کور کمانڈر کانفرنس میںوزیر دفاع کی فوج کو ہر قسم کے سیکورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ہمہ وقت تیار رہنے کی تلقین
اے آئی ‘ خودکار نظام، ڈیٹا اینالیٹکس اور محفوظ مواصلاتی نیٹ ورکس میں صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور
جے پور/نئی دہلی؍۸مئی
وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے کہا ہے کہ ’’آپریشن سندور‘‘ قومی مفادات کے تحفظ کے لیے بھارتی مسلح افواج کے فوری، درست اور مشترکہ ردِعمل کا مظہر ہے۔ انہوں نے فوج کو ہر قسم کے سیکورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ہمہ وقت تیار رہنے کی تلقین بھی کی۔
راج ناتھ سنگھ نے یہ بات جے پور میں جاری مشترکہ فوجی کمانڈروں کی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی، جس میں خطے کی بدلتی ہوئی سیکورٹی صورتحال کے تناظر میں تینوں افواج کی جنگی تیاریوں کا جامع جائزہ لیا گیا۔
سنگھ نے کہا کہ ’’آپریشن سندور‘‘ بھارت کی بڑھتی ہوئی فوجی صلاحیتوں، قومی عزم اور نئے فوجی نظریے کی علامت ہے۔
وزیر دفاع نے تینوں افواج کے کمانڈروں پر زور دیا کہ وہ اس آپریشن اور عالمی سیکورٹی منظرنامے سے سبق حاصل کرتے ہوئے مستقبل کے چیلنجز کے لیے تیار رہیں۔ انہوں نے مصنوعی ذہانت (آرٹیفیشل انٹیلی جنس)، خودکار نظام، ڈیٹا اینالیٹکس اور محفوظ مواصلاتی نیٹ ورکس میں صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ تیزی سے بدلتے جغرافیائی و سیاسی حالات میں تیاری برقرار رکھی جا سکے۔
وزیر دفاع نے کہا کہ مستقبل کی جنگیں ہائبرڈ خطرات، اطلاعاتی غلبے اور سائبر، خلائی، برقی مقناطیسی اور ذہنی میدانوں میں بیک وقت کارروائیوں سے متاثر ہوں گی۔
ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی کے انقلابی اثرات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہر قسم کے تنازعات سے نمٹنے کے لیے قومی سطح پر مربوط تیاری ناگزیر ہے۔
وزیر دفاع کے یہ بیانات ’’آپریشن سندور‘‘ کی پہلی برسی کے ایک دن بعد سامنے آئے ہیں۔
سنگھ نے تینوں افواج کے درمیان باہمی اشتراک، انضمام اور جدید ٹیکنالوجی اپنانے کے میدان میں حاصل پیش رفت کی بھی سراہنا کی۔ راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ مشترکہ صلاحیتیں عالمی دفاعی شعبے میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کا ایک اہم جزو بن چکی ہیں۔
انہوں نے کہا، ’’مستقبل کی جنگیں صرف ہتھیاروں سے نہیں بلکہ جدید سوچ اور بہتر ہم آہنگی سے جیتی جائیں گی۔‘‘
وزیر دفاع نے کمانڈروں پر زور دیا کہ وہ دشمن کے لیے غیر متوقع رہنے اور اسٹریٹجک برتری برقرار رکھنے کے لیے ’’سرپرائز عنصر‘‘ کو فروغ دیں، تاہم ساتھ ہی دشمن کی غیر متوقع حکمت عملیوں سے بھی چوکنا رہنے اور ہمیشہ دو قدم آگے رہنے کی ہدایت دی۔
سنگھ نے وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت والی حکومت کے اس عزم کا بھی اعادہ کیا کہ مسلح افواج کو جدید ترین ہتھیاروں اور پلیٹ فارمز سے لیس کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ مخصوص شعبوں میں تحقیق پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔
کانفرنس کے دوران وزیر دفاع نے ’’آپریشن سندور‘‘ پر مبنی ایک دستاویزی فلم بھی جاری کی۔ اس فلم میں قوم اور مسلح افواج کے آپریشنل تیاری اور فیصلہ کن قومی ردِعمل کی صلاحیتوں کے عزم کو اجاگر کیا گیا ہے۔
سنگھ نے ’’ویژن۲۰۴۷‘‘ کے ہندی ورژن اور ’’جوائنٹ ڈاکٹرین فار انٹیگریٹڈ کمیونیکیشن آرکیٹیکچر‘‘ کا بھی اجرا کیا، جس کا مقصد مستقبل کی کثیر جہتی جنگی کارروائیوں میں مسلح افواج کے درمیان نظریاتی وضاحت، باہمی مطابقت اور مربوط مواصلاتی نظام کو مضبوط بنانا ہے۔
’’نئے میدانوں میں فوجی صلاحیت‘‘ کے موضوع پر منعقدہ اس کانفرنس میں وزارت دفاع اور بھارتی مسلح افواج کی اعلیٰ قیادت نے شرکت کی، جہاں ابھرتے ہوئے سیکورٹی چیلنجز اور مستقبل کی تیاریوں پر غور و خوض کیا گیا۔
کانفرنس میں مستقبل کی جنگوں، کثیر جہتی آپریشنز، تکنیکی تبدیلیوں اور مشترکہ دفاعی صلاحیتوں کی ترقی پر تفصیلی تبادلۂ خیال ہوا۔ اس دوران ذہنی جنگ (کاغنیٹو وارفیئر)، سائبر تحفظ، کوانٹم اور مصنوعی ذہانت پر مبنی خطرات، نئے شعبوں میں فوجی صلاحیتوں کی ترقی، مقامی اختراعات اور اے آئی پر مبنی جنگی تصورات پر بھی وسیع گفتگو کی گئی۔
کانفرنس کے دوران انٹیلی جنس فیوژن، آپریشنل منصوبہ بندی اور اطلاعاتی نظم و نسق کے لیے تیار کردہ جدید نظاموں اور پلیٹ فارمز کے عملی مظاہرے بھی پیش کیے گئے، جو مشترکہ فوجی ڈھانچوں میں جدید ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے انضمام کی عکاسی کرتے ہیں۔
ان مباحث کو بھارت کی مستقبل کی فوجی تبدیلی اور مربوط جنگی تیاریوں کی تشکیل میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔










