پیر, جولائی 27, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home اداریہ

شراب پر پابندی کا مطالبہ اور وزیر اعلیٰ کا موقف

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2026-05-13
in اداریہ
A A
آگ سے متاثرین کی امداد
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

 

جموں و کشمیر میں شراب کی فروخت اور اس سے وابستہ سرکاری پالیسی ایک بار پھر زیر بحث ہے۔ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کا یہ کہنا کہ ’حکومت کسی کا ہاتھ پکڑ کر شراب پلانے نہیں لے جاتی‘ بظاہر ایک سادہ اور قانونی نوعیت کا استدلال محسوس ہوتا ہے، لیکن حقیقت میں یہ مسئلے کے بنیادی پہلوؤں سے صرفِ نظر کرنے کے مترادف ہے۔ حکومت واقعی کسی فرد کو شراب پینے پر مجبور نہیں کرتی، مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ شراب کی دکانیں کھولنے، لائسنس جاری کرنے، فروخت بڑھانے اور اس سے کروڑوں روپے کی آمدنی حاصل کرنے والی بھی یہی حکومت ہے۔ جب کسی شے کی سرکاری سطح پر دستیابی کو بڑھایا جائے تو اس کے استعمال میں اضافہ ایک فطری امر بن جاتا ہے۔

جموں و کشمیر ایک مسلم اکثریتی خطہ ہونے کے ساتھ ساتھ صوفیاء، رشیوں اور روحانی روایات کی سرزمین بھی ہے۔ یہاں شراب کو نہ صرف مذہبی اعتبار سے ناپسند کیا جاتا ہے بلکہ سماجی سطح پر بھی اسے اخلاقی بگاڑ اور گھریلو مسائل کی جڑ تصور کیا جاتا ہے۔ اسلام نے شراب کو ’ام الخبائث‘ یعنی تمام برائیوں کی ماں قرار دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جموں و کشمیر میں مختلف مذاہب، علاقوں اور طبقوں سے تعلق رکھنے والے لوگ بارہا شراب کی دکانوں پر پابندی یا کم از کم ان کی تعداد محدود کرنے کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔ تاہم حکومت کی ترجیحات کچھ اور دکھائی دیتی ہیں۔

متعلقہ

جنتر منتر احتجاج اور کشمیری سیاستدان

مہنگائی بڑھتی رہی، حکومت خاموش رہی

اعداد و شمار اس حقیقت کو واضح کرتے ہیں کہ حکومت شراب کے شعبے سے حاصل ہونے والی آمدنی کو آسانی سے چھوڑنے کیلئے تیار نہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق۲۰۲۳۔۲۴ میں جموں و کشمیر میں۴۰لاکھ سے زائد شراب کے کیس تیار ہوئے جن سے۵۴۱کروڑ روپے سے زیادہ کی آمدنی حاصل ہوئی۔۲۰۲۴۔۲۵میں بھی تقریباً اتنی ہی آمدنی ہوئی جبکہ۲۰۲۵۔۲۶میں جنوری تک۴۳۵ کروڑ روپے سے زیادہ کا ریونیو حاصل کیا جا چکا ہے۔ صرف ایک مالی شعبے سے اتنی بڑی آمدنی یقیناً حکومت کیلئے پرکشش ہوگی، مگر سوال یہ ہے کہ کیا محض مالی فائدہ کسی معاشرے کی تہذیبی، اخلاقی اور سماجی اقدار پر فوقیت حاصل کر سکتا ہے؟

حکومت ایک طرف ’نشہ مکت جموں و کشمیر‘ مہم چلاتی ہے، منشیات کے خلاف کارروائیوں کی تشہیر کی جاتی ہے، پوست کی فصلیں تباہ کی جاتی ہیں اور نوجوانوں کو نشے سے بچانے کی اپیلیں کی جاتی ہیں، لیکن دوسری طرف شراب کی دکانوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ بھی کیا جا رہا ہے۔۲۰۲۰۔۲۱ میں شراب کی دکانوں کی تعداد۲۲۳تھی جو بڑھ کر۳۰۵ تک پہنچ گئی۔ اگر حکومت واقعی نشہ سے پاک معاشرہ چاہتی ہے تو پھر شراب کے کاروبار کی سرپرستی کس منطق کے تحت کی جا رہی ہے؟

یہ تضاد عوام کو پریشان کرتا ہے۔ اگر حکومت منشیات کے خلاف سخت موقف اختیار کر سکتی ہے تو شراب کے معاملے میں نرم رویہ کیوں؟ آخر شراب اور دیگر نشہ آور اشیاء میں بنیادی فرق کیا ہے؟ دونوں ہی انسانی صحت، خاندان اور سماج کیلئے نقصان دہ ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ ایک سے حکومت کو بھاری مالی منفعت حاصل ہوتی ہے جبکہ دوسری غیر قانونی ہے۔

شراب کے حامی حلقوں کی جانب سے ایک اہم دلیل یہ دی جاتی ہے کہ کشمیر ایک عالمی سیاحتی مقام ہے اور یہاں شراب پر پابندی لگانے سے سیاحت متاثر ہوگی۔ لیکن یہ دلیل زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتی۔ سیاح کشمیر اس کی وادیوں، جھیلوں، برف پوش پہاڑوں، باغات اور خوشگوار موسم کی وجہ سے آتے ہیں، نہ کہ شراب نوشی کیلئے۔ حکومت بھی جب سیاحت کی تشہیر کرتی ہے تو وہ کہیں یہ نہیں کہتی کہ ’کشمیر آئیے کیونکہ یہاں شراب دستیاب ہے‘ بلکہ ہمیشہ قدرتی حسن، ثقافت اور مہمان نوازی کو ہی نمایاں کیا جاتا ہے۔

ShareTweetSendShareSend
Previous Post

’بھارت کے پاس دو ماہ کا ایندھن ذخیرہ موجود‘

Next Post

جہاں چاہ وہاں راہ !

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

جنتر منتر احتجاج اور کشمیری سیاستدان

2026-07-26
آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

مہنگائی بڑھتی رہی، حکومت خاموش رہی

2026-07-25
آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

ہماری اپنی غلطیاں تباہی کو دعوت دے رہی ہیں

2026-07-23
آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

۲۰۱۴ سے کوئی سبق کیوں نہیں سیکھا گیا؟

2026-07-22
آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

سمارٹ سٹی جو بالکل بھی سمارٹ نہیں ہے

2026-07-21
کشمیر یونیورسٹی کانووکیشن سے نائب صدر کا خطاب
اداریہ

کچرے کے ڈھیر پر کھڑی سیاحت

2026-07-19
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

سرینگر میں آبی ٹرانسپورٹ:

2026-07-18
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

پاکستان کے زیرِ قبضہ جموںکشمیر میں جبر

2026-07-16
Next Post
کانگریسی قیادت ‘ بھاجپا کیلئے اثاثہ

جہاں چاہ وہاں راہ !

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

I agree to the Terms & Conditions and Privacy Policy.

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.