موین بھاگوت کے ’جنریشن زی کے تحفظات حقیقی ہیں‘ بیان کی تائید کی‘کہا حکومت کی مخالفت ملک کی مخالفت نہیں ہے
جموں/ ۷ ؍اگست
جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے آرٹیکل ۳۷۰ کی منسوخی کی ساتویں برسی کے موقع پر پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کے بیان کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ اگرچہ ۵ ؍اگست ۲۰۱۹ء کے فیصلے کے حوالے سے جموں و کشمیر کے اپنے تحفظات ہیں، تاہم یہ بھارت کا اندرونی معاملہ ہے اور پاکستان کو اس سے کوئی سروکار نہیں۔
شہباز شریف کی جانب سے آرٹیکل ۳۷۰ کی منسوخی کو ’’انسانی حقوق کی خلاف ورزی‘‘ قرار دینے سے متعلق ایک سوال کے جواب میں عمر عبداللہ نے کہا کہ پاکستان کو پہلے اپنے زیرِ انتظام جموں و کشمیر (پی او جے کے) میں ہونے والی انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں کا جواب دینا چاہیے۔
عمرعبداللہ نے کہا، ’’جموں و کشمیر کے جس حصے پر ان کا قبضہ ہے، وہاں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں وہ خود کر رہے ہیں۔ حالیہ دنوں میں وہاں کتنے لوگوں کو قتل کیا گیا؟ ۵ اگست کے حوالے سے ہمارے اپنے تحفظات ضرور ہیں، لیکن یہ ہمارا اندرونی معاملہ ہے۔ اس سے پاکستان کا کوئی تعلق نہیں۔‘‘
وزیر اعلیٰ نے پاکستان پر زور دیا کہ وہ بھارت کے اندرونی معاملات میں مداخلت سے گریز کرے اور اپنی توجہ پاکستان کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کے مسائل کے حل پر مرکوز رکھے۔
عمر عبداللہ نے کہا، ’’انہیں ان معاملات میں مداخلت بند کر دینی چاہیے، کیونکہ جتنی زیادہ وہ مداخلت کرتے ہیں، اتنا ہی ہمارا مقدمہ کمزور ہوتا ہے۔ بہتر ہوگا کہ وہ اپنے زیرِ قبضہ علاقے کے حالات درست کریں، وہاں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں اور رینجرز کے ہاتھوں ہونے والی ہلاکتیں بند کرائیں۔‘‘
وزیر اعلیٰ نے مزید کہا، ’’ہمارے حصے سے متعلق جو بھی معاملات ہیں، ہم انہیں مرکزی حکومت کے ساتھ خود طے کر لیں گے، لیکن پاکستان کو ہمارے معاملات میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔‘‘
عمر عبداللہ کا یہ ردِعمل پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے ان بیانات کے بعد سامنے آیا، جن میں انہوں نے ۵ اگست کو ’’یومِ استحصال‘‘ قرار دیتے ہوئے ۲۰۱۹ء میں بھارت کی جانب سے آرٹیکل ۳۷۰ کی منسوخی پر تنقید کی تھی۔
وزیر اعلیٰ نے آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت کے اس بیان کی تائید کی کہ ’جنریشن زی کے تحفظات حقیقی ہیں اور احتجاج کرنے سے کوئی ملک دشمن نہیں بن جاتا‘۔
موہن بھاگوت کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ یہ ایک مثبت بات ہے کہ حکومت کی مخالفت اور ملک کی مخالفت کے درمیان فرق کو تسلیم کیا گیا ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا، ’’حکومت کی مخالفت کرنا ملک کی مخالفت نہیں ہے۔ درحقیقت حکومت پر تنقید اور اس کی مخالفت اکثر ملک کے مفاد میں ہوتی ہے کیونکہ اس سے جہاں بھی غلطیاں ہوتی ہیں، ان کی اصلاح کا موقع ملتا ہے‘‘۔
جمعرات کوممبئی میں انڈیاز انٹرنیشنل موومنٹ ٹو یونائٹ نیشنز کی پندرہویں سالگرہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے، جس میں تقریباً دو ہزار جنریشن زی اور جنریشن الفا کے نوجوان شریک تھے، آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت نے کہا تھا کہ اگر جنریشن زی کے نوجوان احتجاج کرتے ہیں تو انہیں ملک دشمن نہیں کہا جا سکتا، کیونکہ وہ ہمارے اپنے لوگ اور آنے والی نسل ہیں، جن کے ساتھ مکالمہ اور بہتر روابط قائم کرنا ضروری ہے۔
عمر عبداللہ نے این ای ای ٹی امتحان میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف احتجاج کرنے والے طلبہ کے خلاف کارروائیاں بند کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کے خلاف احتجاج کو ملک دشمنی سے تعبیر نہیں کیا جانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ طلبہ کی احتجاجی تحریک کے نتیجے میں جوابدہی کو فروغ ملا اور امید ظاہر کی کہ اس سے مستقبل میں امتحانات کے انعقاد کے نظام کو مزید بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔
احتجاج کرنے والے طلبہ کے خلاف کارروائیوں پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ اطلاعات کے مطابق طلبہ کے ساتھ بدسلوکی کی گئی، ان کے خلاف فوجداری مقدمات درج کیے گئے، سوشل میڈیا پر انہیں ہراساں کیا گیا اور بعض معاملات میں پولیس نے ان کے اہل خانہ کو بھی طلب کیا۔ انہوں نے کہا، ’’میرا ماننا ہے کہ اس قسم کی تمام کارروائیاں بند ہونی چاہئیں۔‘‘
وزیر اعلیٰ نے جھارکھنڈ میں سرکاری بھرتیوں کے امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف جاری احتجاج کا حوالہ دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ وہاں کے وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین احتجاج کرنے والے طلبہ سے بات چیت کریں گے اور ان کے مطالبات کو نظر انداز کرنے کے بجائے ان کا حل تلاش کریں گے۔
عمر عبداللہ نے کہا، ’’انہیں طلبہ کو بلانا چاہیے، ان سے بات کرنی چاہیے اور اگر واقعی کوئی بے ضابطگی ہوئی ہے تو ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے، جیسا کہ ہم نے یہاں کیا۔‘‘ انہوں نے جھارکھنڈ حکومت پر زور دیا کہ وہ احتجاجی طلبہ سے مذاکرات کرکے ان کے تحفظات دور کرے۔
واضح رہے کہ جھارکھنڈ میں سرکاری بھرتیوں کے امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف احتجاج جمعہ کو چودھویں روز بھی جاری رہا۔ احتجاج کرنے والے طلبہ چودھویں جھارکھنڈ پبلک سروس کمیشن سول سروسز امتحان کو منسوخ کرنے، سی بی آئی یا ریاست سے باہر کے ریٹائرڈ ہائی کورٹ ججوں پر مشتمل کمیٹی سے آزادانہ تحقیقات کرانے، اور جے پی ایس سی و جے ایس ایس سی میں جامع اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) سے متعلق حالیہ سیاسی پیش رفت پر ایک سوال کے جواب میں عمر عبداللہ نے کسی بھی ’’فکس میچ‘‘ کے تاثر کو مسترد کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ پارٹی کی ساکھ بحال کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
وزیر اعلیٰ نے کہا، ’’یہ جماعت خود بخود وجود میں نہیں آئی تھی بلکہ اسے ایجنسیوں نے کھڑا کیا تھا۔ جب بھی اس کی ساکھ کمزور پڑتی ہے تو اسے دوبارہ مضبوط کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔‘‘ انہوں نے پی ڈی پی رہنما التجا مفتی سے متعلق قیاس آرائیوں کو بھی مسترد کیا۔
التجا مفتی کے مبینہ طور پر ایک پولیس اہلکار کو کاٹنے کے واقعے پر طنز کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ وہ کوئی بچی نہیں ہیں۔
واضح رہے کہ آرٹیکل ۳۷۰ کے حوالے سے حالیہ احتجاج کے دوران پولیس نے دعویٰ کیا تھا کہ التجا مفتی نے ڈیوٹی انجام دینے والے ایک پولیس اہلکار پر جسمانی حملہ کیا، اسے پکڑا اور اس کے بازو پر کاٹ لیا، جس سے اسے خون آلود زخم آیا۔ پولیس نے اس معاملے میں انہیں پوچھ گچھ کے لیے طلب کیا ہے۔(ایجنسیاں )









