ایجنسیز
جموں؍۲۹مئی
جموں کشمیر حکومت نے انتظامی مفاد میں دو افسران کے تبادلوں اور تقرریوں کے احکامات فوری طور پر نافذ العمل ہونے کے ساتھ جاری کر دیے ہیں۔
جنرل ایڈمنسٹریشن ڈپارٹمنٹ (جی اے ڈی) کی جانب سے جاری کردہ ایک حکمنامے کے مطابق، شری پرانجل جے ہزاریکا، آئی اے ایس ‘جو محکمہ محنت و روزگار میں ایڈیشنل سیکریٹری حکومت کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے، کا تبادلہ کرکے انہیں دستیاب اسامی کے خلاف ایڈیشنل ڈسٹرکٹ ڈیولپمنٹ کمشنر (اے ڈی ڈی سی) بارہمولہ تعینات کیا گیا ہے۔
حکمنامے میں مزید کہا گیا ہے کہ شری وشواجیت سنگھ، جے کے اے ایس، جو جنرل ایڈمنسٹریشن ڈپارٹمنٹ میں تقرری کے احکامات کے منتظر تھے، کو ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (اے ڈی سی) بلاور تعینات کیا گیا ہے۔ وہ شری ونئے کھوسلہ، جے کے اے ایس، کی جگہ لیں گے، جنہیں مزید ایڈجسٹمنٹ کے احکامات تک جنرل ایڈمنسٹریشن ڈپارٹمنٹ میں رپورٹ کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
یہ تبادلے اور تقرریاں فوری طور پر نافذ العمل ہوں گی اور جنرل ایڈمنسٹریشن ڈپارٹمنٹ نے یہ احکامات لیفٹیننٹ گورنر کے حکم پر جاری کیے ہیں۔یہ حکمنامہ کمشنر/سیکریٹری حکومت، جنرل ایڈمنسٹریشن ڈپارٹمنٹ، ایم راجو، آئی اے ایس، کی جانب سے جاری کیا گیا۔
۔۔۔۔
آپریشن سندور کے معمار وائس ایڈمرل اجے کوچھر نے بھارتی بحریہ کے 48ویں وائس چیف کا عہدہ سنبھال لیا
نئی دہلی؍۲۹مئی
آپریشن سندور کے دوران بھارتی بحریہ کی اعلیٰ سطحی جنگی تیاریوں کی قیادت کرنے والے وائس ایڈمرل اجے کوچھر نے جمعہ کو بھارتی بحریہ کے۴۸ویں وائس چیف کے طور پر ذمہ داریاں سنبھال لیں۔ وہ اپنے ساتھ محاذی اور عملی خدمات کا وسیع تجربہ بحری ہیڈکوارٹرز میں لا رہے ہیں۔
بحریہ کے دوسرے اعلیٰ ترین عہدے کا چارج سنبھالنے سے قبل وہ انڈمان و نکوبار کمانڈ (اے این سی) کے کمانڈر اِن چیف کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ یہ بھارت کی پہلی اور واحد مشترکہ سہ افواجی تھیٹر کمانڈ ہے جو اسٹریٹجک سمندری حدود کی نگرانی کرتی ہے۔
اس سے قبل مغربی بحری کمانڈ کے چیف آف اسٹاف کی حیثیت سے انہوں نے آپریشن سندور کے دوران اہم بحری اثاثوں کی جارحانہ اور پیشگی تعیناتی میں کلیدی کردار ادا کیا تھا۔
وائس ایڈمرل کوچھر نے وائس ایڈمرل سنجے واتسایان کی جگہ یہ عہدہ سنبھالا ہے، جنہیں مغربی بحری کمانڈ کا نیا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔ نیشنل ڈیفنس اکیڈمی، پونے کے فارغ التحصیل وائس ایڈمرل اجے کوچھر یکم جولائی۱۹۸۸کو بھارتی بحریہ میں کمیشن حاصل کر چکے ہیں۔
گنری اور میزائل نظام کے ماہر وائس ایڈمرل کوچھر اپنے۳۷سال سے زائد پر محیط شاندار کیریئر کے دوران مختلف کمانڈ، آپریشنل اور انتظامی ذمہ داریاں نبھا چکے ہیں۔انہوں نے جنگی بحری جہازوں نشک، وبھوتی اور کرپان کی کمان سنبھالی جبکہ فریگیٹ تریکنڈ کے پہلے کمانڈنگ آفیسر بھی رہے۔ اس کے علاوہ وہ طیارہ بردار بحری جہاز آئی این ایس وکرمادتیہ کے کمانڈر بھی رہ چکے ہیں۔
ان کے دورِ کمان میں آئی این ایس وکرمادتیہ نے اپنے فضائی ونگ کے انضمام اور آپریشنل صلاحیت کے عمل کو کامیابی کے ساتھ مکمل کیا۔
وائس ایڈمرل کوچھر ڈیفنس سروسز اسٹاف کالج ویلنگٹن، نیول وار کالج گوا اور برطانیہ کے رائل کالج آف ڈیفنس اسٹڈیز کے فارغ التحصیل ہیں۔ بھارتی بحریہ کے مطابق انہوں نے بحری ہیڈکوارٹرز میں کئی اہم تزویراتی اور پالیسی سازی سے متعلق ذمہ داریاں بھی انجام دیں۔
۲۰۱۸ میں فلیگ رینک پر ترقی پانے کے بعد انہوں نے اسسٹنٹ کنٹرولر آف کیریئر پراجیکٹس اور اسسٹنٹ کنٹرولر آف وارشپ پروڈکشن اینڈ ایکوزیشن کے طور پر خدمات انجام دیں۔ بعد ازاں۲۰۲۱میں مغربی بحری بیڑے کی کمان سنبھالی اور اس کے بعد نیشنل ڈیفنس اکیڈمی کے کمانڈنٹ مقرر ہوئے، جہاں انہوں نے تربیتی معیار اور بنیادی ڈھانچے کی بہتری پر خصوصی توجہ دی۔
انہوں نے۲۵مئی۲۰۲۴کو مغربی بحری کمانڈ کے چیف آف اسٹاف کا عہدہ سنبھالا، جب مغربی سمندری خطے میں سکیورٹی کی صورتحال نہایت چیلنجنگ تھی۔
بھارتی بحریہ کے مطابق انہوں نے مغربی ساحلی علاقے میں روایتی اور غیر روایتی خطرات سے نمٹنے کیلئے کمانڈ کی کارروائیوں کی قیادت کی، جن میں آپریشن سندور کے دوران تیز رفتار بحری آپریشنز بھی شامل تھے۔ان کی غیر معمولی قیادت اور شاندار خدمات کے اعتراف میں انہیں۲۰۲۲میں اَتی وششٹ سیوا میڈل اور۲۰۲۶میں پرم وششٹ سیوا میڈل سے نوازا گیا۔
انڈومان و نکوبار کمانڈ کے کمانڈر اِن چیف کی حیثیت سے انہوں نے تینوں مسلح افواج کے درمیان آپریشنل ہم آہنگی، انضمام اور مشترکہ کارروائیوں کو فروغ دینے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔
۔۔۔۔۔۔










