نئی دہلی/ ۷ ؍اگست
بھارت اور چین نے لائن آف ایکچول کنٹرول (ایل اے سی) کی مجموعی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے سرحدی حد بندی، سرحدی نظم و نسق اور سرحد پار تعاون سے متعلق اہم امور پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا۔ دونوں ممالک نے اس بات پر زور دیا کہ سرحدی علاقوں میں امن اور استحکام برقرار رکھنا دوطرفہ تعلقات کی مجموعی ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔
وزارتِ خارجہ (ایم ای اے) نے جمعہ کو، نئی دہلی میں دونوں ممالک کے درمیان ہونے والے سفارتی مذاکرات کے ایک روز بعد، ایک بیان میں کہا کہ دونوں فریقوں نے کھلے اور بے لاگ انداز میں بات چیت کی اور لائن آف ایکچول کنٹرول کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لیا۔
یہ مذاکرات بھارت۔چین سرحدی امور سے متعلق مشاورت اور رابطہ کاری کے ورکنگ میکانزم کے تحت منعقد ہوئے۔
وزارتِ خارجہ کے مطابق دونوں ممالک اس بات پر متفق ہوئے کہ لائن آف ایکچول کنٹرول پر زیر التوا مسائل کے حل اور کسی بھی غلط فہمی یا غلط اندازے سے بچنے کے لیے موجودہ سفارتی اور فوجی ذرائع، بشمول ورکنگ میکانزم ، مقامی کمانڈر سطح کے اجلاسوں اور دیگر طے شدہ نظاموں کا استعمال جاری رکھا جائے گا۔
بیان میں کہا گیا کہ خصوصی نمائندوں کے گزشتہ دور کے مذاکرات کے نتائج کے تسلسل میں دونوں فریقوں نے سرحدی حد بندی، سرحدی نظم و نسق، مختلف ادارہ جاتی نظام وضع کرنے اور سرحد پار تعاون سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا۔
وزارتِ خارجہ نے بتایا کہ بھارتی وفد نے سرحد پار دریاؤں سے متعلق ماہرین کی سطح کے میکانزم کا آئندہ اجلاس جلد منعقد کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ اس کے ساتھ ساتھ بالائی علاقوں میں جاری منصوبوں سے متعلق تکنیکی معلومات کے تبادلے کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا۔
مذاکرات میں بھارتی وفد کی قیادت وزارتِ خارجہ میں مشرقی ایشیا کے جوائنٹ سیکریٹری سُجیت گھوش نے کی، جبکہ چینی وفد کی سربراہی چین کی وزارتِ خارجہ کے محکمۂ سرحدی و بحری امور کے ڈائریکٹر جنرل ہو یان چی نے کی۔ (ایجنسیاں)
۔۔۔۔۔۔
ایجنسیاں










