوستان کے رجسٹرار جنرل اور مردم شماری کمشنر کے دفتر نے آزاد مبصرین تعینات کیے تھے، جنہوں نے جموں و کشمیر اور لداخ کے مختلف علاقوں کا دورہ کرکے زمینی سطح پر عمل درآمد کا جائزہ لیا، ڈیجیٹل آلات کے استعمال کی تصدیق کی اور مردم شماری افسران، نگرانوں اور شمار کنندگان سے بات چیت کی۔
ڈائریکٹر مردم شماری آپریشنزنے کہا کہ ہندوستان کے رجسٹرار جنرل اور مردم شماری کمشنر مرتیونجے کمار نارائن نے خود لداخ کے کئی دور دراز اور اہم علاقوں، جن میں ترٹک، بوگدانگ، پینگونگ، چوشول، نیوما، چومر، کرگل اور زنسکار شامل ہیں، کا دورہ کیا اور مردم شماری کی تیاریوں اور زمینی سطح پر جاری کارروائیوں کا جائزہ لیا۔انہوں نے کہا کہ ایڈیشنل رجسٹرار جنرل سنیل کمار نے بھی اگست میں جموں و کشمیر کا دورہ کرکے مردم شماری کی تیاریوں کا جائزہ لیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔(ایجنسیاں )










