۱۱۵کروڑ روپے کے تعلیمی منصوبوں کا افتتاح‘۲۱۰۹ ترقیاتی کاموں کا آغاز‘۶۷ طلبہ اور قومی اعزاز یافتہ اساتذہ کی حوصلہ افزائی
(ڈی آئی پی آر)
سری نگر؍۸ جولائی
جموں و کشمیر کے تعلیمی شعبے میں ایک اہم پیش رفت کے تحت وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے آج محکمہ اسکولی تعلیم میں۱۱۷ نو منتخب لیکچررز کو تقرری نامے فراہم کیے۔ کئی برسوں کے بعد محکمہ تعلیم میں اسکول لیکچررز کی یہ پہلی تقرریاں عمل میں لائی گئی ہیں۔
وزیر اعلیٰ نے بجٹ۲۰۲۶ میں کیے گئے اپنے وعدے کو پورا کرتے ہوئے انتودیہ اَنّ یوجنا(اے اے وائی) سے وابستہ خاندانوں کے اسکول اور کالجوں میں زیر تعلیم طلبہ کی ٹیوشن فیس مکمل طور پر معاف کرنے کا بھی اعلان کیا۔ اس فیصلے کا مقصد مستحق طلبہ کے لیے تعلیم کو مزید آسان اور قابلِ رسائی بنانا ہے۔
یہ اعلانات وزیر اعلیٰ نے’ایجوکیشن کانکلیو 2026: بنیاد سے بلندی تک‘کے موقع پر کیے، جس کا انعقاد سمگرا شکشا اور محکمہ اسکولی و اعلیٰ تعلیم نے مشترکہ طور پر کیا تھا۔
تقریب کے دوران وزیر اعلیٰ نے تعلیمی شعبے میں۱۱۵ کروڑ روپے سے زائد لاگت کے۲۱۰۹ ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح کیا۔ انہوں نے گورنمنٹ کالج آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی جموں میں ورچوئل کلاسز کے لیے جدید اسٹوڈیو اور ایک ہائی ٹیک آڈیٹوریم کا بھی افتتاح کیا۔
اس موقع پر وزیر اعلیٰ نے تعلیمی میدان میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے۶۷؍اسکولی اور کالج طلبہ کو اعزازات سے نوازا، جبکہ قومی سطح پر اعزاز یافتہ اساتذہ کی خدمات کو بھی سراہا گیا۔
اس سے قبل وزیر اعلیٰ نے طلبہ کی اختراعات، تعلیمی اداروں میں اصلاحات اور جدید ٹیکنالوجی پر مبنی اقدامات کی عکاسی کرنے والے نمائشی اسٹالوں کا معائنہ کیا۔
عمرعبداللہ نے طلبہ کی تخلیقی صلاحیتوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ان کی اختراعات، جن میں پیٹنٹس اور اسٹارٹ اپس بھی شامل ہیں، اس بات کا ثبوت ہیں کہ معیاری تعلیم اور جدید ٹیکنالوجی روزمرہ کے مسائل کا مؤثر حل پیش کر سکتی ہے اور عوام کی زندگی میں مثبت تبدیلی لا سکتی ہے۔
وزیر اعلیٰ نے وزیر تعلیم سکینہ ایتو کی جانب سے تعلیمی شعبے میں اصلاحات اور بجٹ سے متعلق اقدامات کو سراہتے ہوئے یقین دلایا کہ حکومت تعلیمی بنیادی ڈھانچے کی مضبوطی، ادارہ جاتی ترقی، اساتذہ اور ماہرین تعلیم کی خدمات و سہولیات میں بہتری اور معیاری تعلیم تک مساوی رسائی کے لیے سرمایہ کاری کا سلسلہ جاری رکھے گی۔
عمرعبداللہ نے اساتذہ کو معاشرے کی ریڑھ کی ہڈی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر، انجینئر، فوجی، پولیس افسر یا کسی بھی شعبے کا ماہر، سب کی بنیاد ایک استاد ہی رکھتا ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ حکومت اسکولوں کی بہتری، اساتذہ کی فلاح اور تعلیمی معیار کو بلند کرنے کے لیے مسلسل کام کرتی رہے گی۔
تقریب میں وزیر تعلیم سکینہ ایتو، وزیر زراعت جاوید احمد ڈار، وزیر اعلیٰ کے مشیر ناصر اسلم وانی، متعدد ارکانِ اسمبلی، ایڈیشنل چیف سیکریٹری برائے وزیر اعلیٰ، کمشنر سیکریٹری محکمہ اسکولی تعلیم، مختلف جامعات کے وائس چانسلرز، ڈائریکٹر کالجز، ڈائریکٹر اسکول ایجوکیشن کشمیر و جموں، محکمہ تعلیم کے سینئر افسران، ماہرین تعلیم اور بڑی تعداد میں طلبہ نے شرکت کی۔
وزیر اعلیٰ نے جموں و کشمیر کے تعلیمی شعبے، بالخصوص طلبہ کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا:’’میں اس کانکلیو سے جموں و کشمیر کے روشن مستقبل کے بارے میں مزید اعتماد کے ساتھ واپس جا رہا ہوں۔‘‘










