ہم نے مشرق وسطیٰ بحران کے آغاز پر خام تیل اور ایل پی جی کے ’ضرورت سے زیادہ‘ ذخائر رکھے ہوئے تھے:مرکزی وزیر
’خام ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ نہ کیا گیا تو او ایم سیزکو ایک سہ ماہی میں ایک لاکھ کروڑ روپے تک کا نقصان ہو سکتا ہے‘
نئی دہلی؍۱۲مئی
مرکزی وزیرِ پیٹرولیم‘ہردیپ سنگھ پوری نے منگل کو کہا کہ عالمی توانائی سپلائی میں رکاوٹوں کے باوجود بھارت کے پاس تقریباً دو ماہ کا ایندھن ذخیرہ موجود ہے اور سپلائی کے حوالے سے کوئی تشویش نہیں، تاہم اگر خام تیل کی قیمتیں بلند رہیں اور خوردہ ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ نہ کیا گیا تو سرکاری آئل مارکیٹنگ کمپنیوں(او ایم سیز)کو ایک سہ ماہی میں ایک لاکھ کروڑ روپے تک کا نقصان ہو سکتا ہے۔
پوری نے کہا کہ کسی مرحلے پر یہ جائزہ لینا ہوگا کہ پٹرول، ڈیزل اور ایل پی جی گیس کو لاگت سے کم قیمت پر فروخت کر کے آئل کمپنیاں کب تک نقصان برداشت کر سکتی ہیں، تاہم انہوں نے اس بات پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا کہ آیا مستقبل قریب میں قیمتیں بڑھائی جائیں گی یا نہیں۔
سی آئی آئی کے سالانہ بزنس سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے پوری نے کہا’’ہمیں سپلائی کے حوالے سے کوئی مسئلہ نہیں ہے‘‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ بھارت نے بحران کے آغاز پر خام تیل اور ایل پی جی کے ’ضرورت سے زیادہ‘ ذخائر رکھے ہوئے تھے، جبکہ گھریلو ایل پی جی پیداوار بھی تقریباً۳۶ ہزار ٹن یومیہ سے بڑھا کر۵۴ہزار ٹن یومیہ کر دی گئی ہے۔تاہم وزیر نے اعتراف کیا کہ خوردہ ایندھن کی قیمتیں برقرار رکھنے سے مالی دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔
مرکزی وزیرنے کہا’’میری آئل کمپنیاں روزانہ ایک ہزار کروڑ روپے کا نقصان اٹھا رہی ہیں‘‘۔ ان کے مطابق مجموعی اَنڈر ریکوری تقریباً۱ء۹۸لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ چکی ہے، جبکہ ایک سہ ماہی میں ایک لاکھ کروڑ روپے کا نقصان پورے سال کے منافع کو ختم کر سکتا ہے۔
مغربی ایشیا میں جنگ شروع ہونے کے بعد گزشتہ۱۰ہفتوں سے سرکاری آئل مارکیٹنگ کمپنیاں‘پٹرول، ڈیزل اور ایل پی جی کی بلا تعطل سپلائی یقینی بنا رہی ہیں، جبکہ کئی ممالک نے یا تو راشن بندی کی یا قیمتوں میں بھاری اضافہ کیا۔
اس کے نتیجے میں ان کمپنیوں کی اَنڈر ریکوری ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی ہے، یعنی عالمی قیمت اور مقامی فروخت قیمت کے درمیان فرق۔
پوری نے کہا کہ موجودہ سہ ماہی میں پٹرول، ڈیزل اور ایل پی جی پر مجموعی اَنڈر ریکوری تقریباً۱ء۹۸لاکھ کروڑ روپے ہے، جبکہ حقیقی نقصان تقریباً ایک لاکھ کروڑ روپے بنتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک سہ ماہی کا یہ نقصان آئل کمپنیوں کے پورے سال کے منافع کو ختم کرنے کیلئے کافی ہے۔
قیمتوں میں ممکنہ اضافے کے سوال پر انہوں نے کہا’’آئل کمپنیاں یہ نقصان کب تک برداشت کر سکیں گی… سچ کہوں تو یہ بات مجھے فکر مند کرتی ہے‘‘۔
پوری نے کہا کہ گزشتہ چار برسوں میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا۔انہوں نے کہا، ’’آج دنیا کے کئی ممالک کو سپلائی اور قیمتوں کے مسائل کا سامنا ہے، لیکن بھارت میں قیمتیں اور سپلائی دونوں مستحکم ہیں‘‘۔
