وزیر اعظم کی ’ووکل فار لوکل‘اپنانے کی تلقین کہا مقامی خاندانوں اور نوجوانوں کے روزگار کو تقویت ملے گی‘ یاتریوں کیلئےپانچ عہد بھی تجویز
ویب ڈیسک
سرینگر/۳ جولائی
وزیر اعظم نریندر مودی نے سالانہ شری امرناتھ یاترا پر جانے والے عقیدت مندوں سے اپیل کی ہے کہ وہ جموں و کشمیر کی مقامی معیشت کو مضبوط بنانے کے لیے اپنے سفری اخراجات کا کم از کم۱۰ فیصد حصہ مقامی مصنوعات کی خریداری پر صرف کریں۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام سے مقامی خاندانوں اور نوجوانوں کے روزگار کو تقویت ملے گی۔
امرناتھ یاتریوں کے نام اپنے خصوصی پیغام میں وزیر اعظم نے عقیدت مندوں سے یاترا کے دوران ’ووکل فار لوکل‘ کے جذبے کو اپنانے کی اپیل کرتے ہوئے کہا’’آئیے ہم اپنے سفری اخراجات کا کم از کم۱۰ فیصد مقامی مصنوعات کی خریداری پر خرچ کریں۔ اس سے جموں و کشمیر کے خاندانوں اور نوجوانوں کی روزی روٹی مضبوط ہوگی‘‘۔
وزیراعظم نے جموں و کشمیر کے عوام کی مہمان نوازی کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ بابا برفانی کے مقدس دربار کی یاترا یہاں کے عوام کی گرمجوشی اور زائرین کی خدمت کے جذبے کی عکاسی کرتی ہے۔
مودی نے کہا’’بابا برفانی کے مقدس دربار کی یہ یاترا جموں و کشمیر کی مہمان نوازی اور مقامی لوگوں کی زائرین کے تئیں خدمت کے جذبے کی بھی آئینہ دار ہے‘‘۔
وزیراعظم نے کہا کہ یاترا کے ہر مرحلے پر ہزاروں مقامی باشندے عقیدت مندوں کا پرتپاک استقبال کرتے ہیں اور ان کی مدد کرتے ہیں۔انہوں نے کہا’’گھوڑوں کے مالکان، پٹھو، دکاندار اور یاترا کے راستے سے وابستہ دیگر افراد ملک کے مختلف حصوں سے آنے والے زائرین کی بے لوث خدمت کرتے ہیں۔ خدمت کا یہی جذبہ ہماری سناتن ثقافت اور ‘سروے بھونتو سکھنہ (سب خوش رہیں) کے نظریے کا زندہ اظہار ہے‘‘۔
مودی نے امرناتھ یاترا میں شرکت کو ’ایک عظیم سعادت‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ سالانہ یاترا بھارت کی روحانی وراثت کی ایک پائیدار روایت ہے۔انہوں نے کہا، ’’جموں و کشمیر میں مقدس امرناتھ یاترا میں شرکت اپنے آپ میں ایک عظیم سعادت ہے‘‘۔
وزیر اعظم نے کہا کہ ہر سال دنیا بھر سے سناتن روایت پر یقین رکھنے والے لاکھوں عقیدت مند جموں و کشمیر آتے ہیں۔ مختلف ریاستوں، زبانوں اور روایات سے تعلق رکھنے والے لوگ بھگوان مہادیو کے درشن کی مشترکہ آرزو کے ساتھ یہ مقدس سفر مکمل کرتے ہیں۔
مودی نے کہا کہ امرناتھ یاترا ’بھارت کے تنوع میں وحدت‘ کی ایک شاندار مثال ہے اور انہیں یقین ہے کہ اس سال کی یاترا سناتن دھرم، بھارت کی ثقافتی یکجہتی اور بے لوث خدمت کی روایت کے ایک عظیم جشن کی صورت اختیار کرے گی۔
مقامی کاروبار کی حوصلہ افزائی کے ساتھ ساتھ وزیراعظم نے یاتریوں سے یاترا کے دوران پانچ عہد کرنے کی بھی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ زائرین یاترا کے راستے میں صفائی کا خاص خیال رکھیں، انتظامیہ اور سیکورٹی اداروں کی ہدایات پر سختی سے عمل کریں، مقامی مصنوعات خریدیں، یاترا کے اختتامی دن جو راکھی بندھن کے موقع پر ہوگا’ایک پیڑ ماں کے نام‘ مہم کے تحت اپنے بہن بھائیوں کو ایک پودا تحفے میں دیں، اور پورے سال ’نیشن فرسٹ‘ کے جذبے پر کاربند رہیں۔
وزیراعظم نے یاترا کے انتظامات میں مصروف تمام اداروں کی خدمات کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا’’کئی دہائیوں سے شری امرناتھ جی شرائن بورڈ اور جموں و کشمیر حکومت خدمت کے جذبے کے ساتھ انتہائی مؤثر انداز میں اس یاترا کا انتظام سنبھال رہے ہیں‘‘۔
مودی نے بھارتی فوج، سی آر پی ایف، جموں و کشمیر پولیس، آئی ٹی بی پی، بی ایس ایف، این ڈی آر ایف، طبی عملے، ڈاکٹروں، صفائی کارکنوں، انتظامی افسران اور رضاکاروں کی خدمات کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا، جو یاترا کے کامیاب انعقاد اور زائرین کی خدمت میں مصروف ہیں۔
آخر میں وزیراعظم نے تمام یاتریوں کی سلامتی، خیر و عافیت اور کامیاب یاترا کے لیے دعا کرتے ہوئے کہا’’میری دعا ہے کہ آپ کی یاترا محفوظ، مبارک اور نئی توانائی، تازہ ولولے اور روحانی قوت سے بھرپور ثابت ہو۔‘‘










