اگر آج مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والی نسلوں کو ایک ایسا کشمیر مل سکتا ہے جو اپنی فطری خوبصورتی اور ماحولیاتی توازن سے محروم ہو چکا ہوگا
(ندائے مشرق رپورٹ)
سرینگر؍۵جون
دنیا بھر کی طرح آج جموں و کشمیر میں بھی عالمی یومِ ماحولیات منایا جا رہا ہے، لیکن یہ دن محض تقریبات، سیمیناروں اور شجرکاری مہمات تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ ماحول کو درپیش حقیقی خطرات پر سنجیدہ غور و فکر کا تقاضا کرتا ہے۔ وادی کشمیر، جو کبھی اپنی قدرتی خوبصورتی، سرسبز جنگلات، شفاف جھیلوں اور صاف ستھرے ماحول کے لیے جانی جاتی تھی، آج کئی ماحولیاتی چیلنجوں سے نبرد آزما ہے۔
ماہرین ماحولیات کے مطابق اگر موجودہ رجحانات پر بروقت قابو نہ پایا گیا تو آنے والے برسوں میں وادی کو ایسے ماحولیاتی نقصانات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جن کا ازالہ ممکن نہیں ہوگا۔
حکومتی پابندیوں اور متعدد مہمات کے باوجود وادی بھر میں پالی تھین بیگ اور سنگل یوز پلاسٹک کا استعمال بدستور جاری ہے۔ بازاروں، سبزی منڈیوں، سیاحتی مقامات اور دیہی علاقوں میں روزانہ ہزاروں کلوگرام پلاسٹک فضلہ پیدا ہو رہا ہے۔
پالی تھین نہ صرف نکاسیٔ آب کے نظام کو متاثر کرتی ہے بلکہ زرعی زمینوں، دریاؤں، ندی نالوں اور آبی ذخائر کے لیے بھی مستقل خطرہ بن چکی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پلاسٹک کو مکمل طور پر تحلیل ہونے میں سینکڑوں سال لگ سکتے ہیں، جس کے باعث یہ ماحول اور انسانی صحت دونوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہو رہی ہے۔
کشمیر کی جھیلیں، دلدلی علاقے اور آبی گاہیں گزشتہ چند دہائیوں میں تیزی سے سکڑ رہی ہیں۔ ڈل جھیل، وولر جھیل، آنچار جھیل اور متعدد دیگر آبی ذخائر غیر قانونی تجاوزات، آلودگی، گاد جمع ہونے اور بے ہنگم تعمیرات کے باعث اپنی اصل وسعت کھو رہے ہیں۔
آبی گاہیں نہ صرف سیلابی پانی کو جذب کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں بلکہ یہ ہزاروں پرندوں، مچھلیوں اور دیگر آبی حیات کا مسکن بھی ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر ان آبی گاہوں کا تحفظ نہ کیا گیا تو ماحولیاتی توازن شدید متاثر ہو سکتا ہے۔
اگرچہ ہر سال لاکھوں پودے لگانے کے دعوے کیے جاتے ہیں، لیکن دوسری جانب سڑکوں کی توسیع، تعمیراتی منصوبوں، غیر قانونی لکڑی کی کٹائی اور شہری پھیلاؤ کے نتیجے میں درختوں کی تعداد مسلسل کم ہو رہی ہے۔
جنگلات ماحولیاتی نظام کی ریڑھ کی ہڈی سمجھے جاتے ہیں۔ یہ کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرکے آکسیجن فراہم کرتے ہیں، زمین کو کٹاؤ سے بچاتے ہیں اور بارشوں کے نظام کو متوازن رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔ جنگلات کے کم ہوتے رقبے نے نہ صرف حیاتیاتی تنوع کو نقصان پہنچایا ہے بلکہ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کو بھی زیادہ نمایاں بنا دیا ہے۔
کشمیر میں گاڑیوں کی بڑھتی تعداد، تعمیراتی سرگرمیوں، سڑکوں پر اٹھنے والی گردوغبار اور بعض علاقوں میں کوڑے کرکٹ کو جلانے کے رجحان نے فضائی آلودگی میں اضافہ کیا ہے۔ سردیوں کے دوران فضائی معیار مزید متاثر ہوتا ہے، جس کے باعث سانس اور پھیپھڑوں سے متعلق بیماریوں میں اضافہ دیکھنے کو ملتا ہے۔
سرینگر سمیت کئی شہری علاقوں میں فضائی آلودگی اب ایک ابھرتا ہوا ماحولیاتی مسئلہ بن چکی ہے جس پر فوری توجہ کی ضرورت ہے۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ صرف سرکاری اقدامات کافی نہیں ہوں گے۔ پالی تھین کے استعمال میں کمی، آبی گاہوں کے تحفظ، شجرکاری، کچرے کے بہتر انتظام اور ماحول دوست طرزِ زندگی کو اپنانے کے لیے عوامی شرکت ناگزیر ہے۔
عالمی یومِ ماحولیات اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ ماحول کا تحفظ محض ایک سرکاری ذمہ داری نہیں بلکہ ہر شہری کا فرض ہے۔ اگر آج مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والی نسلوں کو ایک ایسا کشمیر مل سکتا ہے جو اپنی فطری خوبصورتی اور ماحولیاتی توازن سے محروم ہو چکا ہوگا۔
قدرت نے جموں و کشمیر کو بے مثال حسن اور قدرتی وسائل سے نوازا ہے۔ اب یہ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ اس ورثے کو محفوظ رکھا جائے تاکہ آنے والی نسلیں بھی اسی سرسبز، شاداب اور صحت مند ماحول سے لطف اندوز ہو سکیں۔










