عمر سرکار کی حضرت بل ہسپتال کی اپ گریڈیشن کی بھی منظوری
ویب ڈیسک
سرینگر؍۱۴مئی
جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی سربراہی میں منعقدہ وزراء کونسل کے اجلاس میں سرینگر کے آچن علاقے میں۸۰۰ٹن یومیہ صلاحیت والے مربوط سالڈ ویسٹ مینجمنٹ (آئی ایس ڈبلیو ایم) پروجیکٹ کے قیام کو منظوری دی گئی، جس کی تخمینی لاگت۳۶۱کروڑ روپے مقرر کی گئی ہے۔
یہ فیصلہ وزراء کونسل کے چھٹے اجلاس میں سرینگر میں سائنسی بنیادوں پر فضلہ انتظامیہ کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے اور شہری ٹھوس فضلے کو ماحول دوست انداز میں تلف اور پروسیس کرنے کو یقینی بنانے کے مقصد سے لیا گیا۔
مجوزہ مربوط سالڈ ویسٹ مینجمنٹ پروجیکٹ کا مقصد جدید اور مؤثر نظام کے ذریعے سری نگر شہر میں فضلہ جمع کرنے، علیحدگی، پروسیسنگ اور تلفی کی صلاحیت کو بہتر بنانا ہے۔ توقع ظاہر کی گئی ہے کہ اس منصوبے سے صفائی ستھرائی کے معیار میں نمایاں بہتری آئے گی، ماحولیاتی آلودگی میں کمی ہوگی اور شہری علاقوں کو مزید صاف ستھرا اور صحت مند بنانے میں مدد ملے گی۔
آچن میں اس سہولت کے قیام سے طویل مدتی شہری منصوبہ بندی اور ماحولیاتی پائیداری کی کوششوں کو بھی تقویت ملے گی، جبکہ تیز رفتار شہری توسیع اور آبادی میں اضافے کے پیش نظر شہر کی بڑھتی ہوئی فضلہ انتظامیہ ضروریات کو پورا کرنے میں مدد حاصل ہوگی۔
دریں اثنا، وزراء کونسل نے سرینگر ماسٹر پلان۲۰۳۵کے تحت بفر زون پابندیوں میں نرمی دے کر سب ضلع اسپتال حضرت بل کی اپ گریڈیشن کو بھی منظوری دی۔ یہ فیصلہ بھی وزراء کونسل کے چھٹے اجلاس میں صحت کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے اور عوام کو بہتر طبی سہولیات فراہم کرنے کے مقصد سے لیا گیا۔
یہ منصوبہ بفر زون پابندیوں کے باعث کئی برسوں سے رکاوٹوں کا شکار تھا، جس کے نتیجے میں عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔
عوام کو درپیش مسائل اور علاقے میں بہتر طبی سہولیات کی فوری ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے وزیر اعلیٰ کی سربراہی والی کابینہ نے ایک تاریخی فیصلہ لیتے ہوئے پابندیوں میں نرمی دی، جس سے اسپتال کی طویل عرصے سے زیر التوا اپ گریڈیشن کی راہ ہموار ہوگئی۔
منظوری کے بعد توقع کی جا رہی ہے کہ اسپتال میں توسیع شدہ بنیادی ڈھانچہ اور جدید طبی سہولیات فراہم کی جائیں گی، جن میں بلڈ بینک خدمات، آپریشن تھیٹرز اور مختلف امراض کے خصوصی علاج کی سہولیات شامل ہوں گی۔
اس اقدام کا مقصد مریضوں کو علاج اور داخلے کے لیے دیگر مقامات کا رخ کرنے کی ضرورت کم کرنا ہے۔
علاقے کے مقامی باشندوں نے اس فیصلے پر وزیر اعلیٰ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اسپتال اس وقت شدید جگہ کی قلت کا شکار ہے اور مریضوں و تیمارداروں کے لیے مناسب سہولیات دستیاب نہیں ہیں۔انہوں نے کہا کہ اسپتال کی اپ گریڈیشن سے عوامی مشکلات میں نمایاں کمی آئے گی اور حضرت بل و ملحقہ علاقوں کے لوگوں کو بہتر طبی سہولیات میسر آئیں گی۔










