ہمیں سمجھ نہیں آرہاہے یا ہم یہ سمجھ نہیں پا رہے ہیں کہ آخر کانگریس اور اس کے لیڈروں کو اتنی جلدی کیوں ہے …….جو یہ بات بات اور ہر ایک بات پر ریاستی درجے کی بحالی کی مانگ کررہے ہیں ۔ہم سمجھ نہیں پا رہے ہیں‘ اگر آپ کی سمجھ میں کچھ آرہا ہوتو ہمیں بھی سمجھائیے۔ہم یہ سمجھ پا رہے ہیں یا سمجھ سکتے ہیں ‘حکمران جماعت ‘ نیشنل کانفرنس کی ریاستی درجے کی بحال کیلئے بے تابی ‘ اس کی بے صبری اور تڑپ کو ہم سمجھ سکتے ہیں کہ ……. کہ بات طاقت کی ہے ‘اختیارات کی ہے اور ……. اور عیش کی بھی ہے ۔لیکن ‘لیکن کانگریس کو جلدی کس بات کی ہے؟ہم تو چاہیں گے یا چاہتے ہیں کہ جو جلد بازی کانگریس کو ہے ‘ اگر نیشنل کانفرنس اس جلد بازی کے ۱۰ فیصد ہی مظاہرہ کرے تو ……. تو دہلی کے کان پر جُو رینگنے کا امکان ہے ……. لیکن وہ کسی جلد بازی کا مظاہرہ نہیں کررہی ہے‘ اسے جو ملا ہے وہ اسی میں خوش ہے اور ……. اور یقین کیجئے اقتدار کے بچے کھچے دن وہ اسی خوشی سے نکالنے کیلئے تیار بھی ہے ……. اسے کوئی اعتراض نہیں ہے …….اور اس لئے نہیں ہے کہ کہتے ہیں نا کہ بھاگتے چور کی لنگوٹی ہی سہی ……. بس این سی سمجھتی ہے کہ اس کے ہاتھ میں جو آیاہے وہی کافی ہے …….اس سے زیادہ کا مطالبہ کرنا ‘ لالچ کے زمرے میں آتا ہے اور ……. اور این سی ثابت کرنا چاہتی ہے کہ وہ لالچی نہیں ہے ‘ اسے جو ملا ہے وہ اسی پر اکتفا کرنے کیلئے تیار ہے اور ……. اور وہ اسی پر اکتفا کئے ہو ئے ہے۔ رہی بات کانگریس کی ‘اور اس کے طارق حمید قرہ کی تو …….تو سچ پوچھئے تو قرہ صاحب کو یہ پریشانی نہیں ہوتی اور ……. اور بالکل بھی نہیں ہوتی کہ ریاست کا ردجہ کب بحال ہو …….اگر ان کی جماعت کی نظریں کشمیر کے اقتدار پر مرتکز نہ ہو تی …….کانگریس نے ریاستی درجے کی بحالی تک عمرعبداللہ کی سرکار میں شامل نہ ہونے کا اعکان کیا تھا …….اس امید کے ساتھ کہ الیکشن کے بعد ہی ریاستی درجہ بحال ہو گا اور ……. اور وہ سرکار میں شامل ہو جائیگی ‘ لیکن سرکار…….عمرسرکار بنے ہو ئے ڈیڑھ سال سے بھی زائد عرصہ ہو گیا اور ……. اور ریاستی درجہ بحال نہیں ہو رہا ہے ……. کانگریس سے مزید صبر نہیں ہو رہاہے ‘ وہ بھی اپنا حصہ چاہتی ہے ۔لیکن رکاوٹ ریاستی درجے کی بحالی کا طویل ہوتا انتظار ہے ……. ایسا انتظار جو کانگریس اب مزید نہیں کرنا چاہتی ہے‘ بالکل بھی نہیں چاہتی ہے ۔ ہے نا؟



