’یہ الٹا چور کوتوال کو ڈانٹنےکے مترادف ہے‘ ثبوت کے ساتھ ایک بھی تقرری دکھائیں، میںجواب دینے کو تیار ہوں‘
ویب ڈیسک
سرینگر؍۲۶جون
جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کے روز اپنی حکومت پر بیک ڈور تقرریوں کے الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے انہیں ’الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے‘ کی مثال قرار دیا۔
وزیر اعلیٰ نے سابق پی ڈی پی-بی جے پی مخلوط حکومت پر خود غیر قانونی تقرریاں کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے اپنے ناقدین کو کھلا چیلنج دیا کہ وہ اپنے الزامات کے حق میں ثبوت پیش کریں۔
سری نگر میں عاشورہ کی تقریبات میں شرکت کے بعد ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ جو لوگ آج یہ الزامات لگا رہے ہیں، انہی کے دورِ حکومت میں بیک ڈور تقرریاں کی گئیں۔
عمرعبداللہ نے کہا، ’’وہ ثبوت کے ساتھ الزام لگائیں۔ ہماری حکومت کے دور میں اگر ایک بھی امیدوار کا نام بتا دیں جسے بیک ڈور کے ذریعے ملازمت دی گئی ہو تو ہم وضاحت دینے کے لیے تیار ہیں۔‘‘
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ وہ ہر اس الزام کا جواب دینے کے لیے تیار ہیں جو ثبوت کے ساتھ پیش کیا جائے۔
عمر عبداللہ نے ان الزامات کو ’’بے بنیاد‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت جلد ہی اس معاملے پر تفصیلی جواب عوام کے سامنے رکھے گی۔
وزیر اعلیٰ نے کہا، ’’ایک کہاوت ہے،’الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے‘۔ جن لوگوں نے سب سے زیادہ غیر قانونی اور بیک ڈور تقرریاں کیں، آج وہی ہم پر ایسے الزامات لگا رہے ہیں۔‘‘
عمرعبداللہ نے محبوبہ مفتی کی قیادت والی جموں و کشمیر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کا حوالہ دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ ان کے ماموں زاد بھائی( سرتاج مدنی کے بیٹے) کو بھی بیک ڈور کے ذریعے تقرری دی گئی تھی، جنہیں بعد میں عدالت کی ہدایت پر ہٹا دیا گیا۔
وزیر اعلیٰ نے کہا، ’’کیا ہم یہ بھول سکتے ہیں کہ جموں و کشمیر بینک میں سینکڑوں بیک ڈور تقرریاں کی گئیں، جن کی تحقیقات آج بھی تحقیقاتی ایجنسیاں کر رہی ہیں؟ اگر میں پی ڈی پی-بی جے پی حکومت کے دور کی بیک ڈور تقرریاں گنوانا شروع کروں تو آپ کے پاس انہیں گننے کے لیے وقت کم پڑ جائے گا۔‘‘
عمر عبداللہ نے ایک بار پھر کہا کہ اگر پی ڈی پی اپنے الزامات کے حق میں ثبوت پیش کرے تو وہ جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔انہوں نے کہا، ’’وہ اپنے الزام کے حق میں صرف ایک ثبوت لے آئیں، میں جواب دینے کے لیے تیار ہوں۔ صرف ایک ایسے امیدوار کا نام بتا دیں جسے بیک ڈور کے ذریعے ملازمت دی گئی ہو، ہم وضاحت پیش کریں گے۔ لیکن یہاں ان بے بنیاد الزامات کا تفصیلی جواب نہیں دیں گے۔‘‘
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حکومت نے اس معاملے سے متعلق تمام معلومات جمع کر لی ہیں اور اگر خدا نے چاہا تو آئندہ ایک یا دو دن میں ان کے دو سینئر وزراء پریس کانفرنس کر کے عوام کے سامنے پوری حقیقت رکھیں گے۔
واضح رہے کہ اس ہفتے کے اوائل میں محبوبہ مفتی نے الزام عائد کیا تھا کہ موجودہ نیشنل کانفرنس حکومت نے۲۵ ہزار بیک ڈور تقرریاں کی ہیں۔
دریں اثنا، عمر عبداللہ نے سری نگر میں عاشورہ کے جلوس میں بھی شرکت کی، جہاں اسلامی مہینے محرم الحرام کی دسویں تاریخ کے موقع پر سینکڑوں عزاداروں نے جلوس میں حصہ لیا۔
وزیر اعلیٰ نے شہرِ خاص کے زڈی بل علاقے میں عزاداروں کے ساتھ شرکت کی اور نیشنل کانفرنس کی جانب سے قائم کردہ سبیل پر شرکائے جلوس میں شربت تقسیم کیا۔
عمرعبداللہ نے کہا، ’’ہم سب عاشورہ کی اہمیت سے واقف ہیں۔ ہم حضرت امام حسینؓ کی عظیم قربانی اور اس قربانی کے پیغام کو یاد کرتے ہیں۔ جب لوگ ان تعلیمات کو فراموش کر دیتے ہیں تو تباہی اور بربادی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔‘‘
وزیر اعلیٰ نے امید ظاہر کی کہ وہ دن زیادہ دور نہیں جب عاشورہ کا جلوس اپنی اصل روایتی شاہراہ پر دوبارہ نکالا جائے گا۔انہوں نے کہا، ’’اس جلوس کو اس کے پرانے راستے پر بحال کرنے کے لیے ہم نے پہلے بھی کئی کوششیں کی ہیں، اگرچہ ہمیں مکمل کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔ ہم آئندہ بھی اپنی کوششیں جاری رکھیں گے۔‘‘










