نئی دہلی، 26 مئی (یواین آئی) وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنی حالیہ غیر ملکی دوروں کے دوران مختلف ممالک کے رہنماؤں کو قبائلی فنون اور ثقافتی روایات کی عکاسی کرنے والے تحائف پیش کیے، تاکہ انہیں ہندوستان کے بھرپور ثقافتی ورثے اور روایتی دستکاری سے روشناس کرایا جا سکے۔
سرکاری اطلاعات کے مطابق، نریندر مودی نے سویڈن کی ولی عہد شہزادی وکٹوریہ کو مدھیہ پردیش کی روایتی گونڈ پینٹنگ تحفے میں دی، جو ہندوستان کی زندہ قبائلی فنکارانہ روایت کی علامت سمجھی جاتی ہے۔ گونڈ قبائلی برادری کے اس فن کو اس کے پیچیدہ نقطہ و خط کے نمونے، قدرتی شوخ رنگوں اور فطرت سے متاثر موضوعات کی وجہ سے بین الاقوامی سطح پر شناخت حاصل ہے۔ یہ فن وسطی ہندوستان کے قبائلی ہنرمندوں کو پائیدار روزگار کے مواقع بھی فراہم کرتا ہے۔
نریندر مودی نے اٹلی کی وزیر اعظم جارجیا میلونی کو آسام کے موگا ریشم کی روایتی شال اور منی پور کی تانگخول ناگا برادری کی تیار کردہ شیرُئی للی شال تحفے میں دی۔ قدرتی چمک اور مضبوطی کے لیے مشہور موگا ریشم آسام کی صدیوں پرانی بنائی کی روایت کی علامت ہے اور اسے جغرافیائی شناخت (جی آئی) ٹیگ بھی حاصل ہے۔ شیرُئی للی شال تانگخول ناگا قبائلی برادری کی ثقافتی شناخت اور فنکارانہ روایات کی نمائندگی کرتی ہے اور منی پور کے نایاب ریاستی پھول شیرُئی للی سے متاثر ہے۔
انہوں نے متحدہ عرب امارات کی ملکہ کو منی پور کا سیاہ چاول (چک ہاؤ) بطور تحفہ پیش کیا، جو اس خطے کی قبائلی پہاڑی برادریوں کی روایتی زرعی پیداوار ہے۔ چک ہاؤ اپنی غذائیت اور طبی خصوصیات کے لیے وسیع طور پر معروف ہے اور یہ مقامی برادریوں کی نسل در نسل محفوظ زرعی روایت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔










