سرینگر؍۶ ؍اکتوبر
شمالی کشمیر میں تقریباً۲۰۰ سال قدیم بدھ مت کا ایک آثارِ قدیمہ کمپلیکس، جسے وزیر اعظم نریندر مودی نے خطے کے مالا مال ثقافتی ورثے کے لیے ’قابل فخر لمحہ‘ قرار دیا تھا، اب ایک بالکل مختلف خطرے یعنی دریائے جہلم کی زد میں ہے۔
ایک حالیہ مطالعے میں خبردار کیا گیا ہے کہ۲۰۵۰ تک اس مقام کے اطراف۱۰ہزارمربع میٹر سے زیادہ زمین دریا برد ہو سکتی ہے، جبکہ حفاظتی اقدامات نہ کیے گئے تو مرکزی یادگار کو اگلی تین دہائیوں کے اندر منہدم ہونے کا شدید خطرہ ہے۔
یہ انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ماہرین آثارِ قدیمہ مسلسل دوسرے سال اس مقام پر کھدائی کر رہے ہیں۔ وہ پہلی صدی عیسوی، یعنی کوشان دور سے تعلق رکھنے والے قدیم بدھ مت کے ایک نیم دائرہ نما اسٹوپا کمپلیکس کا مطالعہ کر رہے ہیں۔
جولائی۲۰۲۶ میں ’اینشینٹ ایشیا‘ جریدے میں شائع ہونے والے اس مطالعے میں۱۹۷۶ سے۲۰۲۲ کے درمیان مقام کے اطراف ہونے والی تبدیلیوں کا نقشہ تیار کرنے کے لیے۴۶ سال کی سیٹلائٹ تصاویر اور جغرافیائی اطلاعاتی نظام (جی آئی ایس) کے تجزیے کا استعمال کیا گیا۔ مطالعے میں دریائے جہلم کے کنارے بڑے پیمانے پر کٹاؤ اور دریا کے بہاؤ کے راستے میں تبدیلی پائی گئی، جس کا سب سے شدید مرحلہ۱۹۸۹ سے۲۰۰۰کے درمیان ریکارڈ کیا گیا۔
ان۱۱ برسوں کے دوران زمین کے کٹاؤ کی اوسط سالانہ شرح بڑھ کر۳۶۱۶ء۰۹ مربع میٹر ہو گئی، جبکہ۱۹۷۶ سے۱۹۸۹ کے درمیان یہ شرح۸۱۸ء۱۵ مربع میٹر سالانہ اور۲۰۰۰ سے۲۰۲۲ کے درمیان۳۶۱ء۵ مربع میٹر سالانہ تھی۔ محققین نے مجموعی طور پر۱۹۸۹ سے۲۰۰۰کے دوران۳۹ہزار۷۷۷ مربع میٹر زمین کے کٹاؤ کا ریکارڈ درج کیا۔
محققین نے اس غیر معمولی کٹاؤ کی وجہ دریا کے قدرتی عمل کے ساتھ انسانی مداخلت، خاص طور پر دریا کے اندر بڑے پیمانے پر اور غیر منظم کان کنی کو قرار دیا ہے۔
مطالعے کے مطابق، کان کنی کے لیے بنائے گئے گڈھوں نے دریا کے بہاؤ کو تبدیل کر دیا اور دریا کے سب سے گہرے بہاؤ کو آثارِ قدیمہ کے مقام کے قریب کر دیا، جس سے دریا کا کنارہ کمزور ہو گیا۔ دریا کے کنارے موجود قدرتی نباتات کے خاتمے سے بھی کٹاؤ کے خلاف کنارے کی قدرتی مزاحمت مزید کم ہو گئی۔
جہلم کے دائیں کنارے پر واقع زہان پور کمپلیکس تین اسٹوپوں کی ایک قطار پر مشتمل ہے۔ محققین نے ’پلیس اے‘ کے نام سے معروف علاقے کو کٹاؤ کا مرکز قرار دیا ہے، جہاں آثارِ قدیمہ کے باقیات زمین کی کششِ ثقل کے باعث منہدم ہونے، دریا کے خم دار بہاؤ کی سمت میں تبدیلی اور دریا کی براہ راست کٹائی کے خطرے سے دوچار ہیں۔
۲۰۰۰ کے بعد کٹاؤ کی شرح کو بنیاد بنا کر خطی تخمینے کے ذریعے محققین نے اندازہ لگایا ہے کہ۲۰۲۲سے۲۰۲۵کے درمیان تقریباً۱۰ہزار۱۲۲ مربع میٹر زمین دریا برد ہو سکتی ہے۔
تاہم مضمون نگار نے خبردار کیا ہے کہ یہ تخمینہ تحفظ اور انتظامی منصوبہ بندی کے لیے ہے، اسے قطعی ہائیڈرولوجیکل پیش گوئی نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ اس میں شدید سیلابی واقعات یا جہلم کے طاس میں ممکنہ غیر خطی تبدیلیوں کو شامل نہیں کیا گیا ہے، جو کٹاؤ کی رفتار میں مزید اضافہ کر سکتی ہیں۔
محققین نے کہا کہ اس سے بھی زیادہ تشویش ناک بات خود مرکزی یادگار کی کمزوری ہے۔
مطالعے میں کہا گیا ہے، ’’ہماری پیش گوئی کے مطابق اگر حفاظتی اقدامات نہیں کیے گئے تو مرکزی یادگار کو اگلی تین دہائیوں کے اندر منہدم ہونے کا شدید خطرہ ہے۔‘‘
محققین نے دریا کے کنارے کو مستحکم کرنے اور آثارِ قدیمہ کے باقیات کو محفوظ رکھنے کے لیے ساختی اور قدرتی بنیادوں پر مبنی اقدامات کا مجموعہ تجویز کیا ہے۔ ان میں حفاظتی دیواریں، گیبیونز اور گہری جڑوں والی نباتات کو منصوبہ بندی کے ساتھ لگانے پر مبنی بائیو انجینئرنگ اقدامات شامل ہیں۔
ان نتائج نے زہان پور میں جاری آثارِ قدیمہ کے کام کی فوری ضرورت کو مزید اجاگر کر دیا ہے۔ یہ مقام کشمیر کے نسبتاً کم معروف بدھ مت ماضی کے بارے میں نئے شواہد فراہم کر رہا ہے۔
خیال کیا جاتا ہے کہ یہ کمپلیکس قدیم ثقافتی اور تجارتی منظرنامے کا حصہ تھا، جو کشمیر کو گندھارا اور وسطی ایشیا سے جوڑتا تھا۔ محققین کی جانب سے پیش کیے گئے تاریخی حوالوں میں وسیع تر بارہمولہ خطے کو بدھ مت کے ان مراکز سے بھی جوڑا گیا ہے، جہاں ساتویں صدی میں چین کے سیاح اور عالم ہیون سانگ نے کشمیر کا سفر کرتے ہوئے دورہ کیا تھا۔
اس مقام کو گزشتہ سال دسمبر میں اس وقت قومی سطح پر توجہ حاصل ہوئی، جب وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے ماہانہ ریڈیو پروگرام ’من کی بات‘ میں اس کا ذکر کیا۔
زہن پور میں بڑے اسٹوپوں کی دریافت کا حوالہ دیتے ہوئے مودی نے اسے جموں و کشمیر کے لیے ’قابل فخر لمحہ‘ قرار دیا اور خطے کے مالا مال ثقافتی ورثے کا ذکر کیا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ فرانس کے ایک عجائب گھر میں محفوظ تین اسٹوپوں کی ایک پرانی اور دھندلی تصویر نے کشمیر کے بدھ مت ماضی کی جانب توجہ مبذول کرانے میں مدد کی۔
اس کے بعد آثارِ قدیمہ کی کھدائی دوسرے سال میں داخل ہو گئی ہے اور محققین نیم دائرہ نما اسٹوپا کمپلیکس اور اس کے اطراف موجود آثار کا مسلسل جائزہ لے رہے ہیں۔لیکن حالیہ مطالعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ اب آثارِ قدیمہ کے ماہرین کو دریا سے مقابلے کے لیے وقت کے خلاف دوڑنا پڑ سکتا ہے۔
محققین نے کہا کہ زہان پور کا معاملہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ آزادانہ طور پر دستیاب سیٹلائٹ تصاویر اور جغرافیائی اعداد و شمار کو کس طرح حساس اور خطرے سے دوچار ثقافتی ورثے کے مقامات کو لاحق خطرات کی نشاندہی اور تحفظ کی کوششوں کی رہنمائی کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
ان کے مطابق، یہ مطالعہ پالیسی سازوں اور تحفظِ آثار کے اداروں کو محض نگرانی سے آگے بڑھ کر فعال اقدامات کی جانب لے جانے کے لیے ایک ’’واضح اور اعداد و شمار پر مبنی بنیاد‘‘ فراہم کرتا ہے۔
۔۔۔۔۔ایجنسیاں










