جہاں انٹیگریٹڈ ٹرانزٹ فیسلٹی منشیات کی اسمگلنگ روکنے کیلئے چیک پوسٹ کے طور پر کام کرے گا، وہیں جنگی میوزیم بہادری اور قربانیوں کی داستانوں کو محفوظ رکھے گا
ایجنسیز
سادھنا پاس؍۱۴مئی
برف پوش پہاڑی چوٹیوں سے گھرا دشوار گزار سادھنا پاس کبھی پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر سے دراندازی کے لیے بدنام راستہ سمجھا جاتا تھا، جبکہ اس کا نام ماضی کی معروف اداکارہ سادھنا کے نام پر رکھا گیا تھا۔
جمعرات کو اس مقام کی یہی ماضی کی شہرت اور بدنامی ایک نئی شکل میں سامنے آئی، جب یہاں ایک جدید چیک پوسٹ اور جنگی میوزیم کا افتتاح کیا گیا۔
جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا، ’’یہ پورے ملک کا پیغام ہے کہ ہم اپنے بہادر فوجیوں کو ہمیشہ یاد رکھتے ہیں اور ہمیشہ یاد رکھیں گے۔یہ پہاڑ ہمارے جوانوں کے اتحاد کے گواہ ہیں۔‘‘
۱۰ہزار۲۶۹ فٹ کی بلندی پر واقع جدید ’’انٹیگریٹڈ ٹرانزٹ فیسلٹی‘‘ اور ’’شوریہ گاتھا‘‘ کمپلیکس شمشبری رینج کے سینڈ ماڈل ہِل پر قائم کیا گیا ہے۔ یہ مقام کرناہ اور کپواڑہ کے درمیان واقع ہے اور گھنے جنگلاتی راستوں کے ذریعے وادی کشمیر سے جڑا ہوا ہے۔
جہاں انٹیگریٹڈ ٹرانزٹ فیسلٹی منشیات کی اسمگلنگ روکنے کے لیے ایک چیک پوسٹ کے طور پر کام کرے گا، وہیں۲۸ ؍انفنٹری ڈویژن اور۱۰۴ بریگیڈ کی جانب سے تعمیر کردہ جنگی میوزیم بہادری اور قربانیوں کی داستانوں کو محفوظ رکھے گا۔ سادھنا پاس، جو پہلے نستاچون پاس کے نام سے جانا جاتا تھا، پر قائم یہ دونوں منصوبے دو برس سے بھی کم عرصے میں مکمل کیے گئے۔
اس درّے کا نام اُس وقت تبدیل کیا گیا جب فلم ’’میرے محبوب‘‘ کی اداکارہ سادھنا نے اکتوبر۱۹۶۵میں پاک بھارت جنگ میں کامیابی پر بھارتی فوجیوں کو مبارکباد دینے کے لیے یہاں کا دورہ کیا تھا۔۱۹۶۵ میں جن چوٹیوں پر قبضہ کیا گیا تھا، انہیں بعد میں تاشقند معاہدے کے تحت پاکستان کے حوالے کر دیا گیا تھا۔
جمعرات کو اس مقام پر جشن کا ماحول تھا اور اطراف کے علاقوں سے لوگ لیفٹیننٹ گورنر کا استقبال کرنے کے لیے جمع ہوئے۔ یہ تقریب وزارتِ دفاع کے جنوری۲۰۲۵کے اُس فیصلے کے بعد منعقد ہوئی، جس کے تحت اس علاقے کو بھارت کے نمایاں ’’بیٹل فیلڈ ٹورازم‘‘ مقامات میں شامل کیا گیا۔
فوجیوں، سابق فوجیوں اور مقامی باشندوں سے خطاب کرتے ہوئے منوج سنہا نے اس کمپلیکس کو قربانی کی زندہ علامت قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ سرحدوں کی حفاظت کرنے والے فوجیوں اور عام شہریوں کے درمیان ’’جذباتی فاصلے‘‘ کو ختم کرنا ضروری ہے۔
