عازمین نے نماز، دعا اور تلاوتِ قرآنِ پاک میں وقت گزار‘شدید گرمی کے باوجود عازمینِ کا غیر معمولی صبر اور استقامت کا مظاہرہ
(ویب ڈیسک)
سرینگر؍۲۵مئی
حج کا مقدس اور روحانی سفر(مناسک حج) آج اس وقت باقاعدہ طور پر شروع ہوگیا جب۱۷ لاکھ سے زائد فرزندانِ توحید ’’یوم الترویہ‘‘ کے موقع پر منیٰ پہنچ گئے۔ ’’لبیک اللہم لبیک‘‘ کی روح پرور صداؤں کے ساتھ سفید احرام میں ملبوس لاکھوں عازمین فجر کی نماز، طوافِ کعبہ اور دیگر عبادات کے بعد مکمل عاجزی اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سپردگی کے جذبے کے ساتھ منیٰ کی جانب روانہ ہوئے۔
دوپہر تک تقریباً تمام حجاج خیموں کے شہر منیٰ پہنچ چکے تھے، جہاں انہوں نے نماز، دعا اور تلاوتِ قرآنِ پاک میں وقت گزارا۔
شدید گرمی کے باوجود عازمینِ حج نے غیر معمولی صبر اور استقامت کا مظاہرہ کیا۔ ہزاروں افراد سفید اور سیاہ چھتریاں اٹھائے دھوپ سے بچنے کی کوشش کرتے رہے جبکہ ہاتھوں سے چلنے والے پنکھوں کا استعمال بھی کیا گیا۔ رضاکاروں کی جانب سے پانی کی بوتلیں تقسیم کی گئیں تاکہ حجاج کو پانی کی کمی سے محفوظ رکھا جا سکے، جبکہ بڑے کولنگ فینز کے ذریعے باریک پانی کا چھڑکاؤ کرکے راستوں اور خیموں میں ٹھنڈک کا انتظام کیا گیا۔
اس سال تقریباً ایک لاکھ ۷۵ ہزار ہندوستانی عازمین حج ادا کر رہے ہیں، جن میں چار ہزار سے زائد کا تعلق جموں و کشمیر سے ہے۔ حج اسلام کے پانچ بنیادی ارکان میں سے ایک اہم رکن ہے۔ عازمین کی سہولت اور حفاظت کے لیے بڑی تعداد میں طبی عملہ، رہنما اور معاون اسٹاف تعینات کیا گیا ہے تاکہ انہیں طبی امداد اور دیگر ضروری سہولیات بروقت فراہم کی جا سکیں۔
منیٰ کو اسلامی تعلیمات اور احادیث میں حج کے ایک اہم مرحلے کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔
زیادہ تر عازمین نے مسجد الحرام سے منیٰ تک تقریباً چھ کلومیٹر کا فاصلہ مخصوص سایہ دار پیدل راستوں کے ذریعے طے کیا، جبکہ بزرگوں اور بچوں کو بسوں کے ذریعے منتقل کیا گیا۔ حجاج نے منیٰ میں اپنے مخصوص خیموں تک پہنچنے کے لیے ’’المشاعر المقدسہ میٹرو لائن‘‘ کا بھی استعمال کیا۔
سعودی عرب اور خلیجی ممالک سمیت دنیا بھر سے آئے ہوئے ہزاروں عازمین نے احرام باندھنے کے بعد اپنی قیام گاہوں سے براہِ راست منیٰ کا رخ کیا۔ حجاج آج کا دن اپنے خیموں میں عبادت، دعا اور اللہ تعالیٰ کے حضور مکمل اطاعت و بندگی کے اظہار میں گزاریں گے۔
حج پاسپورٹ فورسز کے کمانڈر صالح بن سعد المربع نے کہا کہ ایران تنازع سے متعلق نازک جنگ بندی اور خطے میں جاری کشیدگی کے باوجود دنیا بھر سے عازمین کی سعودی عرب آمد مسلسل جاری رہی اور تمام انتظامات کو مؤثر انداز میں انجام دیا جا رہا ہے۔
عازمینِ حج کی نقل و حرکت اور ہجوم کو قابو میں رکھنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی اور مربوط منصوبہ بندی سے مدد لی جاتی ہے، جس کی وجہ سے مشاعرِ مقدسہ دنیا میں بڑے اجتماعات کے بہترین انتظام کی مثال سمجھے جاتے ہیں۔
مکہ مکرمہ سےعازمینِ حج کو منیٰ منتقل کرنے کے لیے مشاعرِ مقدسہ ٹرین اور بسوں کا استعمال کیا گیا جبکہ محدود تعداد میں ایسے عازمینِ حج بھی پیدل منیٰ پہنچے جن کی رہائش وادیِ منیٰ کے قریب واقع تھی۔
وزارتِ حج کی جانب سے مشاعر مقدسہ میں عازمین کی نقل و حمل کو منظم رکھنے کے لیے تمام حج مشنز کو شیڈول جاری کیا گیا ہے جس کا مقصد ازدحام کو کنٹرول اور نظم و ضبط کو بہتر بنانا ہے۔
واضح رہے وادی منیٰ، مکہ مکرمہ اور میدان مزدلفہ کے درمیان واقع ہے جبکہ مسجد الحرام سے شمال، مشرق کی جانب سات کلو میٹر کی دوری پر ہے۔










