ہفتہ, جون 13, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home اداریہ

عوام انڈیا بلاک کو کیوں سنجیدہ لیں؟

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2026-06-09
in اداریہ
A A
آگ سے متاثرین کی امداد
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

 

دہلی میں پیر کے روز انڈیا بلاک کی اعلیٰ سطحی میٹنگ دو برس کے طویل وقفے کے بعد منعقد ہوئی۔ اس اجلاس میں کانگریس، ترنمول کانگریس، سماجوادی پارٹی، راشٹریہ جنتا دل، نیشنل کانفرنس، پی ڈی پی اور بائیں بازو کی جماعتوں سمیت۲۳ سیاسی جماعتوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔

بظاہر اس اجلاس کا مقصد اپوزیشن اتحاد کو ازسرنو فعال کرنا اور آئندہ انتخابی چیلنجز کے لیے مشترکہ حکمت عملی مرتب کرنا تھا، لیکن اس حقیقت کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کہ یہ میٹنگ ایسے وقت میں منعقد ہوئی ہے جب انڈیا بلاک کی کئی اہم اتحادی جماعتیں حالیہ اسمبلی انتخابات میں شکست کا سامنا کر چکی ہیں اور خود اتحاد کے اندر اختلافات کھل کر سامنے آچکے ہیں۔

متعلقہ

سیاحت اورسرینگر ہوائی اڈے کی مجوزہ بندش

پاکستان کے زیرِقبضہ کشمیر میں بڑھتا بحران:

حقیقت یہ ہے کہ انڈیا بلاک کی یہ میٹنگ جتنے سوالات کے جواب دینے کے لیے بلائی گئی تھی، اس سے کہیں زیادہ سوالات کھڑے کر گئی ہے۔ سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا ملک کے عوام اس اتحاد کو ایک سنجیدہ سیاسی متبادل کے طور پر دیکھتے ہیں؟ گزشتہ دو برسوں کے واقعات پر نظر ڈالی جائے تو اس سوال کا جواب نفی میں دکھائی دیتا ہے۔

انڈیا بلاک کی آخری باضابطہ میٹنگ یکم جون۲۰۲۴کو لوک سبھا انتخابات سے عین قبل ہوئی تھی۔ اس کے بعد ملک میں کئی اہم سیاسی، معاشی اور سماجی تبدیلیاں رونما ہوئیں۔ مختلف ریاستوں میں اسمبلی انتخابات ہوئے، بعض ریاستوں میں سیاسی صف بندیاں بدل گئیں، قومی سطح پر متعدد اہم معاملات زیر بحث آئے، لیکن انڈیا بلاک ایک مربوط اور فعال اپوزیشن اتحاد کے طور پر کہیں دکھائی نہیں دیا۔ اگر کوئی اتحاد واقعی ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت اور برسر اقتدار حکومت کا متبادل بننا چاہتا ہو تو اس سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ مسلسل عوامی مسائل پر مشترکہ موقف اختیار کرے، باقاعدگی سے اجلاس منعقد کرے اور اپنے اندرونی اختلافات کو پس پشت ڈال کر ایک واضح سیاسی وژن پیش کرے۔ انڈیا بلاک اس معیار پر پورا اترتا نظر نہیں آتا۔

اتحاد کی سب سے بڑی کمزوری اس کے اتحادیوں کے باہمی اختلافات ہیں۔ یہ اختلافات محض نظریاتی نہیں بلکہ سیاسی مفادات اور اقتدار کی کشمکش سے جڑے ہوئے ہیں۔ مغربی بنگال اس کی تازہ مثال ہے۔ ترنمول کانگریس کی حالیہ سیاسی مشکلات اور اندرونی دھڑے بندی نے ممتا بنرجی کو ایک بار پھر اپوزیشن اتحاد کی اہمیت کا احساس دلایا ہے۔ تاہم جب وہ اپنی ریاست میں مضبوط پوزیشن میں تھیں تب انہوں نے انڈیا بلاک کو فعال بنانے کے لیے کوئی غیر معمولی کوشش نہیں کی۔ یہی صورت حال دیگر علاقائی جماعتوں کی بھی رہی ہے۔ اکثر اتحادی جماعتیں قومی سطح پر اتحاد کی بات تو کرتی ہیں لیکن ریاستی سیاست میں ایک دوسرے کے خلاف صف آرا ہوجاتی ہیں۔

جموں و کشمیر میں۲۰۲۴کے اسمبلی انتخابات اس کی واضح مثال ہیں۔انڈیا بلاک کی دو حلیف جماعتیں نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی ایک دوسرے کی مد مقابل تھیں۔ یہی صورتحال کئی دیگر ریاستوں میں بھی دیکھی گئی جہاں انڈیا بلاک کے اتحادی انتخابی مفادات کے تحت ایک دوسرے کے خلاف میدان میں اترے۔ ایسے میں عوام کیلئےیہ سمجھنا مشکل نہیں کہ یہ اتحاد اصولوں کی بنیاد پر کم اور سیاسی مجبوریوں کی بنیاد پر زیادہ قائم ہے۔

اس کے برعکس بی جے پی ۱۲ برسوں سے ایک منظم، واضح اور مسلسل سیاسی بیانیہ پیش کرنے میں کامیاب رہی ہے۔ اس کی تنظیمی طاقت، قیادت کا تسلسل اور انتخابی حکمت عملی اسے دیگر جماعتوں پر برتری فراہم کرتی ہے۔ سیاسیات کا ایک بنیادی اصول ہے کہ کسی بھی حکمران جماعت کا متبادل بننے کے لیے صرف حکومت پر تنقید کافی نہیں ہوتی بلکہ ایک قابلِ اعتماد متبادل وژن بھی پیش کرنا پڑتا ہے۔ انڈیا بلاک آج تک عوام کے سامنے یہ واضح نہیں کر سکا کہ اگر اسے اقتدار ملا تو وہ ملک کو کس سمت میں لے جانا چاہتا ہے۔

