نئی دہلی 14 مئی (یو این آئی) مرکزی وزیرِ داخلہ امت شاہ نے کہا ہے کہ مودی حکومت قدرتی آفات کے بندوبست کے نقطہ نظر کوکم سے کم جانی نقصان سے صفر جانی نقصان تک لانے کے ساتھ ساتھ لُو (ہیٹ ویو) سے ہونے والی شرحِ اموات کو صفر تک لانے کی سمت میں کام کر رہی ہے۔
مسٹر شاہ نے جمعرات کو غازی آباد میں نیشنل ڈیزاسٹر ریسپانس فورس (این ڈی آر ایف) کو پریزیڈنٹس کلر پیش کیے جانے کی تقریب میں یہ بات کہی۔ آفات کے انتظام کے شعبے میں فورس کی کامیابیوں کی ستائش کرتے ہوئے مسٹر شاہ نے کہا کہ این ڈی آر ایف نے اب تک ڈیڑھ لاکھ سے زائد لوگوں کی جانیں بچائی ہیں اور نو لاکھ سے زیادہ لوگوں کو محفوظ مقامات تک پہنچایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قدرتی آفت ہو یا شدید حادثہ، فورس نے ہر چیلنج میں اپنی مہارت ثابت کی ہے۔ انہوں نے این ڈی آر ایف کو ملنے والے اہم اعزار پریزیڈنٹس کلر کو فورس کی خدمت، ہمت، بہادری اور لگن کا قومی اعزاز قرار دیا۔
وزیرِ داخلہ نے کہا کہ یہ اعزاز صرف این ڈی آر ایف کی خدمات کا اعتراف نہیں بلکہ ملک بھر میں ڈیزاسٹر مینجمنٹ سے وابستہ پورے نظام کی اجتماعی شراکت کا اعزاز ہے۔ این ڈی آر ایف نے گزشتہ 20 برسوں میں اپنی جرات، خدمت اور فوری کارروائی سے 140 کروڑ ہندوستانیوں کا اعتماد حاصل کیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ملک نے ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے شعبے میں امداد پر مبنی نظام سے آگے بڑھ کر روک تھام اور تیاری پر مبنی ماڈل اپنایا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ حکومت اب آفات میں صفر جانی نقصان کے ہدف کی سمت کام کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ موسم کی پیش گوئی اور ابتدائی وارننگ کے نظام کو مضبوط بنا کر جان و مال کے نقصان کو کم سے کم کرنے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت لُو یعنی ہیٹ ویو سے ہونے والی شرحِ اموات کو صفر تک لانے کے لیے کوشاں ہے۔
مسٹر شاہ نے کہا کہ این ڈی آر ایف نے ہندوستان کو عالمی سطح پر ڈیزاسٹر مینجمنٹ میں ایک صفِ اول کے ملک کے طور پر قائم کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈیزاسٹر ریزیلنٹ انفراسٹرکچر کے شعبے میں ہندوستان نے بین الاقوامی سطح پر قیادت کی ہے اور آفات کے خلاف مزاحم بنیادی ڈھانچے کے اتحاد (سی ڈی آر آئی) کے تحت 48 ممالک ہندوستان کے ساتھ جڑ چکے ہیں۔
وزیرِ داخلہ نے کہا کہ این ڈی آر ایف نے نہ صرف انسانوں کو بلکہ آفات کے دوران بے زبان جانوروں کو بچا کر بھی انسانی خدمت کی مثال پیش کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ فورس نے 8,500 سے زائد جوانوں، 10 ہزار سے زائد سول ڈیفنس اہلکاروں اور 2.20 لاکھ سے زائد رضاکاروں کو تربیت دی ہے۔ اس کے علاوہ دو برسوں میں 10,500 سے زائد ملاحوں کو بھی تربیت دی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کمیونٹی کی شرکت پر مبنی ڈیزاسٹر مینجمنٹ کو مضبوط بنانے کے لیے ‘آپدا متر’ پروگرام اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ گرام پنچایت سے لے کر مرکزی حکومت تک تمام ادارے اب ایک مربوط طریقے سے کام کر رہے ہیں، جس سے ڈیزاسٹر مینجمنٹ محض ایک سسٹم نہیں بلکہ ایک وسیع ایکو سسٹم بن چکا ہے۔
وزیرِ داخلہ نے کہا کہ عالمی سطح پر ہندوستان اب ‘فرسٹ ریسپونڈر’ اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے شعبے میں ‘گلوبل لیڈر’ کے طور پر ابھرا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ‘وسودھیو کٹمبکم’ کے جذبے کے ساتھ ہندوستان دنیا کے ممالک کی مدد کر رہا ہے اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ میں نئی عالمی سوچ تیار کر رہا ہے۔
ملک بھر کی مرکزی مسلح پولیس فورسز (سی اے پی ایف) کے جوانوں کی ستائش کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سال 2021 سے اب تک سات کروڑ سے زائد درخت لگائے گئے ہیں، جو سکیورٹی فورسز کی ماحولیات کے تئیں وابستگی اور انسانی نقطہ نظر کو ظاہر کرتا ہے۔ تقریب میں داخلہ سکریٹری، انٹیلی جنس بیورو کے ڈائریکٹر، این ڈی آر ایف کے ڈائریکٹر جنرل سمیت کئی سینئر حکام موجود تھے۔










