ماضی کو بھلا کر مستقبل کی جانب دیکھنے کی ضرورت ‘بہتر سہولیات اور مندروں کے قریب سرائیں تعمیر کی جائیں:محبوبہ
ویب ڈیسک
سرینگر؍۲۴ جون
پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے بدھ کے روز کہا کہ بے گھر کشمیری پنڈتوں کی وادی واپسی کے سلسلے میں حکومت کے مقابلے میں کشمیری مسلمانوں اور پنڈتوں کا باہمی کردار زیادہ اہم ہے۔
اننت ناگ ضلع میں نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے کہا، ’’میرا خیال ہے کہ اس معاملے میں حکومت کا کردار کم اور ہمارے مسلمان اور پنڈت بھائیوں کا مشترکہ کردار زیادہ اہم ہے۔ ہم سب ایک ہیں، الگ نہیں ہیں۔ میں اپنے کشمیری پنڈت بھائیوں سے درخواست کرتی ہوں کہ وہ ماضی کی طرف نہ دیکھیں بلکہ مستقبل کی جانب نگاہ رکھیں۔‘‘
سابق وزیر اعلیٰ جنوبی کشمیر کے ویر ناگ علاقے کے اوموہ گاؤں میں ایک کشمیری پنڈت خاندان کے بچے کی ’میکھل‘ تقریب میں شرکت کے لیے گئی تھیں، جو ان کے آبائی گاؤں میں منعقد ہوئی۔
محبوبہ مفتی نے معروف کشمیری پنڈت ڈاکٹروں ڈاکٹر یو کول، ڈاکٹر سشیل رازدان اور ڈاکٹر سمیر کول کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہ کشمیر آکر مریضوں کا علاج کرتے ہیں تاکہ لوگوں کو علاج کے لیے وادی سے باہر نہ جانا پڑے۔
محبوبہ نے کہا، ’’جب کوئی کشمیری مسلمان ملک کے کسی بھی حصے میں کسی کشمیری پنڈت ڈاکٹر سے ملتا ہے تو وہ اسے گرمجوشی سے گلے لگاتا ہے۔ وہ ڈاکٹر یہ نہیں کہتا کہ چونکہ مریض کشمیری مسلمان ہے، اس لیے وہ اس کا علاج نہیں کرے گا یا اس سے کوئی شکایت رکھتا ہے۔‘‘
پی ڈی پی صدر نے کہا کہ نوجوان کشمیری پنڈت ڈاکٹروں اور دیگر نوجوانوں کو بھی وادی واپس آنا چاہیے۔ ’’ہمیں ماضی کو بھلا کر مستقبل کی طرف دیکھنا ہوگا۔‘‘
محبوبہ نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ وادی میں مقیم کشمیری پنڈتوں، بشمول وزیر اعظم پیکیج کے تحت تعینات ملازمین، کو بہتر سہولیات فراہم کرے۔
انہوں نے کہا، ’’جموں کے جگتی علاقے میں رہنے والے پنڈتوں کو مشکلات کا سامنا ہے، لیکن مجھے خوشی ہے کہ ہمارے ایک پنڈت بھائی اپنے بیٹے کی تقریب کے لیے یہاں آئے۔ میری خواہش ہے کہ دوسرے پنڈت بھائی بھی اسی طرح وادی کا رخ کریں۔‘‘
محبوبہ نے وادی کے بڑے مندروں کے قریب بڑی سرائیں تعمیر کرنے کی بھی وکالت کی تاکہ کشمیری پنڈت آسانی کے ساتھ یہاں آکر قیام کر سکیں۔انہوں نے کہا، ’’صوفیوں اور بزرگوں کی سرزمین کشمیر ایک بار پھر کشمیری پنڈتوں کی موجودگی سے آباد اور خوشحال ہونی چاہیے۔‘‘(ایجنسیاں)
۔۔۔۔۔۔۔










