میڈرڈ، 6 اگست (یو این آئی) اسپین کی وزیر کھیل ملاگروس تولون نے کہا ہے کہ 2030 فیفا ورلڈ کپ کے فائنل کی میزبانی کا سب سے زیادہ حق اسپین کو حاصل ہے اور انہیں یقین ہے کہ فیفا اسی کا انتخاب کرے گا۔
فیفا نے ابھی تک یہ فیصلہ نہیں کیا ہے کہ 2030 ورلڈ کپ کا فائنل کس ملک میں کھیلا جائے گا۔ اسپین، پرتگال اور مراکش اس ایونٹ کے مشترکہ میزبان ہوں گے۔
بدھ کو فیفا نے ان میڈیا رپورٹس کی تردید کی تھی جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ فیفا صدر جیانی انفانٹینو نے اپنی صدارت کے لیے حمایت حاصل کرنے کی غرض سے مراکش کو فائنل کی میزبانی کی پیشکش کی ہے۔
ریڈیو کادینا سیر سے گفتگو میں تولون نے کہا، "سب سے اہم بات یہ ہے کہ فیفا نے ان خبروں کی تردید کر دی ہے۔ ہماری فیفا کے ساتھ بات چیت جاری ہے اور ستمبر میں آئندہ اجلاس ہوگا۔ ہم اپنی کوششیں جاری رکھیں گے کیونکہ ہمارا ماننا ہے کہ ورلڈ کپ کا فائنل اسپین میں ہونا چاہیے۔”
انہوں نے کہا کہ اسپین اس وقت مردوں اور خواتین، دونوں کی عالمی چیمپئن ٹیموں کا حامل واحد ملک ہے۔ خواتین کی ٹیم نے 2023 میں سڈنی میں انگلینڈ کو شکست دے کر پہلی بار ورلڈ کپ جیتا تھا، جبکہ مردوں کی ٹیم نے دو سال قبل یورپی چیمپئن شپ جیتنے کے بعد گزشتہ ماہ نیو جرسی میں ارجنٹینا کو شکست دے کر اپنا دوسرا عالمی خطاب حاصل کیا۔
تولون نے کہا کہ اسپین اور پرتگال نے مشترکہ طور پر 2030 ورلڈ کپ کی میزبانی کے لیے بولی پیش کی تھی، بعد میں مراکش بھی اس میں شامل ہوا۔ ان کے مطابق اسپین کے پاس بڑے کھیلوں کے مقابلوں کی میزبانی کا وسیع تجربہ، جدید مواصلاتی نظام اور اعلیٰ سطح کا سکیورٹی ڈھانچہ موجود ہے، اسی لیے انہیں یقین ہے کہ فیفا فائنل کے لیے اسپین کا انتخاب کرے گا۔
مراکش کاسابلانکا کے قریب زیر تعمیر کنگ حسن دوم اسٹیڈیم میں فائنل کرانے کا خواہاں ہے، جبکہ اسپین کی جانب سے ریئل میڈرڈ اور بارسلونا کے اسٹیڈیم ممکنہ میزبانوں میں شامل ہیں۔
واضح رہے کہ 2030 ورلڈ کپ کا آغاز مونٹیویڈیو، بیونس آئرس اور اسونسیون سے ہوگا، جس کے بعد مقابلے اسپین، پرتگال اور مراکش میں کھیلے جائیں گے۔










