’یہ ایسی روشنی بنا رہا جس نے بھارت کو نئی منزلوں کی جانب رہنمائی دی‘
سرینگر؍۱۱مئی
لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے ’’سومناتھ سوا بھیمان پرو‘‘ کے موقع پر پوجا ادا کی، جو ایک ہزار برس کے اٹوٹ ایمان اور غیر متزلزل عزم کی یاد میں منایا جا رہا ہے۔ انہوں نے اس مقدس موقع پر لوک بھون میں منعقدہ عوامی تقریب میں بھی شرکت کی۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ بے شمار مظالم اور حملہ آوروں کی یلغار کے باوجود سومناتھ ہمیشہ ایک ایسی روشنی بنا رہا جس نے بھارت کو نئی منزلوں کی جانب رہنمائی دی۔
ایل جی نے کہا’’۱۱ مئی۱۹۵۱کو ازسرنو تعمیر شدہ سومناتھ مندر کی پران پرتِشٹھا سے لے کر آج تک یہ عقیدت کا مرکز ہر بھارتی کے دل میں گہری روحانی بیداری پیدا کرتا رہا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ سومناتھ کی برکتیں ہمیں نئے عزم کے ساتھ آگے بڑھنے کی ترغیب دیتی رہیں گی‘‘۔
سنہا نے کہا کہ سومناتھ مندر نے ہمیشہ ملک بھر میں نئی امکانات کو جنم دیا اور ایک نئے بھارت کی بنیاد رکھی۔انہوں نے کہا،’’سومناتھ بھارت کے عظیم روحانی اور ثقافتی ورثے کا جشن ہے۔ سومناتھ ہماری سرزمین کی الوہیت کا مظہر ہے۔ سومناتھ ایک ابدی دعا ہے۔ سومناتھ ہماری تہذیب سے جدا نہیں اور اس کی پاکیزگی ہر بھارتی کے دل میں زندہ ہے‘‘۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ سومناتھ ہماری ابدی تہذیب کے وجود کا محور ہے اور اس کی طہارت ہر بھارتی کی روح سے جڑی ہوئی ہے۔انہوں نے کہا’’سومناتھ بھارت کی الوہیت ہے۔ سومناتھ عقیدت ہے۔ سومناتھ عبادت ہے۔ سومناتھ ابدی دعا ہے۔ سومناتھ سچ کی جستجو ہے۔ سومناتھ روشن صوفیوں اور سنتوں کی تابناک روشنی ہے۔ سومناتھ ہمارا فخر ہے۔ سومناتھ ہماری طاقت ہے‘‘۔
ایل جی نے کہا کہ دنیا میں شاید ہی کوئی ایسا مندر یا مقدس مقام ہو جسے۱۷مرتبہ لوٹا اور تباہ کیا گیا ہو، مگر وہ ہر بار پوری شان کے ساتھ دوبارہ تعمیر ہوا ہو۔انہوں نے کہا’’سومناتھ مندر اس کی سب سے بڑی مثال ہے۔ محمود غزنوی سے لے کر علاؤالدین خلجی اور ظفر خان تک حملہ آوروں اور حکمرانوں نے بار بار اسے لوٹا اور منہدم کیا۔ لیکن بار بار تباہی کے باوجود سومناتھ ہماری اجتماعی روح میں زندہ رہا اور بعد میں کئی عظیم حکمرانوں نے اسے دوبارہ تعمیر کیا‘‘۔
اس موقع پر انہوں نے ان عظیم شخصیات کو خراج عقیدت پیش کیا جنہوں نے مختلف ادوار میں سومناتھ کی عظمت اور تقدس کو برقرار رکھا اور حملہ آوروں کے خلاف مندر کے دفاع میں ڈٹے رہے۔
ایل جی نے بھیم دیو، جے پال، آنند پال اور مہاراجہ دھرسین کو خراج پیش کیا، جبکہ آزادی کے بعد سومناتھ مندر کی تعمیر نو کا فیصلہ کرنے والے سردار ولبھ بھائی پٹیل کو بھی یاد کیا۔ انہوں نے کہا کہ۱۲نومبر۱۹۴۷کو سردار پٹیل نے مندر کی تعمیر نو کی ہدایت دی تھی، جبکہ۱۱مئی۱۹۵۱کو اُس وقت کے صدرِ ہند ڈاکٹر راجندر پرساد نے اس کی پران پرتِشٹھا انجام دی۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ سومناتھ مندر کی لازوال حیثیت ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ ماضی سے سبق لے کر قوم کی تمام طاقت کو تعمیر و تخلیق کے لیے بروئے کار لایا جائے تاکہ بھارت کا روشن مستقبل تعمیر کیا جا سکے۔
ایل جی نے کہا’’سومناتھ مندر کی تعمیر نو ہر انسان کی اندرونی فتح، ایمان اور عزم کے اُس چراغ کی علامت ہے جو صدیوں سے روشن ہے۔ سومناتھ مندر قوم کے لیے ایک مینارِ نور ہے۔ سومناتھ کے بغیر ہمارا معاشرہ بے روح ہو جائے گا۔‘‘










