گال، 14 اگست (یواین آئی) بین الاقوامی کرکٹ کے مصروف شیڈول کے درمیان دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز سے قبل 10 دن کی تیاری کا موقع ملنا غیر معمولی ہے، لیکن جنوبی افریقہ کے خلاف گزشتہ سال 0-2 کی شکست کے بعد ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ مہم کو دوبارہ پٹری پر لانے کی کوشش میں ہندوستان نے سری لنکا کے دورے کے لیے بھرپور تیاری کی ہے۔
ہندوستانی ٹیم نے کولمبو میں تین روزہ پریکٹس میچ کھیلا اور پہلے ٹیسٹ کی میزبانی کرنے والے گال میں تقریباً پانچ دن تیاری کا موقع حاصل کیا۔ کپتان شبھمن گل نے کہا کہ ٹیم کے عبوری دور سے گزرنے کے پیش نظر اضافی تیاری خاص طور پر اہم رہی۔
انہوں نے کہا کہ زیادہ تر کھلاڑیوں کے پاس سری لنکا کے حالات میں کھیلنے کا زیادہ تجربہ نہیں ہے، اس لیے اضافی وقت انہیں حالات سے ہم آہنگ ہونے میں مدد دے گا۔
گال اسٹیڈیم میں سمندری ہوائیں بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ تیز ہوا میدان کی سطح کو خشک کرنے کے ساتھ گیند کو ریورس سوئنگ کے لیے موزوں بنا سکتی ہے۔ تاہم حالیہ بارش کے باعث اس بار ریورس سوئنگ کے امکانات متاثر ہوسکتے ہیں۔
گل نے کہا کہ کھلے میدانوں میں ہوا کا رخ بہت اہم ہوتا ہے اور بلے بازوں کو اسپن گیندبازوں کے خلاف کھیلتے وقت یہ دیکھنا ہوگا کہ ہوا ان کے حق میں ہے یا مخالف۔
ہندوستان اس سیریز میں جسپریت بمراہ کی خدمات سے بھی محروم ہے، جو گھٹنے کی چوٹ کے باعث ٹیم کا حصہ نہیں ہیں۔ گل نے کہا کہ بمراہ کی غیر موجودگی دوسرے گیندبازوں کے لیے اپنی صلاحیت ثابت کرنے کا موقع ہے۔
انہوں نے کہا کہ وکٹ سے زیادہ مدد نہ ملنے کی صورت میں گیندبازوں کو مختلف حکمت عملی اپنانی ہوگی، دباؤ بنانا ہوگا اور وکٹ حاصل کرنے کے مواقع پیدا کرنے ہوں گے۔ ایسے حالات میں فیلڈنگ میں تخلیقی انداز بھی اہم ہوگا۔
ادھرشبھمن گل کی کپتانی والی ہندوستانی ٹیم ہفتے کے دن جب گالے میں اترے گی، تو ان کے سامنے صرف ٹیسٹ میچ جیتنے کا ہی نہیں، بلکہ ایک بڑے سوال کا جواب تلاش کرنے کا چیلنج بھی ہوگا۔ کیا ایک نوجوان کپتان، نئی بلے بازی لائن اپ اور جسپریت بمراہ کے بغیر بالنگ اٹیک ان حالات میں خود کو جلدی ڈھال پائے گا، جو روایتی طور پر صبر، اسپن اور حکمت عملی کو فائدہ پہنچاتے ہیں۔
اس لیے، ہفتے سے شروع ہونے والی دو میچوں کی سیریز کا پہلا ٹیسٹ ہندوستان کی نئی ’ریڈ بال‘ پہچان کا ابتدائی امتحان ہے۔ مسٹر گل کی کپتانی کو صرف مخالف ٹیم کو ہرانے کی صلاحیت کی بنیاد پر نہیں، بلکہ مشکل حالات سے نکلنے کی ٹیم کی قابلیت کی بنیاد پر بھی پرکھا جائے گا۔ سب سے بڑا خطرہ اسپن کا ہے۔
گالے کو طویل عرصے سے اسپنروں کے لیے بہترین جگہوں میں سے ایک مانا جاتا رہا ہے اور سست بالنگ کے خلاف ہندوستان کی حالیہ جدوجہد کو دیکھتے ہوئے یہ چیلنج اور بھی اہم ہو جاتا ہے۔ مہمان ٹیم نے اپنی تیاری کے دوران بلے بازوں کو ٹرن لینے والی پچوں پر پریکٹس کرائی۔ کولمبو میں ہوا پریکٹس میچ اسپن کے خلاف ایک اہم تیاری ثابت ہوا۔
اب ہندوستان بھی اپنی طرف سے اسپن کا بھرپور استعمال کر سکتا ہے۔
بالنگ کوچ مورن مورکل نے تین بائیں ہاتھ کے اسپنروں ’کلدیپ یادو، رویندر جڈیجہ اور مانو ستھار‘ کو کھلانے کے امکان کا اشارہ دیا ہے، جن میں سے ہر ایک کا بالنگ کا طریقہ الگ ہے۔ کلدیپ رسٹ اسپن اور ویری ایشن لاتے ہیں، جڈیجہ کنٹرول اور درستگی، جبکہ ستھار روایتی اور ہوا میں گیند کو گھمانے (فلائٹ) والا آپشن دیتے ہیں۔ یہ امکان اس مقابلے کی نوعیت کے بارے میں بہت کچھ بتاتا ہے جس کی ہندوستان امید کر رہا ہے۔
لیکن تیز گیند بازوں کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ مورکل نے خبردار کیا ہے کہ گالے کی گرمی اور حبس کی وجہ سے کوکابورا گیند تقریباً 25-30 اوورز کے بعد نرم ہو سکتی ہے، جس سے تیز گیند بازوں کو ملنے والی مدد کم ہو جائے گی۔ اس لیے، ہندوستان کو اپنے تیز گیند بازوں سے سخت گیند کا زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے اور روایتی سوئنگ اور سیم کے کم مؤثر ہونے پر بھی اپنی شدت برقرار رکھنے کی ضرورت ہوگی۔ بمراہ کی عدم موجودگی اس مساوات کو اور پیچیدہ بناتی ہے۔ ہندوستان کے اہم تیز گیند باز کے بغیر، اٹیک کو انفرادی عمدگی کے بجائے اجتماعی کوشش کی ضرورت ہوگی۔ تیز گیند بازوں کو شروعات میں ہی دباؤ بنانا ہوگا، جبکہ ٹیسٹ کے آگے بڑھنے کے ساتھ اسپنروں کو زیادہ ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا پڑسکتا ہے۔



