دو رکنی کمیٹی معاملے کی تحقیقات کرکے سات دنوں کے اندر اپنی رپورٹ پیش کرے گی:حکومت
(ویب ڈسیک)
سرینگر؍۲۰مئی
جموں و کشمیر حکومت نے سدھرا، جموں کے رائیکہ بندی علاقے میں قبائلی خاندانوں کے مکانات کی مسماری کے سلسلے میں جنگلاتی حقوق ایکٹ۲۰۰۶کی مبینہ خلاف ورزیوں کی تحقیقات کیلئے ایک حقائق جاننے والی کمیٹی تشکیل دی ہے۔
محکمہ قبائلی امور کی جانب سے جاری ایک سرکاری حکم نامے کے مطابق، دو رکنی کمیٹی کی تشکیل کی منظوری دی گئی ہے جو اس معاملے کی تحقیقات کرکے سات دنوں کے اندر اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔
کمیٹی میں ڈائریکٹر قبائلی امور جموں و کشمیر، محمد ممتاز علی (جے کے اے ایس) اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر، ڈائریکٹوریٹ آف قبائلی امور، مزمل حسن چودھری (جے کے اے ایس) شامل ہیں۔
حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ کمیٹی ’’رایکہ بندی (سدھرا) جموں میں قبائلی خاندانوں کے مکانات کی حالیہ مسماری کے تناظر میں جنگلاتی حقوق ایکٹ۲۰۰۶ کی کسی بھی خلاف ورزی‘‘ کا جائزہ لے گی۔
یہ اقدام اس وقت سامنے آیا ہے جب جنگلاتی محکمہ، محکمہ مال اور پولیس کی جانب سے انسدادِ تجاوزات مہم کے دوران متعدد ڈھانچوں کو منہدم کیے جانے پر شدید تنقید اور احتجاج دیکھنے کو ملا۔
اس انہدامی مہم کے بعد گوجر،بکروال برادری کے افراد اور سیاسی رہنماؤں میں شدید غم و غصہ پایا گیا۔ ان کا الزام ہے کہ کارروائی بغیر پیشگی نوٹس کے کی گئی اور یہ قبائلی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔
یہ حکم محکمہ قبائلی امور کی جانب سے جموں و کشمیر حکومت کی ہدایات پر جاری کیا گیا ہے۔
اس سے پہلے انہدامی کارروائی کے خلاف کئی سیاسی رہنماؤں اور سول سوسائٹی تنظیموں نے شدید ردِعمل ظاہر کیا۔ اس کارروائی کے نتیجے میں بڑی تعداد میں گجر-بکروال خاندان بے گھر ہو گئے ہیں۔
جموں و کشمیر پیپلز کانفرنس کے صدر اور ہندواڑہ سے رکنِ اسمبلی سجاد لون نے انہدامی کارروائی کو انتہائی تشویشناک قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ حکومت واضح کرے کہ اس کارروائی کی اجازت کس نے دی۔ انہوں نے انتظامیہ کی خاموشی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ حکومت کو اس معاملے کو پوری سنجیدگی سے لینا چاہیے۔
سجاد لون نے انتظامیہ پر متضاد مؤقف اختیار کرنے کا الزام بھی عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ پہلے جموں میں انہدامی کارروائیوں پر عوامی طور پر ناراضگی ظاہر کی گئی، لیکن بعد میں اسمبلی میں یہ کہہ کر ان کارروائیوں کا دفاع کیا گیا کہ تمام قانونی تقاضے پورے کیے گئے تھے۔ انہوں نے کہا، میں ان انہدامی کارروائیوں کی سخت مذمت کرتا ہوں، اور میری جماعت خاموش تماشائی بن کر نہیں رہے گی۔
جموں و کشمیر اپنی پارٹی کے صدر الطاف بخاری نے بھی اس کارروائی کو ظالمانہ اور من مانا قرار دیتے ہوئے سخت تنقید کی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ مناسب قانونی عمل مکمل کیے بغیر انتظامیہ کس طرح لوگوں کو زبردستی بے دخل کر سکتی ہے۔ بخاری نے کہا کہ اطلاعات کے مطابق یہ کارروائی تقریباً چار گھنٹے تک جاری رہی اور اس سے زیادہ تر خانہ بدوش گجر خاندان متاثر ہوئے۔
بخاری نے کہا کہ کئی متاثرہ خاندانوں کا دعویٰ ہے کہ ان کے مکانات گرانے سے قبل انہیں کوئی پیشگی نوٹس تک نہیں دیا گیا، جس سے اس کارروائی کی قانونی حیثیت پر سنگین سوالات پیدا ہوتے ہیں۔
اپنی پارٹی کے صدر نے اس خدشے پر بھی تشویش ظاہر کی کہ کارروائی کسی خاص طبقے کو نشانہ بنا کر کی گئی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اس طرح کے تاثرات بھی جموں و کشمیر میں سماجی ہم آہنگی اور امن کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
انہوں نے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ سے مطالبہ کیا کہ وہ ذاتی طور پر اس معاملے میں مداخلت کریں، شفاف تحقیقات کا حکم دیں اور متاثرہ خاندانوں کو انصاف اور مناسب بازآبادکاری فراہم کی جائے۔
کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کے رہنما اور رکنِ اسمبلی محمد یوسف تاریگامی نے قبائلی اور خانہ بدوش خاندانوں کی رہائش گاہیں منہدم کیے جانے کو غیر منصفانہ اور غیر حساس اقدام قرار دیا۔










