سرینگر/ ۷ ؍اگست
آرٹیکل ۳۷۰ کی منسوخی کی سالگرہ کے موقع پر نکالی گئی متنازع ریلی سے ایک روز قبل لاتعلقی ظاہر کرنے کے بعد بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے جمعہ کو ضلع سطح کے عہدیداروں سمیت اپنے نو پارٹی عہدیداروں کو معطل کر دیا۔
یہ کارروائی اس وقت عمل میں آئی جب پانچ اگست کو کھنہ بل ہاؤسنگ کالونی، اننت ناگ میں نکالی گئی جشن کی ریلی کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر وائرل ہوئیں اور ریلی کے دوران لگائے گئے نعروں پر سخت تنقید سامنے آئی۔
بی جے پی نے ایک بیان میں کہا کہ مذکورہ ریلی نہ تو ضلع اننت ناگ یونٹ کے زیر اہتمام منعقد کی گئی تھی اور نہ ہی اسے پارٹی کی جانب سے کوئی باضابطہ منظوری حاصل تھی۔ پارٹی کے مطابق ریلی کے انعقاد کے لیے ضلعی انتظامیہ سے بھی لازمی اجازت نہیں لی گئی تھی۔
پارٹی نے کہا کہ ریلی کے دوران ’ماؤں اور بہنوں‘ کے خلاف لگائے گئے قابلِ اعتراض اور توہین آمیز نعروں کا اس نے ’سنجیدگی سے نوٹس‘ لیا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ اس نوعیت کا طرزِ عمل ناقابلِ قبول ہے اور بی جے پی کے نظم و ضبط، وقار اور بنیادی اصولوں کے سراسر منافی ہے۔
بی جے پی نے بتایا کہ جموں و کشمیر کے ریاستی جنرل سیکریٹری (تنظیم) اشوک کول، ریاستی جنرل سیکریٹری انور خان، پارٹی کے ترجمان اور ضلع اننت ناگ کے انچارج الطاف ٹھاکر کے علاوہ ضلعی کور کمیٹی کے ساتھ مشاورت کے بعد ریلی کے انعقاد اور اس میں شرکت کرنے والے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کا فیصلہ کیا گیا۔
پارٹی کی جانب سے جن افراد کو معطل کیا گیا ہے، ان میں ضلع جنرل سیکریٹری نثار احمد بھٹ، ضلع سیکریٹری خورشید احمد صوفی، ضلع سیکریٹری عابدہ رفیق، شانگس حلقہ کے صدر ارشاد احمد ملک، سابق ضلع نائب صدر محمد مقبول گنائی اور پہلگام حلقہ کے صدر وحید احمد ایتو شامل ہیں۔
اس کے علاوہ ضلع سیکریٹری نثار احمد حکیم، کسان مورچہ کے ضلع سیکریٹری فیروز احمد حجام اور مہیلا مورچہ کی ضلع سیکریٹری سبروزہ اختر کو بھی ان کے تنظیمی عہدوں اور ذمہ داریوں سے ہٹا دیا گیا ہے۔
پارٹی نے کہا کہ مذکورہ نو افراد کو فوری اثر سے ان کے تمام تنظیمی عہدوں اور ذمہ داریوں سے فارغ کر دیا گیا ہے، جبکہ آئندہ احکامات تک ان کی بنیادی رکنیت بھی معطل رہے گی۔
تاہم بی جے پی نے اپنے بیان میں پارٹی کے سینئر رہنما اور سابق ایم ایل سی صوفی یوسف کا کوئی ذکر نہیں کیا، حالانکہ وہ اسی ریلی کی قیادت کرتے ہوئے دکھائی دیے تھے۔ریلی کی وائرل ویڈیو میں بعض شرکاء کو ’مکلیو عزی ہُنید تہ فزی ہُنیدیزت‘ کا نعرہ لگاتے ہوئے سنا گیا، جس میں کشمیری خواتین کی عزت و ناموس کے حوالے سے توہین آمیز الفاظ استعمال کیے گئے تھے۔
ان نعروں پر حکمران جماعت نیشنل کانفرنس کے رہنماؤں نے شدید ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے بی جے پی پر کشمیری خواتین کی توہین کا الزام عائد کیا اور مطالبہ کیا کہ اس کے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔
۔۔۔۔۔۔۔
ویب ڈیسک