سنہانے کہا، ’’چاہے کوئی نوجوان تمل ناڈو، اتر پردیش یا کیرالہ سے آئے، جب وہ اس سرزمین پر قدم رکھے گا تو اسے ایسی جرأت اور بہادری محسوس ہوگی جو کسی کتاب سے نہیں سیکھی جا سکتی۔‘‘
لیفٹیننٹ گورنر نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اس مقام کو اپنی سیاحتی منزل بنائیں اور کہا کہ ایسی ’’مقدس سرزمین‘‘ کی زیارت شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے ساتھ ساتھ مقامی معیشت کو بھی مضبوط کرے گی۔انہوں نے سرحد پار سے منشیات کی اسمگلنگ کے مسئلے پر بھی اظہارِ خیال کرتے ہوئے فوج کے کردار کو سراہا، جو ایک طرف سرحدوں کی حفاظت کر رہی ہے اور دوسری جانب ’’نشہ مکت‘‘ مہم کی قیادت بھی کر رہی ہے۔
ایل جی نے خبردار کیا، ’’یہ وہ مقام ہے جہاں سے دشمن منشیات کے کاروبار کو فروغ دینے کی کوشش کرتا ہے۔‘‘ انہوں نے اسمگلنگ روکنے کے لیے ہوائی اڈے جیسی سہولیات پر مشتمل نئی چیک پوسٹ تعمیر کرنے پر فوج کا شکریہ ادا کیا۔انہوں نے جموں و کشمیر پولیس کو ہدایت دی کہ وہ منشیات کے خلاف ’’زیرو ٹالرنس‘‘ پالیسی اختیار کرے اور غیر قانونی اشیاء کی آمد روکنے کے لیے ٹرانسپورٹ راستوں کی سخت نگرانی کرے۔
چیک پوسٹ پر ہر شخص کی تلاشی لی جائے گی اور تربیت یافتہ کتوں کی خدمات بھی حاصل کی جائیں گی۔ دوسری جانب ’’شوریہ گاتھا‘‘ میوزیم سے علاقائی سیاحت کو فروغ ملنے کی توقع ہے۔ اس میوزیم میں آزادی کے بعد ٹنگڈار خطے میں لڑی گئی جنگوں سے متعلق نوادرات، ریکارڈ اور داستانیں محفوظ کی گئی ہیں۔ یہ علاقہ بھارت اور پاکستان کے درمیان ہونے والی تینوں جنگوں کا اہم محاذ رہا ہے۔
سیاح ’’ہربخش ویو پوائنٹ‘‘ کا بھی دورہ کر سکیں گے، جس کا نام اُس وقت کے بریگیڈیئر ہربخش سنگھ کے نام پر رکھا گیا ہے، جنہوں نے۱۹۴۷۔۴۸کی جنگ کے دوران ٹنگڈار اور تیتھوال پر قبضے کی قیادت کی تھی۔
یہاں ایک پہاڑی ثقافتی مرکز بھی قائم کیا گیا ہے، جہاں ٹنگڈار کے عوام کی ثقافت اور لوک روایات کو محفوظ رکھا گیا ہے۔
سنہا نے منصوبے کو ریکارڈ وقت میں مکمل کرنے والے انجینئروں اور فوجی افسران کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کی اصل طاقت صرف اس کے ہتھیار نہیں بلکہ اس کے شہریوں کا کردار ہے۔انہوں نے کہا، ’’ہمارے شہداء نے کبھی یہ نہیں پوچھا کہ ملک ان کے لیے کیا کرے گا، بلکہ انہوں نے اپنا فرض ادا کرنے کے لیے اپنا خون بہایا۔‘‘
ایل جی نے مزید کہا کہ یہ کمپلیکس اس بات کو یقینی بنائے گا کہ شہداء کی داستانیں ہر بھارتی کے دل میں زندہ رہیں اور آنے والی نسلوں تک ہمارے بہادر مرد و خواتین کی اقدار منتقل ہوتی رہیں۔










