سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کو معاوضہ، متبادل اراضی اور کسانوں کو ایک سال تک مفت راشن دینے کا اعلان
راجوری/؍ ۶ ؍اگست
جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعرات کو کہا کہ وہ راجوری اور پونچھ کے سیلاب سے متاثرہ اضلاع کے لیے خصوصی مرکزی پیکیج کی تجویز خود وزیر اعظم نریندر مودی کو پیش کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ مرکز کے زیر انتظام علاقے کے پاس بحالی کے تمام اخراجات خود برداشت کرنے کی مالی صلاحیت نہیں ہے۔
راجوری میں سیلاب سے متعلق راحت اور بازآبادکاری کے اقدامات کا جائزہ لینے کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا، ’’اگرچہ کچھ کام ہم اپنے وسائل سے انجام دے سکتے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ جموں و کشمیر کے پاس بحالی کے تمام اخراجات برداشت کرنے کی مالی گنجائش نہیں ہے۔‘‘
انہوں نے کہا، ’’گزشتہ سال کے سیلاب کے بعد مرکزی حکومت نے جموں و کشمیر کے لیے تقریباً ۱۴۰۰ کروڑ روپے کے پیکیج کی منظوری دی تھی۔ اس بار بھی ہم ایک مفصل پیکیج تیار کریں گے اور مرکز سے مالی امداد طلب کریں گے۔‘‘
عمر عبداللہ نے کہا کہ سیلاب، اچانک آنے والے سیلاب اور بادل پھٹنے کے واقعات خود بخود قدرتی آفات کے زمرے میں آتے ہیں اور مرکزی امداد کے حصول کے لیے کسی الگ اعلان کی ضرورت نہیں ہوتی۔ انہوں نے کہا، ’’جیسے ہی تجویز تیار ہوگی، میں خود اسے وزیر اعظم کے سامنے پیش کروں گا۔‘‘
۱۹ جولائی کو راجوری ضلع میں آنے والے اچانک سیلاب کے بعد کی صورت حال کا جائزہ لیتے ہوئے، جس میں چار افراد جاں بحق ہوئے تھے، وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حکومت نے تین مرحلوں پر مشتمل حکمت عملی کے تحت کام کیا، جن میں بچاؤ، بازیابی اور بازآبادکاری شامل ہیں۔
وزیر اعلیٰ نے کہا، ’’ہماری پہلی ترجیح انسانی جانوں کے نقصان کو کم سے کم کرنا تھی۔ ہمیں ضلع میں چار قیمتی جانوں کے ضیاع پر افسوس ہے۔ اگر ضلعی انتظامیہ اور پولیس نے رات کے وقت فوری کارروائی نہ کی ہوتی تو ہلاکتوں کی تعداد کہیں زیادہ ہو سکتی تھی۔‘‘
عمرعبداللہ نے کہا کہ حکومت اب بازآبادکاری اور تعمیر نو کے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے اور سب سے زیادہ توجہ تباہ شدہ بنیادی ڈھانچے اور عوامی خدمات کی بحالی پر دی جا رہی ہے۔ عمر عبداللہ نے بتایا کہ بجلی کی فراہمی تقریباً مکمل طور پر بحال کر دی گئی ہے، تاہم پینے کے پانی کی فراہمی ایک بڑا مسئلہ بنی ہوئی ہے کیونکہ جل شکتی محکمہ کی متعدد آبی فراہمی اسکیمیں سیلاب سے متاثر ہوئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مقامی اراکین اسمبلی کی جانب سے دی گئی تجاویز، جن میں متاثرہ علاقوں میں پانی کے ٹینکروں اور ہینڈ پمپوں کی فراہمی شامل ہے، پر عمل درآمد کیا جائے گا۔
وزیر اعلیٰ نے یقین دلایا کہ جن مکانات کو نقصان پہنچا ہے ان کے مالکان کو معاوضہ دیا جائے گا، جبکہ جن خاندانوں کی زمین سیلاب میں بہہ گئی ہے، انہیں متبادل اراضی فراہم کی جائے گی تاکہ وہ دوبارہ اپنے مکانات تعمیر کر سکیں۔انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ جن کسانوں کی فصلیں اور زرعی اراضی تباہ ہوئی ہے، انہیں چھ ماہ سے ایک سال تک مفت راشن فراہم کیا جائے گا۔
طویل مدتی حفاظتی اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ انہوں نے محکمہ فلڈ کنٹرول کو ہدایت دی ہے کہ بیلا کالونی میں فوری طور پر ایک حفاظتی بند تعمیر کیا جائے تاکہ آئندہ سیلاب کے دوران پانی رہائشی علاقوں میں داخل نہ ہو سکے۔انہوں نے راجوری میں ایک نئے منی سیکریٹریٹ کی تعمیر کا بھی اعلان کیا اور کہا کہ موجودہ ڈپٹی کمشنر دفتر کی عمارت ساختی اعتبار سے غیر محفوظ قرار دی جا چکی ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا، ’’اب یہ ہماری پسند کا نہیں بلکہ ضرورت کا معاملہ ہے۔ موجودہ عمارت مزید استعمال کے قابل نہیں رہی۔ منصوبے کی تفصیلی رپورٹ تیار کی جا رہی ہے اور نئے منی سیکریٹریٹ پر تقریباً ۵۰ سے ۶۰ کروڑ روپے لاگت آنے کی توقع ہے۔ امید ہے کہ اسے آئندہ دو سے تین برس کے اندر مکمل کر لیا جائے گا۔‘‘
عمر عبداللہ نے کہا کہ اسٹیٹ ڈیزاسٹر ریسپانس فنڈ (ایس ڈی آر ایف) کے تحت ڈھانچہ جاتی نقصانات پر دی جانے والی امدادی رقم مہنگائی کے باعث ناکافی ہو چکی ہے۔انہوں نے کہا، ’’ایس ڈی آر ایف کے تحت دی جانے والی امدادی رقم میں گزشتہ سات سے آٹھ برس سے کوئی نظرثانی نہیں ہوئی۔ ہم نے اسے بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔‘‘
سیلاب میں تباہ ہونے والی گاڑیوں کے بارے میں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ انہوں نے پولیس کو ہدایت دی ہے کہ ایف آئی آر کے اندراج کا عمل تیز کیا جائے تاکہ متاثرہ مالکان کو انشورنس کلیم حاصل کرنے میں دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔انہوں نے کہا، ’’ممکن ہے کچھ لوگ اس عمل کا غلط استعمال کرنے کی کوشش کریں، لیکن حقیقی متاثرین کو اس کی سزا نہیں ملنی چاہیے۔ سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس نے یقین دلایا ہے کہ ایسے معاملات کو جلد نمٹایا جائے گا۔‘‘
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ رکن اسمبلی افتخار صاحب نے راجوری شہر سے متعلق دو تین اہم مسائل بھی اٹھائے، جن میں امرت مرحلہ دوم (AMRUT Phase-II) کے تحت راجوری کو شامل کرنے، کالا بس اسٹینڈ کے لیے متبادل جگہ کی نشاندہی اور بجلی و پانی کی فراہمی سے متعلق مسائل شامل ہیں۔انہوں نے کہا، ’’ہم یقیناً ان تمام نکات کا جائزہ لیں گے۔‘‘ (ایجنسیاں)









