نئی دہلی، 26 مئی (یواین آئی) انڈین یوتھ کانگریس نے کہا ہے کہ ملک کے نوجوان پیپر لیک، بے روزگاری، بدعنوانی اور ادارہ جاتی زوال جیسے مسائل سے دوچار ہیں، لیکن حکومت جوابدہی طے کرنے کے بجائے اختلاف اور احتجاج کی آوازوں کو دبانے میں مصروف ہے۔
یوتھ کانگریس کے قومی صدر ادے بھانو چِب نے منگل کو یہاں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ نوجوان مختلف مسائل سے نبرد آزما ہیں، مگر حکومت ان مسائل کا حل نکالنے کے بجائے مخالف آوازوں کو خاموش کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یوتھ کانگریس نے مرکز کے اس رویّے کے خلاف ’انڈین یوتھ کاکروچیز‘ مہم شروع کی ہے۔
ادے بھانو چِب نے اس مہم کو نوجوانوں کے حقوق اور جوابدہی کی جدوجہد پر مبنی ملک گیر مزاحمتی تحریک قرار دیا۔ یوتھ کانگریس نے سیک پردھان کے نام سے ایک آن لائن عرضداشت (پٹیشن) بھی شروع کی ہے، جس میں مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ تنظیم نے نوجوانوں کو جوڑنے کے لیے ایک ڈیجیٹل پلیٹ فارم بھی متعارف کرایا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ جدوجہد صرف سوشل میڈیا تک محدود نہیں بلکہ زمینی سطح پر جاری ایک عوامی تحریک ہے۔ ان کے مطابق تنظیم کے کارکن پیپر لیک اور طلبہ کے مفادات کے مسائل پر مسلسل سڑکوں پر احتجاج کر رہے ہیں۔
ادے بھانو چِب نے کہا کہ ایف آئی آر، جیل، دھمکیوں یا سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی معطلی سے یوتھ کانگریس خوفزدہ نہیں ہوگی اور نوجوانوں کے مستقبل کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔










