جموں و کشمیر میں شراب کی فروخت اور اس سے وابستہ سرکاری پالیسی ایک بار پھر زیر بحث ہے۔ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کا یہ کہنا کہ ’حکومت کسی کا ہاتھ پکڑ کر شراب پلانے نہیں لے جاتی‘ بظاہر ایک سادہ اور قانونی نوعیت کا استدلال محسوس ہوتا ہے، لیکن حقیقت میں یہ مسئلے کے بنیادی پہلوؤں سے صرفِ نظر کرنے کے مترادف ہے۔ حکومت واقعی کسی فرد کو شراب پینے پر مجبور نہیں کرتی، مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ شراب کی دکانیں کھولنے، لائسنس جاری کرنے، فروخت بڑھانے اور اس سے کروڑوں روپے کی آمدنی حاصل کرنے والی بھی یہی حکومت ہے۔ جب کسی شے کی سرکاری سطح پر دستیابی کو بڑھایا جائے تو اس کے استعمال میں اضافہ ایک فطری امر بن جاتا ہے۔
جموں و کشمیر ایک مسلم اکثریتی خطہ ہونے کے ساتھ ساتھ صوفیاء، رشیوں اور روحانی روایات کی سرزمین بھی ہے۔ یہاں شراب کو نہ صرف مذہبی اعتبار سے ناپسند کیا جاتا ہے بلکہ سماجی سطح پر بھی اسے اخلاقی بگاڑ اور گھریلو مسائل کی جڑ تصور کیا جاتا ہے۔ اسلام نے شراب کو ’ام الخبائث‘ یعنی تمام برائیوں کی ماں قرار دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جموں و کشمیر میں مختلف مذاہب، علاقوں اور طبقوں سے تعلق رکھنے والے لوگ بارہا شراب کی دکانوں پر پابندی یا کم از کم ان کی تعداد محدود کرنے کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔ تاہم حکومت کی ترجیحات کچھ اور دکھائی دیتی ہیں۔
اعداد و شمار اس حقیقت کو واضح کرتے ہیں کہ حکومت شراب کے شعبے سے حاصل ہونے والی آمدنی کو آسانی سے چھوڑنے کیلئے تیار نہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق۲۰۲۳۔۲۴ میں جموں و کشمیر میں۴۰لاکھ سے زائد شراب کے کیس تیار ہوئے جن سے۵۴۱کروڑ روپے سے زیادہ کی آمدنی حاصل ہوئی۔۲۰۲۴۔۲۵میں بھی تقریباً اتنی ہی آمدنی ہوئی جبکہ۲۰۲۵۔۲۶میں جنوری تک۴۳۵ کروڑ روپے سے زیادہ کا ریونیو حاصل کیا جا چکا ہے۔ صرف ایک مالی شعبے سے اتنی بڑی آمدنی یقیناً حکومت کیلئے پرکشش ہوگی، مگر سوال یہ ہے کہ کیا محض مالی فائدہ کسی معاشرے کی تہذیبی، اخلاقی اور سماجی اقدار پر فوقیت حاصل کر سکتا ہے؟
حکومت ایک طرف ’نشہ مکت جموں و کشمیر‘ مہم چلاتی ہے، منشیات کے خلاف کارروائیوں کی تشہیر کی جاتی ہے، پوست کی فصلیں تباہ کی جاتی ہیں اور نوجوانوں کو نشے سے بچانے کی اپیلیں کی جاتی ہیں، لیکن دوسری طرف شراب کی دکانوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ بھی کیا جا رہا ہے۔۲۰۲۰۔۲۱ میں شراب کی دکانوں کی تعداد۲۲۳تھی جو بڑھ کر۳۰۵ تک پہنچ گئی۔ اگر حکومت واقعی نشہ سے پاک معاشرہ چاہتی ہے تو پھر شراب کے کاروبار کی سرپرستی کس منطق کے تحت کی جا رہی ہے؟
یہ تضاد عوام کو پریشان کرتا ہے۔ اگر حکومت منشیات کے خلاف سخت موقف اختیار کر سکتی ہے تو شراب کے معاملے میں نرم رویہ کیوں؟ آخر شراب اور دیگر نشہ آور اشیاء میں بنیادی فرق کیا ہے؟ دونوں ہی انسانی صحت، خاندان اور سماج کیلئے نقصان دہ ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ ایک سے حکومت کو بھاری مالی منفعت حاصل ہوتی ہے جبکہ دوسری غیر قانونی ہے۔
شراب کے حامی حلقوں کی جانب سے ایک اہم دلیل یہ دی جاتی ہے کہ کشمیر ایک عالمی سیاحتی مقام ہے اور یہاں شراب پر پابندی لگانے سے سیاحت متاثر ہوگی۔ لیکن یہ دلیل زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتی۔ سیاح کشمیر اس کی وادیوں، جھیلوں، برف پوش پہاڑوں، باغات اور خوشگوار موسم کی وجہ سے آتے ہیں، نہ کہ شراب نوشی کیلئے۔ حکومت بھی جب سیاحت کی تشہیر کرتی ہے تو وہ کہیں یہ نہیں کہتی کہ ’کشمیر آئیے کیونکہ یہاں شراب دستیاب ہے‘ بلکہ ہمیشہ قدرتی حسن، ثقافت اور مہمان نوازی کو ہی نمایاں کیا جاتا ہے۔





