اگر بھارت جیسے ترقی پذیر ممالک نے بروقت اقدامات کیے تو ایک دہائی میں وہ کامیابیاں حاصل کر سکتے ہیں جن میں صدی لگ سکتی تھی‘
سرینگر؍۵؍اگست
ورلڈ بینک نے کہا ہے کہ اگر بھارت جیسے ترقی پذیر ممالک بروقت اور درست حکمت عملی اختیار کریں تو مصنوعی ذہانت (اے آئی) انہیں وہ ترقی حاصل کرنے میں مدد دے سکتی ہے جس کے لیے روایتی حالات میں ایک صدی درکار ہوتی۔ ورلڈ بینک کے مطابق ترقی پذیر ممالک کے لیے اے آئی کا سب سے بڑا فائدہ ملازمتوں کا خاتمہ نہیں بلکہ کارکنوں کی صلاحیت اور پیداواری استعداد میں اضافہ ہے۔
منگل کو جاری ہونے والی ورلڈ ڈیولپمنٹ رپورٹ۲۰۲۶ میں کہا گیا ہے کہ ترقی یافتہ ممالک میں موجود ملازمتوں کو جنریٹو اے آئی سے خودکار (آٹومیٹ) ہونے کا خطرہ ترقی پذیر ممالک کے مقابلے میں تین گنا سے بھی زیادہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق کم اور متوسط آمدنی والے ممالک میں صرف۴ء۵ فیصد موجودہ ملازمتیں اس خطرے سے دوچار ہیں، جبکہ ترقی یافتہ ممالک میں یہ شرح۱۴ء۲ فیصد ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ترقی پذیر معیشتوں میں۱۶ء۲ فیصد ملازمتوں کی پیداواری صلاحیت اے آئی کی مدد سے نمایاں طور پر بڑھ سکتی ہے، جو ترقی یافتہ ممالک کی متوقع۱۸ء۷ فیصد شرح کے قریب ہے۔ رپورٹ کے مطابق ترقی پذیر ممالک کے لیے اصل موقع کارکنوں کی جگہ مشینوں کو لانا نہیں بلکہ ان کی صلاحیتوں میں اضافہ کرنا ہے۔
ورلڈ بینک گروپ کے سینئر نائب صدر اور چیف اکنامسٹ انڈرمت گل نے کہا’’مصنوعی ذہانت نے ترقی پذیر معیشتوں کو ایک سنہری موقع فراہم کیا ہے اور انہیں اس سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے‘‘۔
گل نے کہا کہ ان ممالک کو اے آئی سے فائدہ اٹھانے کے لیے نہ تو بہت بڑے ماڈلز اور نہ ہی مہنگے ڈیٹا سینٹروں کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق اگر مقامی ضروریات کے مطابق کم لاگت والے اے آئی ٹولز کو اپنایا جائے تو لاکھوں لوگوں تک بہتر طبی سہولتیں، تعلیم، عدالتی خدمات اور زرعی مشاورت پہنچائی جا سکتی ہے۔
سینئر نائب صدر اور چیف اکنامسٹ نے خبردار کیا کہ اس حوالے سے جلد اقدام کرنا ضروری ہے کیونکہ اے آئی، بجلی اور انٹرنیٹ جیسی سابقہ عمومی ٹیکنالوجیز کے مقابلے میں کہیں زیادہ تیزی سے پھیل رہی ہے اور مقامی حالات کے مطابق خود کو ڈھالنے کی زیادہ صلاحیت رکھتی ہے۔
بھارت کے بارے میں رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بڑے اے آئی ماڈلز یا مہنگے ڈیٹا سینٹروں پر توجہ دینے کے بجائے مقامی زبانوں اور مقامی ضروریات کے مطابق کم لاگت والے اے آئی نظام اختیار کر کے زیادہ عملی فوائد حاصل کیے جا سکتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق کاروباری اداروں میں بھی اے آئی کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ ایک سروے کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ بھارت، کینیا، میکسیکو، نائیجیریا اور تھائی لینڈ سمیت مختلف ممالک میں پانچ سے زائد ملازمین رکھنے والی تقریباً ہر پانچ میں سے ایک کمپنی نے حال ہی میں اپنے کام کاج میں اے آئی چیٹ بوٹس کا استعمال کیا ہے۔
تاہم ورلڈ بینک نے خبردار کیا کہ حکومتوں کو اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ مصنوعی ذہانت کا استعمال ذمہ دارانہ انداز میں ہو۔ رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ حکومتیں ذمہ دارانہ اے آئی طریقہ کار کی حوصلہ افزائی کریں، ضرورت پڑنے پر موجودہ قوانین کے ذریعے ممکنہ نقصانات کا تدارک کریں، شہریوں کی نجی معلومات کے تحفظ کو یقینی بنائیں اور اے آئی پر مبنی فیصلوں میں تعصب سے بچنے کے اقدامات کریں تاکہ عوام کا اعتماد برقرار رہے۔
ورلڈ بینک کی رپورٹ بھارتی حکومت کے مؤقف سے بھی ہم آہنگ دکھائی دیتی ہے۔ منگل کو نئی دہلی میں خطاب کرتے ہوئے مرکزی سیکریٹری برائے اطلاعاتی ٹیکنالوجی ایس کرشنن نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کا مقصد انسانوں کی جگہ لینا نہیں بلکہ ان کی صلاحیتوں میں اضافہ کرنا ہونا چاہیے اور فیصلہ سازی کے عمل میں انسان کو ہر حال میں شامل رہنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت نئی نوعیت کی ملازمتیں پیدا کر سکتی ہے، طرز حکمرانی کو بہتر بنا سکتی ہے اور آئندہ دو دہائیوں میں بھارت کو ایک ترقی یافتہ ملک بنانے کے ہدف کے حصول میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
رپورٹ میں مصنوعی ذہانت کو ترقی پذیر ممالک کے لیے معاشی ترقی کا ایک اہم ذریعہ قرار دیا گیا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ان میں سے کئی ممالک گزشتہ کئی دہائیوں کی کمزور ترین معاشی نمو کا سامنا کر رہے ہیں۔ تاہم رپورٹ میں یہ بھی خبردار کیا گیا ہے کہ یہ فوائد خود بخود حاصل نہیں ہوں گے۔
ورلڈ بینک نے نشاندہی کی کہ بہت سے ممالک کے پاس اب بھی وہ بنیادی سہولتیں موجود نہیں ہیں جو اے آئی سے مکمل فائدہ اٹھانے کے لیے ضروری ہیں، جن میں قابل اعتماد بجلی، تیز رفتار انٹرنیٹ، ہنرمند افرادی قوت، معیاری ڈیٹا اور مضبوط ادارے شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اگر ان بنیادی خامیوں کو دور نہ کیا گیا تو مصنوعی ذہانت ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک کے درمیان فرق مزید بڑھا سکتی ہے اور خود ترقی پذیر ممالک کے اندر بھی عدم مساوات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
اس صورتحال سے بچنے کے لیے ورلڈ بینک نے مرحلہ وار حکمت عملی اختیار کرنے کی سفارش کی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ممالک کو پہلے سے دستیاب اے آئی ٹولز کو اپنانا چاہیے، پھر انہیں مقامی ضروریات کے مطابق ڈھالنا چاہیے اور اس کے بعد ہی جدید اے آئی نظام تیار کرنے میں سرمایہ کاری کرنی چاہیے۔ رپورٹ میں خبردار کیا گیا کہ دنیا کے جدید ترین اے آئی نظاموں کی فوری نقل کرنے کی کوشش مہنگی بھی ثابت ہو سکتی ہے اور مؤثر بھی نہیں ہوگی۔
گورو نیر، جو ورلڈ ڈیولپمنٹ رپورٹ۲۰۲۶کے ڈائریکٹر ہیں، نے کہا’’درست فیصلے کرنے کے لیے وقت بہت محدود ہے۔ مصنوعی ذہانت نسلوں سے حل طلب مسائل کے حل کا ایک نادر موقع فراہم کرتی ہے۔ جو ترقی پذیر ممالک آج بجلی، انٹرنیٹ، مہارتوں اور مضبوط اداروں کی بنیاد رکھیں گے، وہ مستقبل میں اے آئی کو اپنے عوام کے فائدے کے لیے مؤثر انداز میں اپنا سکیں گے‘‘۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ مصنوعی ذہانت پہلے ہی کئی ترقی پذیر ممالک میں مختلف شعبوں میں استعمال ہو رہی ہے۔ اس ٹیکنالوجی کی مدد سے ڈاکٹر طبی تصاویر کا بہتر تجزیہ کر رہے ہیں، کسان فصلوں سے متعلق بہتر فیصلے لے رہے ہیں، کاروباری اداروں کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہو رہا ہے اور حکومتیں ٹیکس نظام، آفات سے نمٹنے، صحت اور تعلیم جیسی عوامی خدمات کو مزید مؤثر بنا رہی ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔(ندائے مشرق ویب ڈیسک)










