پنجاب حکومت نے مال مویشی بردار گاڑیوں پر۴ فیصد محصول واپس لیا‘متعدد علاقوں میں قصابوں نے دکانیں کھول دیں
ندائے مشرق خبر
سرینگر/۳ جولائی
جموں کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی مداخلت کے بعد پنجاب حکومت نے ریاست سے گزرنے والی مال مویشی بردار گاڑیوں پر عائد۴ فیصد محصول واپس لے لیا ہے، جس کے بعد وادی میں پیدا ہونے والا مٹن کا بحران ختم ہوگیا ہے۔
آل کشمیر ہول سیل اینڈ ریٹیل مٹن ڈیلرز ایسوسی ایشن کے صدر خضر محمد ریگو نے جمعہ کو اعلان کیا کہ کشمیری گوشت تاجروں پر عائد کیے گئے مبینہ ’غیر قانونی‘ محصول کا معاملہ حل ہو گیا ہے۔
واضح رہے کہ پنجاب حکومت کی جانب سے مال مویشی لے جانے والی گاڑیوں پر۴فیصد محصول عائد کیے جانے کے بعد کشمیر میں مٹن کی شدید قلت پیدا ہوگئی تھی۔
خضر محمد ریگو نے کہا’’پنجاب حکومت کی جانب سے یہ محصول واپس لینے کے بعد مسئلہ حل ہو گیا ہے‘‘۔انہوں نے بتایا کہ ایسوسی ایشن نے ایک رابطہ کمیٹی تشکیل دی تھی، جس کے ارکان گزشتہ دس روز سے پنجاب میں موجود تھے اور انہوں نے وہاں کی حکومت کے مختلف حکام سے ملاقاتیں کیں۔
ریگو نے کہا’’الحمدللہ پنجاب حکومت نے یہ تسلیم کیا کہ یہ محصول غیر قانونی تھا، جس کے بعد اسے واپس لے لیا گیا‘‘۔ انہوں نے اس معاملے میں تعاون کرنے والے سیاسی رہنماؤں، عوام اور ذرائع ابلاغ کا بھی شکریہ ادا کیا۔
ادھرکشمیر مٹن ڈیلرز ایسوسی ایشن (کے ایم ڈی اے) نے بھی جمعہ کو اعلان کیا کہ پنجاب حکومت کی مداخلت کے بعد مال مویشی تاجروں کی جاری ہڑتال ختم کر دی گئی ہے۔
کے ایم ڈی اے کے جنرل سیکریٹری‘ معراج الدین نے بتایا کہ ایسوسی ایشن کو اطلاع دی گئی ہے کہ پنجاب حکومت نے پولیس کو مال مویشی بردار گاڑیوں کی بلا رکاوٹ نقل و حرکت یقینی بنانے کی ہدایت جاری کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مویشی منڈیوں کو بھی دوبارہ سپلائی بحال کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔
جنرل سیکریٹری نے کہا’’ہم نے ہڑتال ختم کر دی ہے۔ ہمیں بتایا گیا ہے کہ پنجاب پولیس کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ہماری گاڑیوں کو چیک پوسٹوں پر نہ روکے۔ مویشی منڈیوں کو بھی سپلائی دوبارہ شروع کرنے کے لیے کہا گیا ہے‘‘۔تاہم معراج الدین نے کہا کہ ایسوسی ایشن باضابطہ تحریری احکامات کی منتظر ہے، جس کے بعد زمینی صورتحال کا جائزہ لیا جائے گا۔
معراج الدین نے کہا’’اب ہم باضابطہ احکامات کا انتظار کر رہے ہیں۔ اس کے بعد دیکھیں گے کہ زمینی سطح پر معاملات کس طرح آگے بڑھتے ہیں اور آیا ہدایات پر پوری طرح عمل درآمد ہوتا ہے یا نہیں‘‘۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ آنے والے دنوں میں جموں و کشمیر کے لیے مال مویشی کی ترسیل معمول کے مطابق بحال ہو جائے گی۔
قابل ذکر ہے کہ کئی روز سے جاری ہڑتال کے باعث پنجاب سے جموں و کشمیر بھیڑیوں کی ترسیل متاثر ہوئی تھی، جس سے بالخصوص شادیوں کے موجودہ سیزن کے دوران وادی میں گوشت کی ممکنہ قلت کے خدشات پیدا ہو گئے تھے۔
دریں اثنا نیشنل کانفرنس کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ تعطل ختم ہو گیا ہے۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی بروقت مداخلت کو سراہتے ہوئے کہا کہ پنجاب کے ساتھ مٹن بحران کے حل میں ان کی فوری کوششیں قابل تحسین ہیں۔
ترجمان کے مطابق شادیوں کے موسم میں عوام کو بالآخر راحت ملی ہے اور عمر عبداللہ کی کوششوں سے کشمیر کے لیے مال مویشی کی سپلائی دوبارہ بحال ہونے کی راہ ہموار ہوئی ہے، جس سے لوگوں کو بڑی راحت نصیب ہوگی۔
کشمیر کے گوشت تاجروں نے اس معاملے کو وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سمیت وادی کے دیگر سیاسی رہنماؤں کے سامنے بھی اٹھایا تھا۔
پیر کے روز وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا تھا کہ انہوں نے پنجاب کے وزیر اعلیٰ بھگونت مان سے اس معاملے پر بات کرتے ہوئے فوری مداخلت کی درخواست کی ہے۔
عمر عبداللہ نے بھگونت مان کو بتایا تھا کہ جموں و کشمیر جانے والی مال مویشی بردار گاڑیوں کو مویشی میلوں سے وابستہ بعض ٹھیکیدار گروپ راستے میں روک رہے ہیں اور تمام قانونی دستاویزات اور اجازت نامے موجود ہونے کے باوجود ان سے غیر مجاز فیس وصول کی جا رہی ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا تھا’’میں نے پنجاب حکومت سے فوری مداخلت کی درخواست کی ہے تاکہ پنجاب سے گزرنے والی مال مویشی بردار گاڑیوں کی بلا رکاوٹ نقل و حرکت یقینی بنائی جا سکے‘‘۔انہوں نے واضح کیا تھا ’’یہ گاڑیاں صرف شاہراہ استعمال کر رہی ہیں، اس لیے جموں و کشمیر کے گوشت تاجروں سے غیر مجاز وصولی کا کوئی جواز نہیں بنتا‘‘۔
وزیراعلیٰ نے گزشتہ ہفتے بھگونت مان کو لکھا گیا اپنا خط بھی سوشل میڈیا پر جاری کیا تھا۔خط میں انہوں نے کہا تھا کہ ایسی رکاوٹوں سے نہ صرف غیر ضروری تاخیر ہوتی ہے بلکہ ٹرانسپورٹروں کو مالی نقصان اٹھانا پڑتا ہے، جانوروں کی دیکھ بھال بھی متاثر ہوتی ہے اور اس کے منفی اثرات جموں و کشمیر میں گوشت کی قیمتوں اور صارفین پر مرتب ہوتے ہیں۔
عمر عبداللہ نے بتایا تھا کہ محکمہ خوراک، شہری رسدات و امور صارفین کی ایک داخلی کمیٹی نے اس معاملے کا جائزہ لیا ہے۔انہوں نے کہا تھا کہ کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق ٹرانسپورٹروں کو بغیر کسی واضح قانونی جواز کے دورانِ سفر فی گاڑی بھاری رقم ادا کرنے پر مجبور کیا جا رہا تھا، حالانکہ مال مویشی کی نقل و حمل جی ایس ٹی سے مستثنیٰ ہے۔ اس طرح کی وصولی مویشیوں کی تجارت پر اضافی مالی بوجھ ڈال رہی تھی، جس کے نتیجے میں جموں و کشمیر میں گوشت کی قیمتیں بڑھ رہی تھیں اور صارفین متاثر ہو رہے تھے۔
وزیراعلیٰ نے اپنے خط میں اس بات پر بھی زور دیا تھا کہ پنجاب اور جموں و کشمیر کے درمیان دوستی، باہمی تعاون اور معاشی روابط کی ایک طویل روایت رہی ہے۔انہوں نے لکھا تھا ’’اگر ایسی کارروائیاں واقعی ہو رہی ہیں تو وہ دونوں ریاستوں کے درمیان روایتی تعاون کے جذبے کے منافی ہیں اور اس سے تجارتی برادری میں بجا طور پر تشویش پیدا ہوئی ہے۔‘‘










