’ایک ہی دن، ایک ہی روٹ پر مختلف ایئر لائنز کی جانب سے الگ الگ کرائے وصول کیے جا رہے ہیں‘مرکز عوام کو راحت فراہم کرے‘
(ویب ڈیسک )
سرینگر؍۱۵مئی
سپریم کورٹ نے جمعہ کے روز ہوائی کرایوں میں غیر متوقع اضافے پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ فضائی کرایوں میں کچھ معقولیت ہونی چاہیے اور مرکز سے مسافروں کو راحت فراہم کرنے کے اقدامات کرنے کو کہا۔
جسٹس وکرم ناتھ اور جسٹس سندیپ مہتا پر مشتمل بنچ نے اس بات کی نشاندہی کی کہ ایک ہی دن، ایک ہی روٹ پر مختلف ایئر لائنز کی جانب سے الگ الگ کرائے وصول کیے جا رہے ہیں۔
بنچ نے سالیسٹر جنرل تشار مہتا، جو مرکز کی نمائندگی کر رہے تھے، سے کہا، ’’لوگوں کو اس فرق سے کچھ راحت دینے کی کوشش کریں۔ ایک ہی دن، ایک ہی سیکٹر میں ایک ایئر لائن اکانومی کلاس کے لیے ۸ہزار روپے وصول کرتی ہے جبکہ دوسری۱۸ ہزار روپے وصول کر رہی ہے‘‘۔
جسٹس مہتا نے کہا ’’فضائی کرایوں میں کچھ معقولیت ہونی چاہیے‘‘، جس پر سالیسٹر جنرل نے عدالت کو بتایا کہ۲۰۲۴کا نیا قانون نافذ ہو چکا ہے اور اس سے متعلق قواعد مشاورت کے مرحلے میں ہیں۔
مہتا نے کہا کہ حکومت اس مسئلے سے انکار نہیں کر رہی اور اسے غیر تنازعہ معاملہ سمجھتے ہوئے تمام پہلوؤں پر غور کیا جا رہا ہے۔
عدالت سماجی کارکن ایس لکشمی نارائنن کی عرضی پر سماعت کر رہی تھی، جس میں شہری ہوا بازی کے شعبے میں شفافیت اور مسافروں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ایک مضبوط اور خودمختار ریگولیٹر قائم کرنے اور نجی ایئر لائنز کی جانب سے فضائی کرایوں اور اضافی چارجز میں ’غیر متوقع اتار چڑھاؤ‘ کو کنٹرول کرنے کے لیے رہنما اصول وضع کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔
لکشمی نارائنن کی جانب سے پیش ہونے والے سینئر وکیل رویندر سریواستو نے عدالت کو بتایا کہ۱۹۳۷ کے ایئرکرافٹ ایکٹ کے تحت قواعد پہلے سے موجود ہیں، لیکن مسئلہ ان پر عمل درآمد نہ ہونے کا ہے۔
تشار مہتا نے اس بات سے اتفاق کیا کہ پرانے قواعد موجود ہیں، تاہم۲۰۲۴ کے بھارتیہ وایویان ادھینیم کے تحت نئے قواعد تیار کیے جا رہے ہیں، جو جنوری۲۰۲۵ سے نافذ ہو چکا ہے۔
سریواستو نے کہا کہ جب تک نئے قواعد نافذ نہیں ہوتے، پرانے قواعد ہی لاگو رہیں گے، جن کے تحت اگر ڈی جی سی اے کو یہ محسوس ہو کہ ایئر لائنز غیر مناسب یا حد سے زیادہ کرایے وصول کر رہی ہیں تو وہ ہدایات جاری کر سکتی ہے۔انہوں نے کہا’’وہ کوئی ہدایات جاری نہیں کر رہے۔ قواعد بھی موجود ہیں، اختیارات بھی موجود ہیں، مگر مسئلہ اختیارات استعمال نہ کرنے کا ہے‘‘۔
بنچ نے سریواستو کو مرکز کی جانب سے دائر جوابی حلف نامے پر جواب داخل کرنے کی ہدایت دی اور سالیسٹر جنرل کے اس بیان کو ریکارڈ پر لیا کہ نئے نظام کے تحت قواعد سازی کے لیے مشاورتی عمل جاری ہے۔ عدالت نے معاملے کی اگلی سماعت۱۳جولائی مقرر کی۔
