سرینگر؍۵؍ اگست
جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے بدھ کے روز نیشنل کانفرنس اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی جانب سے خصوصی حیثیت کی بحالی کے مطالبے پر کیے گئے احتجاج کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ’کوئی احتجاج نہیں دیکھا‘۔
ایک صحافی کی جانب سے نیشنل کانفرنس (این سی) اور پی ڈی پی کے احتجاج کے بارے میں سوال پر لیفٹیننٹ گورنر نے کہا’’میں نے کوئی احتجاج نہیں دیکھا۔ اگر دیکھوں گا تو آپ سے اس کے بارے میں بات کروں گا‘‘۔
سنہا نے کہا کہ۵؍اگست۲۰۱۹ ، جس روز آرٹیکل۳۷۰؍اور۳۵؍اے کو منسوخ کیا گیا، جموں و کشمیر میں ’امتیازی نظام کے خاتمے‘ کا دن تھا۔انہوں نے کہا’’میرے خیال میں یہ دن اس لیے بھی اہم ہے کہ امتیازی نظام کے خاتمے کے حوالے سے اس کی بڑی تاریخی اہمیت ہے‘‘۔
لیفٹیننٹ گورنر نے اس موقع پر دہشت گردی کے متاثرین کے اہلِ خانہ میں سرکاری ملازمتوں کے تقرری نامے بھی تقسیم کیے۔
بعد ازاں ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر اپنے پیغام میں انہوں نے کہا’’آج جموں و کشمیر کے لیے ایک تاریخی موقع ہے۔ میں دہشت گردوں کے ہاتھوں شہید ہونے والے بے گناہ شہریوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتا ہوں اور ان خاندانوں کو سلام پیش کرتا ہوں جنہوں نے برسوں کے کرب اور انتظار کے بعد آج تقرری نامے حاصل کیے ہیں، جو ان کے وقار اور روزگار کی بحالی کی علامت ہیں‘‘۔
ایل جی نے مزید کہا’’ہم دہشت گردی کے پورے نیٹ ورک کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے، اس کے مرتکبین اور معاونین کو انصاف کے کٹہرے میں لانے اور جموں و کشمیر کے ہر شہری کو امن، مساوات اور امید بھری زندگی فراہم کرنے کے لیے پوری طرح پُرعزم ہیں‘‘۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا’’وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں۲۰۱۹ میں امتیازی سلوک کے سائے ختم ہوئے، جس کے نتیجے میں سماجی انصاف اور ہمہ گیر ترقی کے ایک نئے دور کا آغاز ہوا۔ آج جموں و کشمیر نئے اعتماد کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے اور ہمہ جہت ترقی امن اور خوشحالی کو فروغ دے رہی ہے۔‘‘
۔۔۔۔۔۔
ایجنسیاں










