نئی دہلی، 22 مئی (یو این آئی) وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ قبرص، ہندوستان اور پورے یورپ کے درمیان ایک اہم ‘سرمایہ کاری کے گیٹ وے’ کے طور پر ابھر رہا ہے اور اسے دیکھتے ہوئے ہم نے اپنے تعلقات کو اسٹریٹجک پارٹنرشپ میں تبدیل کر کے باہمی تعاون سے مشترکہ تخلیق تک، اور شراکت داری سے مشترکہ خوشحالی تک لے جانے کا فیصلہ کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان اتفاق ہوا ہے کہ قبرص ہندوستان میں سرمایہ کاری کو دوگنا کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک نے سائبر اور سمندری سکیورٹی نیز دہشت گردی کے خلاف تعاون کو مزید مضبوط کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے عالمی چیلنجوں کے حل کے لیے بین الاقوامی اداروں میں اصلاحات کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے۔ ساتھ ہی ہندوستان اور قبرص نے تعلیم اور ثقافت کے شعبے میں تعاون بڑھانے کے لیے بھی معاہدے کیے ہیں۔ دونوں فریقین نے ہند بحرالکاہل اور انڈیا-مڈل ایسٹ یورپ اکنامک کوریڈور جیسی اہم پہل کے ذریعے کنکٹیویٹی کو یقینی بنانے کے لیے بھی مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
مسٹر مودی نے ہندوستان کے تین روزہ دورے پر آئے قبرص کے صدر نیکوس کرسٹوڈولائیڈس کے ساتھ جمعہ کو یہاں دوطرفہ بات چیت کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس میں یہ بات کہی۔ وزیر اعظم نے کہا کہ گزشتہ ایک دہائی میں، قبرص سے ہندوستان میں سرمایہ کاری بڑھ کر تقریباً دوگنی ہو گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد بڑھنے اور ہندوستان – یورپی یونین آزاد تجارتی معاہدے سے تمام نئی صلاحیتیں پیدا ہوئی ہیں۔
وزیر اعظم نے کہا کہ اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے، "ہم اگلے پانچ برسوں میں اس سرمایہ کاری کو پھر سے دوگنا کرنے کا ہدف رکھ رہے ہیں۔ اور اس عزم کو پورا کرنے کے لیے، آج ہم اپنے قابل اعتماد تعلقات کو ایک اسٹریٹجک پارٹنرشپ کا روپ دے رہے ہیں۔” انہوں نے کہا کہ ہندوستان اور قبرص کے درمیان یہ شراکت داری دونوں ممالک کے مالیاتی اور خدمات کو جوڑ کر، تجارت کے لیے سرمایہ لائے گی۔ یہ قبرص کے بنیادی ڈھانچے، توانائی اور زراعت کے شعبے میں ہندوستانی کمپنیوں کے لیے نئے مواقع فراہم کرے گی۔ اس سے ہندوستان کے تیزی سے بڑھتے ہوئے جہاز رانی اور سمندری شعبوں میں نئی سرمایہ کاری بھی آئے گی۔
وزیر اعظم نے کہا، "ہم قبرص کے ساتھ مل کر، گفٹ سٹی کو ایک گلوبل فنانشل اور سروسز ہب بنانے کے ویژن کو رفتار دیں گے۔ اور دونوں ممالک کے انوویشن اور اسٹارٹ اپ ایکو سسٹم کے درمیان رابطے کو بڑھائیں گے۔” انہوں نے کہا کہ دفاع اور سکیورٹی تعاون بھی تعلقات کا ایک اہم ستون ہے۔ انہوں نے کہا، "ہمیں بہت خوشی ہے کہ گزشتہ چند برسوں میں دونوں ممالک کے درمیان ملٹری ایکسچینج اور ٹریننگ کا تعاون بڑھا ہے۔ آج ہم نے سائبر سکیورٹی، میری ٹائم سکیورٹی اورانسداددہشت گردی تعاون کو بھی مزید مضبوط کرنے کا فیصلہ کیا۔ اتنا ہی نہیں، ہم انڈو-پیسیفک اوشین انیشیٹو، اور انڈیا-مڈل ایسٹ یورپ اکنامک کوریڈور جیسی اہم پہل سے، کنیکٹیویٹی یقینی بنانے کے لیے بھی ساتھ مل کر کام کریں گے۔”
وزیر اعظم نے کہا کہ دونوں ممالک نے امیگریشن اور لوگوں کی آمد و رفت کے سلسلے میں معاہدے پر بھی اتفاق کیا ہے۔ انہوں نے کہا، "قبرص میں رہ رہے ہندوستانی پیشہ ور افراد اور طلبہ ہمارے لوگوں کے درمیان تعلقات کو اور مضبوط بنا رہے ہیں۔ ان تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے لیے ہم نے جلد ہی ایک جامع مائیگریشن اینڈ موبلٹی پارٹنرشپ، اور ساتھ ساتھ سوشل سکیورٹی ایگریمنٹ کرنے پر اتفاق کیا ہے۔” انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ دونوں ممالک ثقافت اور اعلیٰ تعلیم پر معاہدے کر رہے ہیں جس سے دونوں ممالک کے درمیان ثقافتی تبادلہ اور تحقیقی تعاون بڑھے گا۔ مسٹر مودی نے کہا کہ ہندوستان اور قبرص کی دوستی مضبوط اور مستقبل کے وژن پر مبنی ہے۔ انہوں نے کہا، "جمہوریت اور قانون کی حکمرانی جیسی اقدار میں مشترکہ اعتماد، ہماری شراکت داری کی بنیاد ہیں۔ ہم تمام ممالک کی خودمختاری اور علاقائی سلامتی کا احترام کرتے ہیں۔ ہندوستان ان اصولوں کے تئیں پوری طرح پرعزم ہے اور آگے بھی رہے گا۔”
وزیر اعظم نے کہا کہ ہندوستان-قبرص، یوکرین اور مغربی ایشیا میں جاری تنازعات کے جلد خاتمے کی کوششوں کی حمایت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا، "آج ہم نے عالمی مسائل پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ یوکرین ہو یا مغربی ایشیا، ہم تنازع کے جلد خاتمے اور امن کی کوششوں کی حمایت کرتے رہیں گے۔ ہم اس بات پر بھی متفق ہیں کہ بڑھتے ہوئے عالمی چیلنجوں کے حل کے لیے بین الاقوامی اداروں میں اصلاحات ناگزیر ہیں۔”










