سرکاری اسکولوں کی اساتذہ کی تربیت اور ٹی ای ٹی پر وفاقی وزیر تعلیم سے سکینہ ایتو کی دہلی میں ملاقات
ملاقات کے دوران طلبہ اور نوجوانوں کی روزگار کے مواقع حاصل کرنے کی صلاحیت بڑھانے پر بھی تبادلہ خیال ہوا:پردھان
نئی دہلی؍۸جون
مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے پیر کے روز جموں و کشمیر کی وزیر تعلیم، صحت و طبی تعلیم اور سماجی بہبود سکینہ ایتو کے ساتھ ایک اہم اجلاس منعقد کیا، جس میں اساتذہ کی تربیت سے متعلق اداروں اور جموں و کشمیر میں تعلیمی شعبے کی پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
اجلاس کے دوران اساتذہ کی تربیت، تعلیمی اداروں کی ترقی، ہنرمندی کے فروغ اور دیگر اقدامات پر غور کیا گیا، جن کا مقصد جموں و کشمیر کے تعلیمی نظام کو مزید مضبوط بنانا ہے۔
دھرمیندر پردھان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں کہا کہ انہوں نے سکینہ ایتو کے ساتھ ایک مفید اور نتیجہ خیز ملاقات کی، جس میں جموں و کشمیر میں اساتذہ کی تربیت کے اداروں اور اسکولی و اعلیٰ تعلیمی اقدامات کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔
وفاقی وزیر تعلیم نے کہا کہ اجلاس میں اساتذہ کی تربیت، ادارہ جاتی ترقی، ہنرمندی کے فروغ اور دیگر اقدامات پر تفصیلی گفتگو ہوئی تاکہ جموں و کشمیر کے تعلیمی ماحولیاتی نظام کو مزید مستحکم بنایا جا سکے۔
پردھان نے کہا کہ ملاقات کے دوران طلبہ اور نوجوانوں کی روزگار کے مواقع حاصل کرنے کی صلاحیت بڑھانے اور ان کے لیے مزید مواقع پیدا کرنے کے اقدامات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
مرکزی وزیر تعلیم نے کہا کہ جموں و کشمیر میں داخلہ جات اور تعلیمی نتائج کے حوالے سے مثبت رجحانات حوصلہ افزا ہیں، جو تعلیمی شعبے میں جاری اصلاحات اور اقدامات کی کامیابی کی عکاسی کرتے ہیں۔
پردھان نے کہا کہ مرکزی حکومت اور جموں و کشمیر حکومت کے درمیان مسلسل تعاون کے ذریعے معیاری تعلیم تک رسائی کو مزید وسعت دینے، نوجوانوں کی روزگار کے مواقع بڑھانے اور طلبہ کے لیے بہتر امکانات پیدا کرنے کے عزم پر قائم ہیں۔
انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ دونوں حکومتوں کی مشترکہ کوششیں جموں و کشمیر کے تعلیمی شعبے کو نئی بلندیوں تک لے جانے میں اہم کردار ادا کریں گی۔
قابل ذکر ہے کہ وزیر تعلیم سکینہ ایتو نے گزشتہ روز کہا کہ حکومت نے جموں و کشمیر کے اساتذہ سے متعلق ٹیچر ایلیجیبلیٹی ٹیسٹ(ٹی ای ٹی) معاملے میں سپریم کورٹ میں نظرثانی درخواست دائر کر دی ہے اور اساتذہ کے مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام جاری رکھے ہوئے ہے۔
ایک بیان میں سکینہ ایتو نے کہا کہ حکومت نے اپنے وعدے کے مطابق اس معاملے میں تمام ضروری قانونی اقدامات اٹھائے ہیں اور نظرثانی درخواست سپریم کورٹ میں جمع کرا دی گئی ہے۔
ایتو نے کہا تھا’’جیسا کہ وعدہ کیا گیا تھا، سپریم کورٹ میں نظرثانی درخواست دائر کر دی گئی ہے۔ حکومت مسلسل اس معاملے کی پیروی کرتی رہی ہے اور ہمارے اساتذہ کے مفادات کے تحفظ کے لیے پوری طرح پُرعزم ہے‘‘۔
وزیر تعلیم کے مطابق حکومت نے ٹی ای ٹی معاملے کو ہمیشہ ذمہ داری اور سنجیدگی کے ساتھ لیا ہے اور صرف بات چیت تک محدود رہنے کے بجائے عملی اقدامات بھی کیے ہیں۔
ایتو نے کہا’’جموں و کشمیر کے اساتذہ سے متعلق ٹی ای ٹی مسئلے پر حکومت نے ہمیشہ ذمہ دارانہ اور فعال کردار ادا کیا ہے۔ ہم نے اس معاملے کو مسلسل اٹھایا اور اس کی مؤثر پیروی کے لیے ٹھوس اقدامات بھی کیے ہیں‘‘۔
وزیر تعلیم نے بتایا کہ حکومت نے پہلے ہی نظرثانی درخواست دائر کرنے کی منظوری دے دی تھی اور متعلقہ حکام کو قانونی کارروائی شروع کرنے کی ہدایت جاری کی گئی تھی۔
موصفہ نے مزید کہا کہ محکمہ قانون، انصاف اور پارلیمانی امور نے۲۶مئی۲۰۲۶کو جاری ایک مراسلے کے ذریعے اپنے اسٹینڈنگ کونسل کو سپریم کورٹ میں ضروری قانونی کارروائی انجام دینے کی ہدایت دی تھی۔
وزیر تعلیم نے کہا کہ حکومت اس سے قبل بھی اساتذہ کے حقوق اور مفادات کے تحفظ کے لیے اقدامات کرتی رہی ہے اور اس معاملے میں مثبت نتائج حاصل کرنے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔انہوں نے کہا’’ہم اپنے اساتذہ کے مفادات کے تحفظ کے لیے پوری طرح پُرعزم ہیں اور اس مقصد کے حصول کے لیے ہر ممکن قانونی اور انتظامی اقدام جاری رکھا جائے گا۔ــ‘‘
۔۔۔۔۔