خام تیل کی قیمتوں میں۵۰ فیصد اضافے کے باوجود پٹرول کی قیمت۹۴ء۷۷ روپے فی لیٹر اور ڈیزل کی قیمت۸۷ء۶۴ روپے فی لیٹر پر برقرار ہے، جو دو سال پہلے مقرر کی گئی تھیں۔
گھریلو ایل پی جی سلنڈر کی قیمت مارچ میں۶۰ روپے بڑھائی گئی تھی، مگر وہ اب بھی اصل لاگت سے کافی کم ہے۔فی الحال آئل کمپنیاں پٹرول پر۱۴ روپے فی لیٹر، ڈیزل پر۴۲ روپے فی لیٹر اور ایل پی جی پر۶۷۴روپے فی سلنڈر نقصان اٹھا رہی ہیں۔
وزیر نے وزیر اعظم‘نریندرا مودی کی جانب سے ایندھن کی بچت اور درآمدات میں کمی کی اپیل کو’دور اندیش‘ قرار دیا۔انہوں نے کہا’’ایسا نہیں کہ کل لاک ڈاؤن ہونے جا رہا ہے، لیکن اگر مغربی ایشیا کی صورتحال برقرار رہی تو ہمیں مالی دباؤ کم کرنے کیلئے اقدامات پر غور کرنا ہوگا‘‘۔
پوری نے صنعتوں اور گھریلو صارفین پر زور دیا کہ جہاں ممکن ہو ایل پی جی کے بجائے پائپڈ نیچرل گیس استعمال کریں، کیونکہ بھارت تیزی سے گیس پائپ لائن انفراسٹرکچر اور ایل این جی سپلائی میں اضافہ کر رہا ہے۔
مرکزی وزیر نے کہا’’ہمارے پاس پائپ گیس کی کوئی کمی نہیں۔ یہ سستی، صاف اور توانائی منتقلی کیلئے بہتر ہے‘‘۔انہوں نے کہا کہ موجودہ بحران کے بعد حکومت اسٹریٹجک توانائی ذخائر کی پالیسی کا بھی ازسرنو جائزہ لے رہی ہے کیونکہ عالمی سپلائی چین کی کمزوریاں واضح ہو چکی ہیں۔
وزیر کے مطابق بھارت کے پاس اس وقت تقریباً۶۰دن کا خام تیل ذخیرہ‘۶۰ دن کی ایل این جی انوینٹری اور۴۵دن کا ایل پی جی ذخیرہ موجود ہے اور’فکر کی کوئی بات نہیں‘۔انہوں نے کہا کہ بھارت نے بحران کو ’موقع‘ میں تبدیل کیا ہے اور آبنائے ہرمز سے متعلق خدشات کے باوجود ایندھن کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی ہے، جہاں سے دنیا کی تقریباً۲۰فیصد توانائی سپلائی گزرتی ہے۔
پوری نے کہا کہ بھارت دنیا کا تیسرا بڑا تیل صارف، تیسرا بڑا ریفائنر اور ریفائن شدہ مصنوعات کا چوتھا بڑا برآمد کنندہ ہے۔انہوں نے ان افواہوں کو مسترد کیا جن میں قلت، درآمدی رکاوٹوں یا لاک ڈاؤن کے خدشات ظاہر کیے جا رہے تھے۔
مرکزی وزیر نے کہا’’ملک میں کہیں کوئی قلت نہیں۔ ہر پٹرول پمپ پر پٹرول اور ڈیزل دستیاب ہے، جبکہ ایل پی جی سپلائی بھی کافی ہے‘‘۔انہوںنے کہا کہ حکومت نے توانائی بحران کے باوجود گزشتہ چار برس میں ایندھن کی قیمتیں نہیں بڑھائیں، جو بڑے درآمد کنندہ ممالک میں ایک غیر معمولی کامیابی ہے۔
پوری نے کہا’’مجھے ایک ایسا ملک بتائیں جہاں قیمتیں بھی برقرار رہی ہوں اور کہیں قلت بھی نہ ہو‘‘۔انہوں نے بتایا کہ بھارت کی تقریباً۸۸فیصد خام تیل ضرورت درآمدات پر منحصر ہے جبکہ ایل پی جی درآمدات کا۶۰فیصد پہلے آبنائے ہرمز سے آتا تھا۔
پوری نے کہا کہ حکومت اور سرکاری آئل کمپنیاں مسلسل ’وار روم‘جائزے لے رہی ہیں اور صورتحال کی گھنٹہ بہ گھنٹہ نگرانی کی جا رہی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ بحران کے دوران پٹرول کی طلب میں تقریباً۶فیصد اضافہ ہوا، جبکہ ایل پی جی کی طلب موسمی عوامل کی وجہ سے روزانہ۹۰ہزار ٹن سے کم ہو کر تقریباً۷۵ہزار ٹن رہ گئی ہے۔
وزیر کے مطابق بھارت۲۰۳۰تک اپنی ریفائننگ صلاحیت۲۶۰ملین میٹرک ٹن سے بڑھا کر۳۲۰ ملین میٹرک ٹن سالانہ کرنے کا منصوبہ رکھتا ہے تاکہ ملک دنیا کے بڑے ریفائننگ مراکز میں شامل ہو سکے۔










