نئی دہلی/۷؍اگست
بھارت نے جمعہ کو سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کے درمیان طے پانے والے نئے سہ فریقی دفاعی معاہدے پر ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔
یہ دفاعی معاہدہ سعودی عرب میں ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان، ترکی کے صدر رجب طیب اردوان اور پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کے درمیان ہونے والی ملاقات کے دوران طے پایا۔ یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب خطے میں سلامتی سے متعلق خدشات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ اس معاہدے کا مقصد کسی بھی جارحیت کے خلاف مشترکہ دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنانا ہے۔ معاہدے کے مطابق اگر تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر مسلح حملہ ہوتا ہے تو اسے تینوں ریاستوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ دفاعی تعاون کے تمام شعبوں کو مزید فروغ دینے پر بھی اتفاق کیا گیا ہے۔
خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق ترکی کے نشریاتی ادارے ہیبرترک اور دیگر ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ اس معاہدے کے نتیجے میں مشترکہ فوجی مشقوں، عسکری تربیت، دفاعی ٹیکنالوجی کی منتقلی اور انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے کی راہ ہموار ہونے کی توقع ہے۔
ادھر سعودی عرب، جس کے اہم تیل کے ذخائر اور بنیادی تنصیبات ایران کے ساتھ کشیدگی کے دوران حملوں کی زد میں آ چکے ہیں، گزشتہ کچھ عرصے سے اپنے دفاعی شراکت داروں کا دائرہ وسیع کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
یاد رہے کہ ستمبر ۲۰۲۵ء میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان بھی ایک باہمی دفاعی معاہدہ طے پایا تھا، جس کے تحت دونوں ممالک نے اس بات پر اتفاق کیا تھا کہ ایک ملک پر حملہ دونوں کے خلاف جارحیت تصور کیا جائے گا۔ اس معاہدے نے دونوں ملکوں کے درمیان دفاعی تعاون کو مزید وسعت دینے کی بنیاد فراہم کی تھی۔
اس وقت بھی بھارت کی وزارتِ خارجہ نے کہا تھا کہ وہ سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان اس اسٹریٹجک دفاعی معاہدے کے مضمرات کا بغور جائزہ لے گی۔
وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے اُس وقت میڈیا کے سوال کے جواب میں کہا تھا، ’’ہم نے سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدے پر دستخط سے متعلق اطلاعات دیکھی ہیں۔ حکومت اس پیش رفت سے آگاہ تھی اور یہ بھی جانتی تھی کہ دونوں ممالک کے درمیان اس نوعیت کے انتظام کو باضابطہ شکل دینے پر کافی عرصے سے غور کیا جا رہا تھا۔‘‘
۔۔۔۔۔
ایجنسیاں










