ایجنسیز
جموں؍۲۶ مئی
جموں و کشمیر کے ضلع راجوری کے گھنے جنگلات میں چھپے دہشت گردوں کا سراغ لگانے کے لیے جاری آپریشن کے چوتھے روز منگل کو سکیورٹی فورسز نے مخصوص مشتبہ ٹھکانوں پر فائر اسالٹ کارروائی شروع کی اور مزید فوجی دستے تعینات کیے، حکام نے بتایا۔
حکام کے مطابق منجا کوٹ علاقے کے دوری مال-گمبھیر مغلہ بیلٹ میں دہشت گردوں کو باہر نکالنے کی کوششوں میں شدت لاتے ہوئے مشتبہ ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ کارروائی کے بعد جنگلاتی علاقوں سے دھوئیں کے بادل اٹھتے دیکھے گئے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپریشن کے دوران مخصوص مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔
حکام نے کہا کہ سکیورٹی فورسز خون کے ان دھبوں کا بھی سراغ لگا رہی ہیں جو مبینہ طور پر پیر کے روز کی گئی کارروائی میں ایک ٹھکانہ تباہ ہونے کے بعد فرار ہونے والے دہشت گردوں کے چھوڑے ہوئے ہیں۔
ہیلی کاپٹروں، ڈرونز اور اسنیفر ڈاگز کی مدد سے فوج، جموں و کشمیر پولیس اور نیم فوجی دستوں کی مشترکہ ٹیمیں ملحقہ علاقوں میں وسیع پیمانے پر تلاشی مہم چلا رہی ہیں۔ حکام کے مطابق آپریشن زون کے گرد گھیرا مزید سخت کر دیا گیا ہے اور اضافی فوجی دستے تعینات کیے گئے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ گمبھیر مغلہ علاقے کے دوری مال جنگلات میں مزید کمک روانہ کی گئی ہے جہاں انسداد دہشت گردی کارروائی جاری ہے۔ تلاش کے دائرہ کار کو بڑھانے اور دہشت گردوں کا سراغ لگا کر انہیں ہلاک کرنے کی کوششوں کو تیز کرنے کے لیے اضافی آپریشنل ٹیمیں بھی تعینات کی گئی ہیں۔
ہفتہ کے روز سنگھ پورہ-چھترو علاقے میں دہشت گردوں کی موجودگی سے متعلق خفیہ اطلاعات موصول ہونے کے بعد مشترکہ ٹیم نے ’’آپریشن شیرووالی‘‘ شروع کیا تھا، جس کے بعد دوری مال-گمبھیر مغلہ بیلٹ میں دہشت گردوں اور سکیورٹی فورسز کے درمیان تصادم شروع ہو گیا تھا۔
فوج، جموں و کشمیر پولیس اور سینٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) کی مشترکہ ٹیم نے مشتبہ دہشت گردوں کی نقل و حرکت سے متعلق مخصوص اطلاعات کی بنیاد پر ہفتہ کو علاقے میں بڑے پیمانے پر محاصرہ اور تلاشی آپریشن شروع کیا تھا۔
دہشت گردوں سے رابطہ قائم ہونے کے بعد مختصر فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس کے بعد سکیورٹی فورسز نے دشوار گزار اور گھنے جنگلاتی علاقے میں وسیع پیمانے پر تلاشی مہم جاری رکھی۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق ایک کمانڈر سمیت دو سے تین دہشت گرد علاقے میں چھپے ہونے کا شبہ ہے۔ آرمی کی وائٹ نائٹ کور نے کہا تھا کہ ہفتہ کو پولیس اور سی آر پی ایف کے ساتھ انٹیلی جنس بنیادوں پر مشترکہ آپریشن کے دوران گمبھیر مغلہ کے عمومی علاقے میں دہشت گردوں سے رابطہ قائم ہوا تھا۔
۔۔۔۔۔۔










