سرینگر/ ۷ ؍اگست
قومی اہلیت و داخلہ امتحان (نیٹ یو جی۲۰۲۶ ) کے سوالیہ پرچہ لیک معاملے میں مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) نے اپنی چارج شیٹ میں ڈیجیٹل فرانزک شواہد کا بڑا ذخیرہ پیش کیا ہے، جس میں پونے کی ایک رہائشی سوسائٹی کے ایکسس کنٹرول ایپ، بایومیٹرک ریکارڈ، موبائل فون کال ڈیٹا اور لوکیشن تجزیہ کو کلیدی ثبوت کے طور پر شامل کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق سی بی آئی نے۲۸ جولائی کو خصوصی عدالت میں۱۳ ملزمان کے خلاف داخل کی گئی چارج شیٹ میں این ٹی اے کے کیمسٹری ماہر پی وی کلکرنی کی رہائشی سوسائٹی کے ریکارڈ کو بھی شامل کیا ہے۔ ان ریکارڈز میں ان طلبہ کے بایومیٹرک اندراجات بھی موجود ہیں جو اپریل میں کلکرنی کی خصوصی کوچنگ کلاسوں میں شریک ہوئے تھے۔
یہ ایپ رہائشی سوسائٹیوں میں آنے اور جانے والے افراد کے اندراج اور نگرانی کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔
سی بی آئی نے ان ریکارڈز کی مدد سے یہ ثابت کیا کہ نیٹ امتحان کے انعقاد سے چند روز قبل طلبہ اور ان کے والدین کلکرنی کی رہائش گاہ پر موجود تھے۔ اس دعوے کی تائید ان کے موبائل فونز کے کال ڈیٹا ریکارڈ(سی ڈی آر) اور لوکیشن تجزیے سے بھی ہوئی۔
چارج شیٹ کے مطابق این ٹی اے کے تین مضامینی ماہرین—پی وی کلکرنی (کیمسٹری)، منیشا گروناتھ منڈھارے (زوالوجی اور باٹنی) اور منیشا سنجے ہولدار (فزکس)—پر الزام ہے کہ انہوں نے این ٹی اے کے امتحانی نظام میں موجود خامیوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بھاری مالی منفعت کے عوض خفیہ سوالات افشا کیے۔
سی بی آئی کے مطابق تحقیقات کا رخ ایک بیوٹیشن منیشا سنجے واگھمارے کی جانب گیا، جس نے مبینہ طور پر مختلف درمیانی افراد کے ذریعے راجستھان اور ہریانہ تک امیدواروں کو سوالات فراہم کیے۔ اسی سلسلے نے سوالیہ پرچہ لیک ہونے کا انکشاف کیا، جس کے بعد این ٹی اے میں شکایت درج کرائی گئی۔
تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ واگھمارے نے اپریل میں کلکرنی اور منڈھارے کی خصوصی کوچنگ کلاسوں میں بعض طلبہ کو داخل کرایا اور ان کی نوٹ بکس حاصل کیں، جن پر دونوں ماہرین کی جانب سے لکھوائے گئے سوالات درج تھے۔ بعض سوالات کو ’اہم‘ اور’انتہائی اہم‘ کے طور پر بھی نشان زد کیا گیا تھا۔
سی بی آئی نے یہ بھی پایا کہ منیشا ہولدار نے منڈھارے کی ہدایت پر ایک امیدوار کی والدہ کو فزکس کے۶۸ سوالات پر مشتمل۱۶ صفحات فراہم کیے تھے۔ایجنسی نے برآمد شدہ لیک شدہ مواد کو دہلی یونیورسٹی کے ماہرین پر مشتمل کمیٹی کے سپرد کیا، جس نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ یہ مواد نیٹ-یو جی۲۰۲۶ کے چار مختلف سوالیہ پرچوں—کلاش، شیوالک، سیٹ۲؍اور سیٹ۳سے مختلف تناسب میں مطابقت رکھتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق جن سوالیہ پرچوں تک مذکورہ ماہرین کو رسائی حاصل تھی، ان سے لیک شدہ مواد کی مماثلت۸۵ فیصد تک پائی گئی، جبکہ جن پرچوں تک ان کی رسائی نہیں تھی، ان سے مماثلت نہایت کم رہی۔سی بی آئی نے مزید انکشاف کیا کہ سوالیہ پرچہ تیار کرنے، ترجمہ اور دوبارہ ترجمہ (بیک ٹرانسلیشن) کا عمل این ٹی اے کی اوکھلا عمارت میں سخت نگرانی والے ماحول میں انجام دیا گیا، تاہم اس دوران موجود بعض خامیوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کلکرنی، منڈھارے اور ہولدار نے ہوٹل واپس جا کر سوالات کو دوبارہ مرتب کیا۔
تحقیقات کے مطابق کلکرنی مبینہ طور پر ابتدائی نوٹس (رَف شیٹس) کی مدد سے مختصر سوالات اور اختیاری جوابات چھوٹے کاغذوں پر باہر لے جاتا تھا۔ آسان سوالات کو یاد کرکے وہ ہوٹل پہنچنے کے بعد دوبارہ تحریر کرتا تھا۔
ایجنسی کا الزام ہے کہ کلکرنی نے نیٹ-یو جی۲۰۲۶ کے تین مختلف سیٹوں کی بیک ٹرانسلیشن کی اور برآمد شدہ لیک شدہ مواد میں کیمسٹری کے انہی سوالیہ پرچوں سے سب سے زیادہ مطابقت پائی گئی۔
چارج شیٹ میں کہا گیا ہے کہ منیشا ہولدار اور واگھمارے زیادہ تر اپنی یادداشت پر انحصار کرتے تھے اور ہوٹل واپس پہنچ کر اپنے مضامین کی کتابوں پر سوالات لکھتے اور انہیں نشان زد کرتے تھے۔
تحقیقات سے یہ بھی معلوم ہوا کہ یہ ماہرین مارچ اور اپریل کے دوران مختلف تاریخوں میں امتحانی کام انجام دینے کے بعد کافی وقت پہلے پونے واپس پہنچ گئے تھے اور انہوں نے کوچنگ جاری رکھی، حالانکہ این ٹی اے کے قواعد کے مطابق انہیں ایسا کرنے کی اجازت نہیں تھی۔
سی بی آئی نے اس مقدمے میں ایک کوچنگ سینٹر کے مالک شیوراج رگھوناتھ متگاؤنکر کو بھی ملزم نامزد کیا ہے۔ ایجنسی کے مطابق اس نے ایک درمیانی شخص کے ذریعے کلکرنی سے سوالیہ پرچے حاصل کیے اور مالی فائدے کے بدلے انہیں اپنے طلبہ میں تقسیم کیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
(ویب ڈیسک)