۳۰؍اپریل کو سپریم کورٹ نے مرکز کو اس عرضی پر حلف نامہ داخل نہ کرنے پر سرزنش کی تھی، جس میں نجی ایئر لائنز کی جانب سے فضائی کرایوں اور اضافی چارجز میں “غیر متوقع اتار چڑھاؤ” کو کنٹرول کرنے کے لیے ضابطہ جاتی رہنما اصول طلب کیے گئے تھے۔
عدالت نے مرکز سے یہ وضاحت بھی طلب کی تھی کہ حلف نامہ وقت پر کیوں داخل نہیں کیا گیا اور مزید وقت کیوں مانگا گیا۔
گزشتہ سال۱۷نومبر کو عدالت عظمیٰ نے مرکز اور دیگر فریقین سے لکشمی نارائنن کی عرضی پر جواب طلب کیا تھا، جس میں شہری ہوا بازی کے شعبے میں شفافیت اور مسافروں کے تحفظ کے لیے ایک مضبوط اور خودمختار ریگولیٹر قائم کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔۲۳ فروری کو مرکز نے عدالت عظمیٰ کو بتایا تھا کہ وزارت شہری ہوا بازی عرضی میں اٹھائے گئے نکات پر سرگرمی سے غور کر رہی ہے۔
۱۹جنوری کو سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ وہ فضائی کرایوں میں ’غیر متوقع اتار چڑھاؤ‘ کے معاملے میں مداخلت کرے گی اور تہواروں کے دوران کرایوں میں بے تحاشہ اضافے پر بھی تشویش ظاہر کی تھی۔
عدالت عظمیٰ نے ایئر لائنز کی جانب سے فضائی کرایوں میں بے جا اضافے کو’استحصال‘ قرار دیتے ہوئے مرکز اور ڈی جی سی اے سے جواب طلب کیا تھا۔عرضی میں دعویٰ کیا گیا کہ تمام نجی ایئر لائنز نے بغیر کسی معقول جواز کے اکانومی کلاس مسافروں کے لیے مفت چیک اِن بیگیج کی حد۲۵ کلوگرام سے کم کر کے۱۵کلوگرام کر دی ہے، جس سے پہلے سے شامل سہولت کو آمدنی کا نیا ذریعہ بنا دیا گیا۔
عرضی میں کہا گیا ’’صرف ایک بیگ کی اجازت دینے اور چیک اِن بیگیج استعمال نہ کرنے والے مسافروں کو کوئی رعایت یا فائدہ نہ دینے کی نئی پالیسی اس اقدام کی من مانی اور امتیازی نوعیت کو ظاہر کرتی ہے‘‘۔
عرضی کے مطابق فی الحال کسی بھی ادارے کے پاس فضائی کرایوں یا اضافی فیسوں کا جائزہ لینے یا ان پر حد مقرر کرنے کا اختیار نہیں، جس کے باعث ایئر لائنز پوشیدہ چارجز اور غیر متوقع قیمتوں کے ذریعے صارفین کا استحصال کر رہی ہیں۔
عرضی میں کہا گیا ’’ایئر لائنز کا غیر منظم، غیر شفاف اور استحصالی رویہ، جس میں من مانے کرایوں میں اضافہ، خدمات میں یکطرفہ کمی، شکایات کے ازالے کے مؤثر نظام کی عدم موجودگی اور غیر منصفانہ ڈائنامک پرائسنگ الگورتھمز شامل ہیں، شہریوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے‘‘۔
عرضی میں مزید کہا گیا کہ ضابطہ جاتی تحفظ نہ ہونے کے باعث تہواروں یا خراب موسم کے دوران کرایوں میں بے تحاشہ اضافہ ہوتا ہے، جس کا سب سے زیادہ نقصان غریب اور آخری وقت میں سفر کرنے والے افراد کو اٹھانا پڑتا ہے۔
عرضی میں یہ بھی کہا گیا کہ کرایوں کے الگورتھمز، منسوخی پالیسیوں، خدمات کے تسلسل اور شکایتی نظام کو منظم کرنے میں ریاست کی ناکامی اس کی آئینی ذمہ داری سے غفلت کے مترادف ہے اور اس معاملے میں فوری عدالتی مداخلت ضروری ہے۔
عرضی کے مطابق ایئر لائنز کو طلب کے مطابق کرایے بڑھانے سے روکنے کے لیے کوئی واضح ضابطہ موجود نہیں اور ضروری خدمات کے شعبے میں انہیں اس قدر آزادی دینا غیر منصفانہ ہے۔










