پاکستان سے مذاکرات اپنی جگہ،
’مرکز کوجموں کشمیر کے عوام سےبات چیت شروع کرنی چاہیے‘
ویب ڈیسک
سرینگر؍۱۴مئی
اپنی پارٹی کے صدر‘ الطاف بخاری نے جمعرات کو کہا کہ نئی دہلی پاکستان کے ساتھ مذاکرات کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ خود کر سکتی ہے، تاہم مرکز کو فوری طور پر جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ بات چیت کا آغاز کرنا چاہیے۔
بخاری نے یہاں جاری ایک بیان میں کہا’’آر ایس ایس کے جنرل سکریٹری دتاتریہ ہوسابالے کے پاکستان کے ساتھ مذاکرات سے متعلق بیان اور سابق آرمی چیف منوج نروانے کی اسی نوعیت کی رائے ایسے معاملات ہیں جن پر مرکزی حکومت کو موجودہ داخلی اور خارجی صورتحال کے مطابق فیصلہ کرنا ہے‘‘۔
سابق وزیر نے کہا کہ اس بات میں ذرہ برابر بھی شک نہیں ہونا چاہیے کہ مرکز کو جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ فوری طور پر بات کرنی چاہیے تاکہ ان کے حقیقی خدشات اور طویل عرصے سے زیر التوا شکایات کا ازالہ کیا جا سکے۔
بخاری نے کہا’’میں یہ بات بار بار اس لیے دہرا رہا ہوں کیونکہ میں عوام، خاص طور پر نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی بے چینی کو صاف محسوس کر رہا ہوں۔ یہاں لوگ مختلف مسائل سے دوچار ہیں جنہیں جلد از جلد حل کرنے کی ضرورت ہے‘‘۔
اپنی پارٹی کے صدر نے کہا کہ فوری اور سنگین مسائل میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری اور اسی کے ساتھ روزگار پیدا کرنے کے لیے مناسب اقدامات کا فقدان شامل ہے۔
بخاری نے کہا’’بڑی تعداد میں نوجوان پاسپورٹ حاصل نہیں کر پا رہے، جس کی وجہ سے وہ بیرونِ ملک بہتر روزگار کے مواقع تلاش کرنے سے محروم ہیں۔ دوسری طرف مہنگائی میں بے پناہ اضافے نے عام خاندانوں پر شدید دباؤ ڈال دیا ہے‘‘۔
اپنی پارٹی کے سربراہ نے کہا کہ زراعت، باغبانی، سیاحت اور صنعتی شعبے، جو جموں و کشمیر کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں، شدید مشکلات کا شکار ہیں اور ان مسائل کو فوری طور پر حل کرنے کی ضرورت ہے۔
بخاری نے مزید کہا’’صرف بڑی صنعتیں ہی نہیں بلکہ ایم ایس ایم ایز اور چھوٹی صنعتیں بھی، جو ہزاروں خاندانوں کا سہارا ہیں، سخت بحران سے گزر رہی ہیں اور کئی یا تو تقریباً بند ہو چکی ہیں یا تباہی کے دہانے پر ہیں‘‘۔
بخاری نے کہا کہ اس کے علاوہ بھی کئی ایسے مسائل ہیں جن پر مرکز کو فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا’’یہ مسائل براہِ راست جموں و کشمیر کے عوام کی روزمرہ زندگی کو متاثر کر رہے ہیں، جس سے یہ احساس پیدا ہو رہا ہے کہ یہاں سب کچھ ٹھیک نہیں ہے اور صورتحال کو معمول کے مطابق قرار نہیں دیا جا سکتا۔‘‘










