امرناتھ یاترا کے دوران ایف آر ایس کی مدد سے تین او جی ڈبلیوز گرفتار
ایجنسیاں
سرینگر؍۸ جولائی
جموں و کشمیر کے ضلع شوپیان میں سکیورٹی فورسز کے انسدادِ دہشت گردی آپریشن کے دوران کالعدم تنظیم لشکرِ طیبہ (ایل ای ٹی) کے ایک مبینہ کمانڈر کو ہلاک کر دیا گیا، جبکہ اننت ناگ میں جاری امرناتھ یاترا کے دوران فیشل ریکگنیشن سسٹم (ایف آر ایس) کی مدد سے تین مبینہ اوور گراؤنڈ ورکرز (او جی ڈبلیوز) کو گرفتار کیا گیا ہے۔
جموں و کشمیر پولیس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا ’’آپ بھاگ سکتے ہیں، مگر چھپ نہیں سکتے۔ شوپیان میں اسپیشل آپریشن گروپ (ایس او جی) نے فوج کی راشٹریہ رائفلز (آر آر) اور سی آر پی ایف کے ساتھ مشترکہ کارروائی میں لشکرِ طیبہ کے ایک دہشت گرد کو ہلاک کر دیا‘‘۔
ایک سینئر پولیس افسر نے ہلاک ہونے والے دہشت گرد کی شناخت ضلع کولگام کے موٹل ہامہ علاقے کے۲۶ سالہ ذاکر احمد گنائی کے طور پر کی، جسے پولیس نے لشکرِ طیبہ کا خود ساختہ کمانڈر قرار دیا ہے۔
حکام کے مطابق ذاکر ۲۷ ستمبر۲۰۲۳ کو شٹرنگ کا کام کرنے کے لیے دیالگام جانے کی غرض سے گھر سے نکلا تھا، لیکن واپس نہیں آیا۔ اہل خانہ کی تلاش ناکام ہونے کے بعد۳؍ اکتوبر۲۰۲۳ کو کولگام پولیس اسٹیشن میں اس کی گمشدگی کی رپورٹ درج کرائی گئی تھی۔
بعد ازاں وہ مبینہ طور پر لشکرِ طیبہ کی ذیلی تنظیم دی ریزسٹنس فرنٹ (ٹی آر ایف) میں شامل ہو گیا۔ پولیس کے مطابق اس کے خلاف غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون (یو اے پی اے) کی مختلف دفعات کے تحت کولگام پولیس اسٹیشن میں مقدمہ بھی درج ہے۔
حکام نے بتایا کہ سکیورٹی فورسز نے۳ جولائی کو شوپیان کے میمنڈر علاقے کے ایک گھنے باغ میں نگرانی کے کیمروں کے ذریعے دو عسکریت پسندوں کی موجودگی کا سراغ لگایا تھا۔ اس کے بعد پولیس، فوج اور سی آر پی ایف کی مشترکہ ٹیم نے علاقے کا محاصرہ کر لیا، جو گزشتہ پانچ روز سے برقرار تھا۔ اس دوران وقفے وقفے سے دونوں جانب فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوتا رہا۔
فوج کی خصوصی انسدادِ شورش یونٹ وکٹر فورس نے باغات کے گھنے درختوں کے درمیان ممکنہ فرار کے تمام راستے بند کرنے کے لیے اضافی نفری تعینات کی اور علاقے کو روشنیوں سے منور کیا۔
حکام کے مطابق موسمِ گرما میں درختوں کی گھنی شاخیں دہشت گردوں کو قدرتی آڑ فراہم کرتی ہیں، جس سے نگرانی کا عمل دشوار ہو جاتا ہے اور محاصرے کو توڑنے کی کوششوں کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ذاکر احمد کے علاوہ ایک اور محصور دہشت گرد‘ لطیف بھی علاقے میں موجود ہونے کا شبہ ہے، جو گزشتہ سال اس تنظیم میں شامل ہوا تھا۔ آپریشن جاری ہے۔
ادھر ضلع اننت ناگ میں جاری شری امرناتھ یاترا کے دوران نصب فیشل ریکگنیشن سسٹم (ایف آر ایس) کی مدد سے تین مبینہ اوور گراؤنڈ ورکرز (او جی ڈبلیوز) کو گرفتار کیا گیا ہے۔
پولیس کے ترجمان نے بتایا کہ اننت ناگ پولیس کی جانب سے نصب ایف آر ایس نے سربل علاقے سے گزرنے والے تین مشتبہ افراد کے بارے میں بروقت الرٹ جاری کیا، جس سے یاترا کے لیے نصب جدید نگرانی نظام کی مؤثریت ایک بار پھر ثابت ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ الرٹ موصول ہوتے ہی پولیس اہلکاروں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ان افراد کو روک کر ان کی شناخت کی تصدیق کی، جس کے دوران تینوں کی شناخت مبینہ اوور گراؤنڈ ورکرز کے طور پر ہوئی۔
ترجمان کے مطابق ایف آر ایس سے حاصل ہونے والی انٹیلی جنس معلومات اور بعد ازاں کی گئی تصدیق کی بنیاد پر تینوں افراد کو مزید قانونی کارروائی کے لیے حراست میں لے لیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ اس کامیاب کارروائی سے ثابت ہوتا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی پر مبنی پولیسنگ، سکیورٹی نظام کو مزید مضبوط بنانے اور امرناتھ یاترا کو محفوظ، پُرامن اور بلا رکاوٹ بنانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ (ایجنسیاں)










