سری نگر؍۶؍ اکتوبر
جموں و کشمیر حکومت ماضی کی غلطیوں کو دور کرنے اور عوام کو فائدہ پہنچانے کے مقصد سے نئی صنعتی پالیسی تیار کر رہی ہے۔ نائب وزیر اعلیٰ سریندر چودھری نے منگل کو یہ بات سری نگر میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔
چودھری نے کہا، ’’حکومت نئی صنعتی پالیسی لا رہی ہے، جو آخری مراحل میں ہے۔ ہم نئی پالیسی اس لیے لا رہے ہیں کیونکہ لوگ سابقہ پالیسی سے خوش نہیں تھے۔‘‘
نائب وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ سابقہ صنعتی پالیسی کے تحت ہونے والے کسی بھی امتیازی سلوک یا جہاں پسند و ناپسند کی بنیاد پر معاملات چلائے گئے، ان خامیوں کو دور کیا جائے۔
چودھری نے کہا، ’’ہماری کوشش اب ان رکاوٹوں اور خامیوں کو دور کرنے، معاملات کو مزید کھولنے اور اس بات کو یقینی بنانے کی ہے کہ لوگوں کو صنعتی پالیسی کا حقیقی فائدہ پہنچے۔‘‘
۲۰۲۱ میں اعلان کیے گئے۲۸ہزار۴۰۰ کروڑ روپے کے صنعتی پیکیج کے بارے میں چودھری نے کہا کہ اگر اسے مناسب طریقے سے نافذ کیا گیا ہوتا تو شاید جموں و کشمیر کی کاروباری برادری کو آج یہ مطالبات اٹھانے کی ضرورت پیش نہ آتی۔
انہوں نے کہا، ’’جہاں تک۲۸ہزار۴۰۰ کروڑ روپے کے پیکیج کا تعلق ہے، اگر اسے صحیح طریقے سے نافذ کیا گیا ہوتا تو شاید صنعت کار یا چیمبر کے ارکان آج یہ مطالبات نہ اٹھا رہے ہوتے۔‘‘
چودھری نے کہا کہ صنعت و تجارت محکمہ نئی صنعتی پالیسی میں تمام متعلقہ فریقوں کی آرا شامل کرنے کے لیے بھرپور کوشش کر رہا ہے۔انہوں نے کہا، ’’ماضی میں جو کچھ ہوا، اسے مستقبل میں دہرایا نہیں جائے گا۔ ہماری کوشش یہی ہے۔‘‘
خسارے میں چلنے والے سرکاری اداروں (پی ایس یوز) کو بند کرنے کے امکان سے متعلق سوال پر نائب وزیر اعلیٰ نے کہا کہ مسائل سے نمٹنے کا یہ درست طریقہ نہیں ہے۔انہوں نے کہا، ’’اس منطق کے تحت کیا پورے ہندوستان کو بند کر دینا چاہیے؟ کل اگر ہندوستان کو خسارہ ہو جائے تو کیا ہندوستان کو بند کر دیں گے؟ یا اگر جموں و کشمیر کو خسارہ ہو، مالی بحران پیدا ہو جائے تو کیا جموں و کشمیر کو بند کر دیں گے؟‘‘
نائب وزیراعلیٰ نے کہا کہ حالات میں اتار چڑھاؤ آتا رہتا ہے اور سرکاری ادارے بڑی محنت سے قائم کیے گئے تھے۔
چودھری نے کہا، ’’ان اداروں کو بڑی مشکل سے قائم کیا گیا تھا۔ انہیں شیرِ کشمیر شیخ محمد عبداللہ صاحب کے دور میں قائم کیا گیا تھا۔ یہ ہماری وراثت ہیں۔ انہیں کیوں بند کیا جائے؟‘‘انہوں نے کہا کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ سرکاری اداروں کی ناقص کارکردگی کی وجوہات اور ان کے خسارے میں جانے کے اسباب کا پتہ لگایا جائے۔
نائب وزیر اعلیٰ نے کہا، ’’جن افسران کی وجہ سے یہ ادارے خسارے میں گئے، ان کا احتساب طے ہونا چاہیے۔ جن لوگوں کی قیادت میں یہ ادارے خسارے میں گئے، انہیں جواب دہ ٹھہرایا جانا چاہیے۔‘‘
چودھری نے مزید کہا کہ جموں و کشمیر میں گزشتہ چند برسوں کے دوران اداروں کو بند کرنے کا جو رجحان شروع ہوا ہے، اسے جاری نہیں رہنا چاہیے۔
۔۔۔۔۔(ایجنسیاں )