عوامی سطح پر بھی اس اتحاد کے بارے میں شکوک و شبہات موجود ہیں۔ عام ووٹر یہ محسوس کرتا ہے کہ اتحاد کی بیشتر جماعتوں کا مشترکہ ایجنڈا صرف بی جے پی کی مخالفت ہے۔ مخالفت سیاست کا حصہ ضرور ہوتی ہے لیکن کسی مثبت پروگرام، ترقیاتی روڈ میپ یا متفقہ قومی حکمت عملی کے بغیر صرف مخالفت عوام کو متاثر نہیں کر سکتی۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ چند برسوں میں اپوزیشن کی متعدد مشترکہ کوششیں مطلوبہ سیاسی نتائج پیدا نہیں کر سکیں۔

پیر کو منعقد ہونے والی میٹنگ میں بھی اختلافات کے سائے نمایاں تھے۔ ڈی ایم کے اور عام آدمی پارٹی کا اجلاس سے دور رہنا اس بات کی علامت ہے کہ اتحاد کے اندر دراڑیں بدستور موجود ہیں۔ بعض جماعتیں کانگریس کے رویے سے نالاں ہیں تو بعض کو علاقائی سطح پر اپنے سیاسی مفادات زیادہ عزیز ہیں۔ جب اتحاد کے اہم ارکان ہی ایک دوسرے کے بارے میں شکوک رکھتے ہوں تو عوام میں اعتماد پیدا کرنا اور بھی مشکل ہوجاتا ہے۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ جمہوریت میں ایک مضبوط اپوزیشن کی موجودگی نہایت ضروری ہوتی ہے۔ کسی بھی صحت مند جمہوری نظام میں حکومت اور اپوزیشن دونوں کا فعال کردار اہمیت رکھتا ہے۔ تاہم اپوزیشن کی مؤثریت کا دارومدار اس کی سنجیدگی، اتحاد اور عوامی مسائل سے وابستگی پر ہوتا ہے۔ اگر اپوزیشن جماعتیں صرف انتخابات کے قریب اکٹھی ہوں اور شکست کے بعد اپنی صف بندیوں پر نظرثانی کے لیے اجلاس منعقد کریں تو عوام میں ان کی ساکھ متاثر ہونا فطری امر ہے۔

انڈیا بلاک کے لیے اصل چیلنج بی جے پی نہیں بلکہ اپنی داخلی کمزوریاں ہیں۔ جب تک یہ اتحاد مشترکہ قیادت، واضح پروگرام اور باہمی اعتماد کی بنیاد پر آگے نہیں بڑھے گا، اس کے لیے عوامی اعتماد حاصل کرنا آسان نہیں ہوگا۔ صرف اجلاس منعقد کرنے یا مشترکہ تصاویر جاری کرنے سے سیاسی حقیقتیں تبدیل نہیں ہوتیں۔ عوام عملی سیاست میں تسلسل، سنجیدگی اور واضح سمت دیکھنا چاہتے ہیں۔

موجودہ حالات میں یہ کہنا مشکل ہے کہ انڈیا بلاک مستقبل قریب میں بی جے پی کے لیے کوئی بڑا سیاسی خطرہ بن سکے گا۔ دو برس بعد ہونے والی یہ میٹنگ اتحاد کو دوبارہ زندہ کرنے کی ایک کوشش ضرور ہے، لیکن اس کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ آیا اس کے رہنما ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھتے ہیں یا نہیں۔ اگر اختلافات، ذاتی مفادات اور علاقائی سیاست ہی غالب رہی تو یہ اتحاد محض اجلاسوں اور بیانات تک محدود رہ جائے گا۔

ملک کے عوام اب سیاسی نعروں سے زیادہ عملی کارکردگی کو اہمیت دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انڈیا بلاک کو آج بھی ایک متحد اور قابلِ اعتماد متبادل کے طور پر قبولیت حاصل نہیں ہو سکی۔ جب تک یہ اتحاد اپنی سنجیدگی اور مستقل مزاجی ثابت نہیں کرتا، عوام کی ایک بڑی تعداد اسے بی جے پی کے مؤثر متبادل کے طور پر دیکھنے کے لیے تیار نظر نہیں آتی۔

ShareTweetSendShareSend
Previous Post

’جموں کشمیر میںمعیاری تعلیم تک رسائی کیلئے مرکز پرعزم‘

Next Post

 مشکلیں !

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

کشمیر یونیورسٹی کانووکیشن سے نائب صدر کا خطاب
اداریہ

سیاحت اورسرینگر ہوائی اڈے کی مجوزہ بندش

2026-06-13
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

پاکستان کے زیرِقبضہ کشمیر میں بڑھتا بحران:

2026-06-11
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

زوجیلا سرنگ میں تاریخی بریک تھرو

2026-06-10
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

کیا ہمارے نجی اسکول بہتر انسان بھی تیار کر رہے ہیں؟

2026-06-07
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

عالمی یوم ماحولیات:کشمیر کہاں کھڑا ہے ؟

2026-06-06
کشمیر یونیورسٹی کانووکیشن سے نائب صدر کا خطاب
اداریہ

کشمیر کی سیاسی جماعتیں سبق نہیں سیکھیں گی

2026-06-04
آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

بات چیت ہی مسائل کا حل:

2026-06-03
آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

عمر عبداللہ حکومت:

2026-06-02
Next Post
کانگریسی قیادت ‘ بھاجپا کیلئے اثاثہ

 مشکلیں !

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

I agree to the Terms & Conditions and Privacy Policy.

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.