سرینگر؍۲۱مئی
اینٹی کرپشن بیورو(اے سی بی)کو ایک تحریری شکایت موصول ہوئی جس میں شکایت کنندہ نے بتایا کہ آبپاشی ڈویژن اننت ناگ میں تعینات ضلع دار نذیر احمد وانی ولد محمد اکبر وانی ساکن اُترسوو ناژگنڈ اننت ناگ اور پٹواری بلال احمد واگے ولد عبدالرحمان واگے ساکن شیرپورہ اننت ناگ اس سے ایک لاکھ روپے رشوت طلب کر رہے ہیں۔
شکایت کے مطابق مذکورہ افسران نے اشاجی پورہ کے قریب ڈبرونہ اننت ناگ میں مبینہ سرکاری اراضی پر تجاوزات سے متعلق اس کے خلاف دائر درخواست/شکایت نمٹانے کے عوض رشوت طلب کی تھی۔
ملزمان نے شکایت کنندہ کو بتایا کہ اگر وہ اس مقام پر ایک مرلہ زمین کی قیمت کے برابر رقم ادا کرے، جو تقریباً چار لاکھ روپے بنتی ہے، تو وہ شکایت کو اپنے سطح پر نمٹا یا مسترد کر دیں گے۔ بعد ازاں بار بار درخواستوں کے بعد رشوت کی رقم ایک لاکھ روپے پر طے ہوئی۔
شکایت کنندہ نے رشوت ادا کرنے کے بجائے قانونی کارروائی کے لیے اینٹی کرپشن بیورو سے رجوع کیا۔
شکایت موصول ہونے کے بعد اے سی بی نے خفیہ جانچ کی، جس کے دوران معلوم ہوا کہ متنازعہ زمین سرکاری نہیں بلکہ شکایت کنندہ کی ذاتی ملکیت ہے۔ اس کے ساتھ ہی سرکاری ملازمین کی جانب سے رشوت طلب کیے جانے کی بھی تصدیق ہوئی۔
اس کے بعد پولیس اسٹیشن اے سی بی اننت ناگ میں ایک ایف آئی آر درج کرکے انسدادِ بدعنوانی ایکٹ۱۹۸۸ کی دفعہ ۷، ترمیمی ایکٹ۲۰۱۸ کے تحت مقدمہ قائم کیا گیا اور تحقیقات شروع کی گئی۔
تحقیقات کے دوران ایک ٹریپ ٹیم تشکیل دی گئی، جس نے کامیاب کارروائی کرتے ہوئے دونوں سرکاری ملازمین کو رشوت طلب کرتے اور وصول کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا۔
ملزمان کو موقع پر ہی حراست میں لیا گیا جبکہ رشوت کی رقم بھی ان کے قبضے سے آزاد گواہوں کی موجودگی میں برآمد کی گئی۔بعد ازاں ایگزیکٹو مجسٹریٹس اور آزاد گواہوں کی موجودگی میں ملزمان کے رہائشی مکانات کی تلاشی بھی لی گئی۔
اے سی بی کے مطابق معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہے۔










