نئی دہلی، یکم جون (یو این آئی) مرکزی حکومت نے پیر کو سپریم کورٹ میں پانچ ججوں کا تقرر کیاہے سپریم کورٹ میں اب ججوں کی کل تعداد بڑھ کر 37 ہو گئی ہے، جبکہ یہاں ججوں کے کل 38 عہدے منظور شدہ ہیں وزارت قانون کے تحت محکمہ انصاف کی جانب سے جاری کردہ الگ الگ نوٹیفیکیشن کے مطابق سپریم کورٹ کی سینئر ایڈووکیٹ وینکیٹا سبرامنی موہنا اور چار ہائی کورٹس کے چیف جسٹس صاحبان کو سپریم کورٹ کے جج کے طور پر مقرر کیا گیا ہے۔ ان میں پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ کے جسٹس شیل ناگو، بامبے ہائی کورٹ کے جسٹس شری چندر شیکھر، مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے جسٹس سنجیو سچدیوا اور جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ کے جسٹس ارون پلی شامل ہیں۔
نوٹیفیکیشن میں کہا گیا ہے کہ عہدہ سنبھالنے کی تاریخ سے وہ سپریم کورٹ کے جج ہوں گے۔ سپریم کورٹ کولیجیم نے ججوں کے تقرر کے لیے مرکزی حکومت کو پانچ ناموں کی سفارش کی تھی۔ یہ سفارشات 22 اور 27 مئی کو منعقدہ کولیجیم کے اجلاسوں کے دوران کی گئی تھیں۔
سینئر ایڈووکیٹ موہنا کی اس ترقی سے سپریم کورٹ میں خواتین کی نمائندگی بڑھے گی، جہاں اس وقت صرف ایک خاتون جج بی وی ناگرتنا ہیں۔ اگست 2021 کے بعد سے سپریم کورٹ میں کسی بھی خاتون کا تقرر نہیں ہوا تھا۔ سپریم کورٹ کے ججوں کی منظور شدہ تعداد میں حال ہی میں چار کا اضافہ کیا گیا تھا، جس سے اعلیٰ ترین عدالت میں کل منظور شدہ ججوں کی تعداد 38 ہو گئی ہے۔
فی الحال سپریم کورٹ کل 32 ججوں کی صلاحیت کے ساتھ کام کر رہی ہے۔ جسٹس جے کے ماہیشوری اور جسٹس پنکج متل اسی مہینے ریٹائر ہونے والے ہیں۔










