ویب ڈیسک
سری نگر؍۳جولائی
وزیر اعلیٰ ‘ عمر عبداللہ نے بدھ کو کہا کہ سول سوسائٹی کے نمائندوں نے ریاستی درجے کی بحالی کے مطالبے کے حق میں۲۰ جولائی کو نئی دہلی کے جنتر منتر پر نیشنل کانفرنس کی جانب سے مجوزہ احتجاج کی بھرپور حمایت کی ہے، جبکہ جموں و کشمیر کی تمام علاقائی سیاسی جماعتوں کو بھی اس احتجاج میں شرکت کی دعوت دی جائے گی۔
سری نگر میں نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے تقریباً۱۷۰ نمائندوں نے ایک اجلاس میں شرکت کی، جو تقریباً تین گھنٹے
تک جاری رہا۔ اجلاس میں مذہبی رہنماؤں، تاجروں، ماہرین تعلیم، ریٹائرڈ بیوروکریٹس اور سیاحت کے شعبے سے وابستہ افراد نے شرکت کی۔
وزیر اعلیٰ نے کہا’’یہ کسی وفد کی ملاقات نہیں بلکہ سول سوسائٹی کا اجلاس تھا۔ تمام شرکاء نے بلااستثنا اس بات پر زور دیا کہ ریاستی درجے کی بحالی میں پہلے ہی بہت زیادہ تاخیر ہو چکی ہے اور اب اس میں مزید تاخیر نہیں ہونی چاہیے‘‘۔
عمرعبداللہ نے بتایا کہ اجلاس میں ایک قرارداد منظور کی گئی، جس میں مرکزی حکومت سے جموں و کشمیر کا ریاستی درجہ بحال کرنے کا مطالبہ کیا گیا، جبکہ شرکاء نے۲۰جولائی کو جنتر منتر پر مجوزہ احتجاج کی بھی حمایت کی۔
عمر عبداللہ نے کہا کہ جموں و کشمیر کی تمام سیاسی جماعتوں کو احتجاج میں شرکت کی دعوت دی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا’’نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ انڈیا اتحاد کے رہنماؤں اور دیگر علاقائی جماعتوں کے قائدین کو بھی مدعو کریں گے۔ ہمیں امید ہے کہ وہ ہمارے ساتھ شامل ہوں گے اور اس احتجاج کی حمایت کریں گے‘‘۔
جموں و کشمیر میں۱۵۴۴ ؍اسکولوں کے صرف ایک استاد کے ذریعے چلائے جانے سے متعلق رپورٹس پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ یہ اعداد و شمار ایک پرانی رپورٹ پر مبنی ہیں، موجودہ صورتحال کی عکاسی نہیں کرتے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اس حوالے سے تازہ اعداد و شمار قانون ساز اسمبلی میں پیش کرے گی۔
وزیر اعلیٰ نے مزید بتایا کہ چناب وادی اور ضلع کٹھوعہ میں شدید بارشوں سے پیدا ہونے والی صورتحال کے بعد مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے انہیں فون کر کے حالات سے متعلق معلومات حاصل کیں۔
عمرعبداللہ نے کہا’’وزیر داخلہ نے فون کر کے صورتحال دریافت کی۔ میں نے انہیں زمینی حالات سے آگاہ کیا، جس پر انہوں نے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔‘‘
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حالیہ شدید بارشوں کے باعث خصوصاً چناب وادی اور کٹھوعہ کے بعض علاقوں میں مشکلات پیش آئیں، جس کے بعد مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے ٹیلی فون پر صورتحال کا جائزہ لیا اور مرکز کی جانب سے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
عمر عبداللہ نے کہا’’موسمی حالات کی وجہ سے ہمیں بعض علاقوں، خاص طور پر چناب وادی اور کٹھوعہ میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ مرکزی وزیر داخلہ نے فون کر کے صورتحال دریافت کی، جس پر میں نے انہیں تمام تفصیلات سے آگاہ کیا۔ انہوں نے یقین دلایا کہ اگر آئندہ مرکزی حکومت کی کسی بھی قسم کی مدد درکار ہوئی تو وہ ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی‘‘۔
ادھر مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے بدھ کو وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے ٹیلی فون پر رابطہ کرکے شدید بارشوں سے پیدا ہونے والی صورتحال کا جائزہ لیا اور اس سے نمٹنے کے لیے مرکز کی جانب سے ہر ممکن امداد فراہم کرنے کا یقین دلایا۔
یہ رابطہ ایسے وقت میں ہوا جب پیر کے روز موسلادھار بارشوں کے نتیجے میں آنے والے اچانک سیلاب نے چناب وادی کے مختلف علاقوں میں بڑے پیمانے پر تباہی مچائی۔ اس کے باعث ضلع ڈوڈہ میں سڑکوں کا رابطہ متاثر ہوا، جبکہ ضلع کشتواڑ میں۵۴۰ میگاواٹ کے کوار پن بجلی منصوبے کے بنیادی ڈھانچے کو بھی نقصان پہنچا۔
ضلع ڈوڈہ میں سیلابی ریلے اور ملبہ آنے کے باعث پریم نگر کے مقام پر قومی شاہراہ۲۴۴ بند کر دی گئی، جس سے ٹریفک مکمل طور پر معطل ہو گئی۔ شاہراہ کے دونوں جانب متعدد گاڑیاں پھنس گئیں، جبکہ متعلقہ حکام نے سڑک بحال کرنے کے لیے فوری کارروائی شروع کر دی۔
قومی شاہراہ بنیادی ڈھانچہ ترقیاتی کارپوریشن لمیٹڈ (این ایچ آئی ڈی سی ایل) کے ہائی وے منیجر سنی پادھا نے ایک مقامی خبر رساں ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پریم نگر میں صورتحال انتہائی سنگین تھی اور سڑک کی بحالی کے لیے فوری اقدامات کیے گئے۔
انہوں نے کہا’’یہ مقام کالکا ماتا مندر کے قریب پریم نگر ہے، جہاں میری گاڑی کھڑی تھی۔ صبح مجھے اطلاع ملی کہ میری گاڑی وہیں موجود ہے۔ جب میں موقع پر پہنچا تو منظر انتہائی خوفناک تھا۔ شدید سیلاب آیا ہوا تھا، جس کی ویڈیو بھی میرے پاس موجود ہے۔ چونکہ میں اس علاقے کا ہائی وے منیجر ہوں، اس لیے میں نے فوری طور پر ایکسکیویٹر اور جے سی بی مشینیں طلب کیں، جس کے بعد ٹریفک بحال کر دی گئی، لیکن صبح کے وقت سیلاب کی شدت بیان سے باہر تھی‘‘۔
شاہراہ کی بندش کے باعث سالانہ مچیل یاترا بھی متاثر ہوئی۔ حکام نے یاتریوں اور مسافروں کو مشورہ دیا ہے کہ جب تک راستے کو محفوظ قرار نہیں دیا جاتا، اس شاہراہ پر سفر کرنے سے گریز کریں۔
ویب ڈیسک
سری نگر؍۳جولائی
وزیر اعلیٰ ‘ عمر عبداللہ نے بدھ کو کہا کہ سول سوسائٹی کے نمائندوں نے ریاستی درجے کی بحالی کے مطالبے کے حق میں۲۰ جولائی کو نئی دہلی کے جنتر منتر پر نیشنل کانفرنس کی جانب سے مجوزہ احتجاج کی بھرپور حمایت کی ہے، جبکہ جموں و کشمیر کی تمام علاقائی سیاسی جماعتوں کو بھی اس احتجاج میں شرکت کی دعوت دی جائے گی۔
سری نگر میں نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے تقریباً۱۷۰ نمائندوں نے ایک اجلاس میں شرکت کی، جو تقریباً تین گھنٹے
تک جاری رہا۔ اجلاس میں مذہبی رہنماؤں، تاجروں، ماہرین تعلیم، ریٹائرڈ بیوروکریٹس اور سیاحت کے شعبے سے وابستہ افراد نے شرکت کی۔
وزیر اعلیٰ نے کہا’’یہ کسی وفد کی ملاقات نہیں بلکہ سول سوسائٹی کا اجلاس تھا۔ تمام شرکاء نے بلااستثنا اس بات پر زور دیا کہ ریاستی درجے کی بحالی میں پہلے ہی بہت زیادہ تاخیر ہو چکی ہے اور اب اس میں مزید تاخیر نہیں ہونی چاہیے‘‘۔
عمرعبداللہ نے بتایا کہ اجلاس میں ایک قرارداد منظور کی گئی، جس میں مرکزی حکومت سے جموں و کشمیر کا ریاستی درجہ بحال کرنے کا مطالبہ کیا گیا، جبکہ شرکاء نے۲۰جولائی کو جنتر منتر پر مجوزہ احتجاج کی بھی حمایت کی۔
عمر عبداللہ نے کہا کہ جموں و کشمیر کی تمام سیاسی جماعتوں کو احتجاج میں شرکت کی دعوت دی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا’’نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ انڈیا اتحاد کے رہنماؤں اور دیگر علاقائی جماعتوں کے قائدین کو بھی مدعو کریں گے۔ ہمیں امید ہے کہ وہ ہمارے ساتھ شامل ہوں گے اور اس احتجاج کی حمایت کریں گے‘‘۔
جموں و کشمیر میں۱۵۴۴ ؍اسکولوں کے صرف ایک استاد کے ذریعے چلائے جانے سے متعلق رپورٹس پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ یہ اعداد و شمار ایک پرانی رپورٹ پر مبنی ہیں، موجودہ صورتحال کی عکاسی نہیں کرتے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اس حوالے سے تازہ اعداد و شمار قانون ساز اسمبلی میں پیش کرے گی۔
وزیر اعلیٰ نے مزید بتایا کہ چناب وادی اور ضلع کٹھوعہ میں شدید بارشوں سے پیدا ہونے والی صورتحال کے بعد مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے انہیں فون کر کے حالات سے متعلق معلومات حاصل کیں۔
عمرعبداللہ نے کہا’’وزیر داخلہ نے فون کر کے صورتحال دریافت کی۔ میں نے انہیں زمینی حالات سے آگاہ کیا، جس پر انہوں نے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔‘‘
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حالیہ شدید بارشوں کے باعث خصوصاً چناب وادی اور کٹھوعہ کے بعض علاقوں میں مشکلات پیش آئیں، جس کے بعد مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے ٹیلی فون پر صورتحال کا جائزہ لیا اور مرکز کی جانب سے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
عمر عبداللہ نے کہا’’موسمی حالات کی وجہ سے ہمیں بعض علاقوں، خاص طور پر چناب وادی اور کٹھوعہ میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ مرکزی وزیر داخلہ نے فون کر کے صورتحال دریافت کی، جس پر میں نے انہیں تمام تفصیلات سے آگاہ کیا۔ انہوں نے یقین دلایا کہ اگر آئندہ مرکزی حکومت کی کسی بھی قسم کی مدد درکار ہوئی تو وہ ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی‘‘۔
ادھر مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے بدھ کو وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے ٹیلی فون پر رابطہ کرکے شدید بارشوں سے پیدا ہونے والی صورتحال کا جائزہ لیا اور اس سے نمٹنے کے لیے مرکز کی جانب سے ہر ممکن امداد فراہم کرنے کا یقین دلایا۔
یہ رابطہ ایسے وقت میں ہوا جب پیر کے روز موسلادھار بارشوں کے نتیجے میں آنے والے اچانک سیلاب نے چناب وادی کے مختلف علاقوں میں بڑے پیمانے پر تباہی مچائی۔ اس کے باعث ضلع ڈوڈہ میں سڑکوں کا رابطہ متاثر ہوا، جبکہ ضلع کشتواڑ میں۵۴۰ میگاواٹ کے کوار پن بجلی منصوبے کے بنیادی ڈھانچے کو بھی نقصان پہنچا۔
ضلع ڈوڈہ میں سیلابی ریلے اور ملبہ آنے کے باعث پریم نگر کے مقام پر قومی شاہراہ۲۴۴ بند کر دی گئی، جس سے ٹریفک مکمل طور پر معطل ہو گئی۔ شاہراہ کے دونوں جانب متعدد گاڑیاں پھنس گئیں، جبکہ متعلقہ حکام نے سڑک بحال کرنے کے لیے فوری کارروائی شروع کر دی۔
قومی شاہراہ بنیادی ڈھانچہ ترقیاتی کارپوریشن لمیٹڈ (این ایچ آئی ڈی سی ایل) کے ہائی وے منیجر سنی پادھا نے ایک مقامی خبر رساں ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پریم نگر میں صورتحال انتہائی سنگین تھی اور سڑک کی بحالی کے لیے فوری اقدامات کیے گئے۔
انہوں نے کہا’’یہ مقام کالکا ماتا مندر کے قریب پریم نگر ہے، جہاں میری گاڑی کھڑی تھی۔ صبح مجھے اطلاع ملی کہ میری گاڑی وہیں موجود ہے۔ جب میں موقع پر پہنچا تو منظر انتہائی خوفناک تھا۔ شدید سیلاب آیا ہوا تھا، جس کی ویڈیو بھی میرے پاس موجود ہے۔ چونکہ میں اس علاقے کا ہائی وے منیجر ہوں، اس لیے میں نے فوری طور پر ایکسکیویٹر اور جے سی بی مشینیں طلب کیں، جس کے بعد ٹریفک بحال کر دی گئی، لیکن صبح کے وقت سیلاب کی شدت بیان سے باہر تھی‘‘۔
شاہراہ کی بندش کے باعث سالانہ مچیل یاترا بھی متاثر ہوئی۔ حکام نے یاتریوں اور مسافروں کو مشورہ دیا ہے کہ جب تک راستے کو محفوظ قرار نہیں دیا جاتا، اس شاہراہ پر سفر کرنے سے گریز کریں۔










