سرینگر؍ ۶ ؍اگست
جموں و کشمیر اور لداخ کے چیف پرنسپل مردم شماری افسر (سی پی سی او) اور ڈائریکٹر مردم شماری آپریشنز امت شرما نے جمعرات کو اعلان کیا کہ مردم شماری کا سب سے اہم مرحلہ، یعنی آبادی کی مردم شماری یکم ستمبر سے برف پوش علاقوں میں شروع ہوگا، جبکہ مکانات کی فہرست سازی کا پہلا مرحلہ کامیابی کے ساتھ مکمل ہو چکا ہے۔
سری نگر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امت شرما نے کہا کہ مردم شماری کا پہلا مرحلہ، جس میں مکانات کی فہرست سازی اور خود اندراج شامل تھا، ۳۰ جون کو جموں و کشمیر اور لداخ میں کامیابی کے ساتھ مکمل ہوا۔
شرما نے کہا، ’’پہلا مرحلہ دونوں مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں سو فیصد کامیابی کے ساتھ مکمل ہوا ہے۔ اب ہم مردم شماری کے دوسرے اور سب سے اہم مرحلے کی تیاری کر رہے ہیں، جس میں ہر گھر کے ہر فرد کی تفصیلات جمع کی جائیں گی۔‘‘
سی پی سی او نے بتایا کہ پہلے مرحلے میں رہائشی مکانات، بنیادی سہولیات، بجلی، پینے کے پانی، انٹرنیٹ اور گاڑیوں سمیت ۳۳ سوالات پر مشتمل معلومات جمع کی گئی تھیں، جبکہ دوسرے مرحلے میں سوالات براہ راست آبادی اور ہر فرد سے متعلق ہوں گے تاکہ درست اور جامع اعداد و شمار حاصل کیے جا سکیں۔
شرما نے بتایا کہ مردم شماری کے دوسرے مرحلے کا آغاز جموں و کشمیر کے ۱۶ جزوی برف پوش اضلاع کے تقریباً ۱۱۰۰ دیہات سے کیا جائے گا، جہاں موسم سرما کے باعث مردم شماری پہلے کرائی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ بانڈی پورہ کےگریز اور کشتواڑ کے پاڈر سمیت دیگر برف پوش علاقوں میں ستمبر کے دوران مردم شماری کی جائے گی۔
ان علاقوں کے رہائشی ۱۷ ؍اگست سے ۳۱ اگست تک آن لائن سیلف انیومریشن کی سہولت سے استفادہ کر سکیں گے، جس کے بعد یکم سے ۳۰ ستمبر تک مردم شماری کا عمل گھر گھر جا کر مکمل کیا جائے گا۔
شرما نے کہا کہ یہ مردم شماری لداخ کے لیے خصوصی اہمیت رکھتی ہے کیونکہ ۲۰۱۹ میں مرکز کے زیر انتظام علاقہ بننے کے بعد یہ پہلی آزاد مردم شماری ہوگی۔
سی پی سی او نے کہا کہ چونکہ پورا لداخ برف پوش علاقہ قرار دیا گیا ہے، اس لیے وہاں مردم شماری ستمبر ہی میں مکمل کر لی جائے گی اور لداخ ملک کا پہلا ریاستی یا مرکز کے زیر انتظام علاقہ ہوگا جہاں مردم شماری کا عمل مکمل ہوگا۔
شرما نے بتایا کہ لداخ کے لیے مردم شماری کی حوالہ تاریخ یکم اکتوبر ۲۰۲۶ کی نصف شب مقرر کی گئی ہے، جبکہ جموں و کشمیر کے باقی علاقوں میں مردم شماری فروری ۲۰۲۷ میں مکمل ہوگی اور اس کی حوالہ تاریخ یکم مارچ ۲۰۲۷ کی نصف شب ہوگی۔
چیف پرنسپل مردم شماری افسر نے بتایا کہ آبادی کی مردم شماری کے لیے حتمی سوالنامہ مرکزی حکومت کی منظوری کے بعد آئندہ چند روز میں جاری کیا جائے گا۔انہوں نے کہا، ’’جیسے ہی سوالنامہ نوٹیفائی ہوگا، تمام سوالات کی تفصیلات عوام کے ساتھ شیئر کی جائیں گی۔‘‘
سی پی سی او نے ذرائع ابلاغ سے بھی اپیل کی کہ وہ عوام میں بیداری پیدا کریں تاکہ مردم شماری کے آغاز سے قبل لوگ پوری طرح تیار رہیں۔
شرما نے مردم شماری کے درست اعداد و شمار کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہر خاندان اپنے تمام افراد کی صحیح معلومات فراہم کرے۔انہوں نے کہا، ’’اگر کسی گھر میں ۱۰ افراد ہیں تو تعداد بھی ۱۰ ہی درج کی جائے، نہ آٹھ اور نہ بارہ، کیونکہ یہ اعداد و شمار قومی منصوبہ بندی کی بنیاد بنتے ہیں۔‘‘انہوں نے کہا کہ بجلی، پانی، راشن، اسپتالوں اور دیگر ترقیاتی منصوبوں کی منصوبہ بندی مردم شماری کے اعداد و شمار کی بنیاد پر کی جاتی ہے۔
سی پی سی اونے مردم شماری کو ملک کا ’’قومی بنیادی ڈیٹا بیس‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے حاصل ہونے والی معلومات آئندہ ۱۰ سے ۱۵ برس تک پالیسی سازی اور ترقیاتی منصوبہ بندی میں رہنمائی فراہم کریں گی۔ انہوں نے عوام سے مردم شماری میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے اور درست معلومات فراہم کرنے کی اپیل کی۔
۔۔۔۔۔
(ندائے مشرق خبر)










